کورونا وائرس‘چمگادڑ کے سوپ کے باعث پھیلنے کا خدشہ

چینی شہر ووہان سے پھیلنے والےجان لیوا ’کورونا وائرس‘ کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ یہ وائرس چمگادڑ کے سوپ اور زندہ چوہے کھانے سے پھیلا۔
تفصیلات کے مطابق ووہان سے ایسی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا گیا کہ چینی شہری چمگادڑ کا سوپ اور زندہ چوہوں کا کھانا کھا رہے ہیں۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد ماہرین کا کہنا ہےکہ ووہان کی مارکیٹ سے ملنے والی چمگادڑ کی ایک قسم’فروٹ بیٹ‘، کورونا وائرس کے پھیلنے کا سبب بنی جو اب ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہورہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے جو افراد اس شکایت کےساتھ اسپتال پہنچے تھے ان کا تعلق مقامی ہول سیل مچھلی مارکیٹ سے تھا جہاں مرغیاں، گدھے، بھیڑیں، خنزیر، اونٹ، لومڑیاں، بیڈ جر، چوہے، کانٹوں والا چوہا، بلیوں کی ایک قسم civet، بھیڑیے اور دیگر رینگنے والے جانور دستیاب ہوتے ہیں۔ ووہان میں موجود اس مارکیٹ کو گزشتہ سال دسمبر میں بند کر دیا گیا تھا جسے اب سیل کرکے سکیورٹی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب غذائی ماہرین بھی اس بات کی تحقیق کررہے ہیں کہ چوہے اور سانپ کھانا اس وائرس کی وجہ ہوسکتا ہے کیوں کہ یہ بھی ووہان کی ان مارکیٹس میں باآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔
212891 7400164 updatesماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس جنگلی چمگادڑوں سے سانپوں میں منتقل ہوا ہوگا جنہیں جنگلوں سے شکار کرکے لانے کے بعد ان کو مارکیٹس میں فروخت کیا جاتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق اس بات کا پتا لگایا جارہا ہے کہ کیسے گرم خون کے جانوروں میں سے یہ وائرس ٹھنڈے خون کے جانوروں میں منتقل ہوا اور اس کورونا وائرس جیسی بیماری کا سبب بنا۔ طبی ماہرین کی جانب سے 3 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو اس وائرس سے بچاؤ اور اسے مزید بڑھنے سے روکنے کےلیے ویکسین کی تیاری میں مشغول ہیں۔
کولیشن آف ایپی ڈیمک پری پیرڈنیس انوویشن (سی ای پی آئی) جو ایمر جنسی پروگرامز میں مدد بھی فراہم کرتی ہے ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ جون ہی سے وائرس کےلیے ویکسین تیار کرنے کا سوچا گیا تھا جس کا انسانوں پر ٹیسٹ کرنے کا بھی سوچا گیا تھا۔ سی ای پی آئی نے بتایا کہ اب اس وائرس پر ’یو ایس نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشن ڈیزیز‘ کے ساتھ مل کر تحقیق کی جائے گی اور ویکسین بھی تیار کی جائے گی۔
واضح رہے کہ چین میں پُراسرار ’کورونا‘ وائرس سے اب تک 500 سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جس میں سے 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button