کورونا وائرس: پاکستان بھی معاشی سست روی کے شکار ممالک میں شامل

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) نے پاکستان ان 20 ممالک میں شامل کیا ہے جو چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سست روی سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان میں متاثرہ ویلیو چین ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی ہے جس میں چین کےلیے برآمدات میں 2 فیصد (4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر) کمی آئی ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ ممالک اور خطے یہ ہیں: یوروپی یونین کے بعد ریاست ہائے متحدہ، تائیوان، برطانیہ، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ویتنام، میکسیکو، سوئٹزرلینڈ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ۔
یو این سی ٹی اے ڈی کے تخمینوں کے مطابق کورونا وائرس یا کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے چین میں مینوفیکچرنگ کی سست روی عالمی تجارت میں خلل ڈال رہی ہے اور اس کا نتیجہ عالمی ویلیو چینز میں برآمدات میں 50 ارب ارب ڈالر کی کمی ہوسکتی ہے۔
فروری میں ملک کا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجر انڈیکس (پی ایم آئی)، جو ایک اہم پروڈکشن انڈیکس ہے، تقریبا 22 پوائنٹس کی کمی سے 37.5 پر آگیا، جو 2004 کے بعد سب سے کم سطح ہے، پیداوار میں اس طرح کی کمی سے سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 2 فیصد کمی کا ظاہر ہوتی ہے۔
چونکہ چین متعدد عالمی کاروباری کاموں کا مرکزی مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے اس لیے چینی پیداوار میں کمی کسی بھی ملک کےلیے اس لیے اہم ہے اس کی صنعتوں کا چینی سپلائرز پر کتنا انحصار ہے۔
یو این سی ٹی اے ڈی کے تخمینے کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں صحت سے متعلق آلات، مشینری، آٹوموٹِو اور مواصلات کا سامان شامل ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ معیشتوں میں یورپی یونین (15 ارب 60 ڈالر)، امریکا (5 ارب 80 کروڑ ڈالر)، جاپان (5 ارب 20 کروڑ ڈالر)، جنوبی کوریا (3 ارب 80 کروڑ ڈالر)، تائیوان (2 ارب 60 کروڑ ڈالر) اور ویتنام (2 ارب 30 کروڑ ڈالر) شامل ہیں۔
یو این سی ٹی اے ڈی کا کہنا ہے کہ جہاں کورونا وائرس سے چین کی پیداواری صلاحیت پر پائے جانے والے اثرات کے بارے میں ابھی تک غیر یقینی صورت حال موجود ہے وہیں حالیہ اعداد و شمار ایک اہم مندی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
عالمی سطح پر ویلیو چینز پر کورونا وائرس کا پورا اثر آنے والے مہینوں میں واضح ہوجائے گا، تاہم اہم سوال یہ ہے کہ چین کی سپلائی میں رکاوٹ کا اثر باقی دنیا پر کیا ہوگا۔
یہاں تک کہ اگر کورونا وائرسکی وبا زیادہ تر چین کے اندر موجود ہے تو چین کے سپلائرز دنیا بھر کی بہت سی کمپنیوں کےلیے اہم ہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں کسی بھی رکاوٹ کو چین کی حدود سے باہر بھی محسوس کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کی پیش گوئی کے مطابق، یورپی، امریکی اور مشرقی ایشیائی خطے کی ویلیو چین اس سے متاثر ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button