انڈر 21 گیمز کا آغاز، وزیراعظم نے افتتاح کردیا

پشاور میں انڈر 21 گیمز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کھیلوں کے مقابلے سے نوجوانوں کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے گا، کھیلوں سے انسان صحت مند رہتا ہے اور کھیل آپ کو اپنی زندگی میں مقابلہ کرنا سکھاتے ہیں لہٰذا چیمپئن وہ ہوتا ہے جو ہارنے سے ڈرنے کی بجائے سیکھتا ہے۔
پشاور کے قیوم اسٹیڈیم اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو انڈر 21 گیمز منعقد کرنے پر مبارک دیتا ہوں اور یہاں آنے والے تمام کھلاڑیوں سے امید رکھتا ہوں کہ آپ بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ان کھیلوں سے پاکستان کا ٹیلنٹ اوپر آئے گا’۔
انہوں نے نوجوانوں کو کھیلوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ‘کھیل سے پہلا فائدہ انسان کو جسمانی ہوتا ہے، جو انسان اپنے جسم کو اللہ کی نعمت سمجھتا ہے وہ ہمیشہ اس کا دھیان رکھتا ہے’۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کھیلوں میں جب مقابلے کرتے ہیں تو اپنی صحت کو فائدہ پہنچاتے ہیں، کھیلوں کے مقابلے کو یونین کونسل سے لے کر دیہی سطح تک وسعت دینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی مقابلے کا نام ہے، پڑھائی میں، کاروبار میں، سیاست میں ہر جگہ مقابلہ ہے اور کھیل آپ کو مقابلہ کرنا سکھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘مقابلے کا اصول یہ ہے کہ چیمپیئن وہ ہوتا ہے جو ہارنے سے ڈرتا نہیں ہارنے سے سیکھتا ہے، انسان تب ہارتا ہے جب وہ ہار مان جاتا ہے مگر چیمپئن کو ہار ہرا نہیں سکتی’۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کوئی بھی دنیا میں آج تک چیمپئن نہیں بنا جو ہار سے گھبرائے نہیں اور اس سے سیکھے نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر میں اسپورٹس نہ کھیلتا تو 22 سال تک سیاست میں مقابلہ نہ کرتا بہت پہلے ہی ہار مان چکا ہوتا اور اگر میں نے اسپورٹس سے مشکل وقت کا مقابلہ کرنا نہ سیکھتا تو حکومت میں آنے کے بعد جو چیلنجز ملے میں چھوڑ کر گھر چلا جاتا’۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کا مقابلہ اونچ نیچ کا نام ہے، جو اوپر وہی پہنچتا ہے جو برے وقت سے گھبراتا نہیں گر کے انسان جب کھڑا ہوتا ہے تو پہلے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘قوم جب مشکل وقت کا مقابلہ کرتی ہے تو وہ اور مضبوط بن کر کھڑی ہوجاتی ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘کاروباری شخص نقصان کی وجہ سے کاروبار میں تباہ نہیں ہوتا بالکہ شارٹ کٹ لینے، کرپشن کرنے سے تباہ ہوتا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی قوم نے انشا اللہ دنیا کی عظیم ترین قوم بننا ہے اور آپ لوگوں نے ہی عظیم ترین قوم بنانا ہے’۔
مہنگی بجلی پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں جس قیمت پر بجلی بن رہی ہے وہ بہت مہنگی ہے ہم اس قیمت پر بجلی نہیں بیچ سکتے، ہماری حکومت آئی تو تاریخی گردشی قرضے تھے، اس لیے مجبوراً قیمتیں بڑھانی پڑیں، ہم قیمت بڑھاتے ہیں تو لوگوں پر بوجھ پڑتا ہے، اس لیے ہم نے نچلے طبقے کے لیے قیمت نہیں بڑھائی بلکہ پیسے والوں پر بوجھ ڈالا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button