کورونا کیسز میں اضافہ : سندھ میں 21 ستمبر سے مزید تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ موخر

صوبہ سندھ میں حکومت نے 21 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کےلیے اسکول کھولنے کا فیصلہ ایک ہفتے کےلیے موخر کر دیا ہے۔
پاکستان میں کورونا کی وبا کی وجہ سے ساڑھے چھ ماہ کی مدت تک بند رہنے کے بعد تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں میٹرک، کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ کو طلب کیا گیا تھا جب کہ دوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ و طالبات نے اسکول آنا تھا۔ سندھ میں اسکول کھولنے میں تاخیر کرنے کا اعلان صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ حکومت بچوں کے صحت کے معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ سندھ حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے دن کیا گیا ہے جب پاکستان میں کورونا کے نئے مریضوں کی تعداد پانچ ہفتے میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ جمعے کو جاری کیے جانے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ایک دن میں کورونا وائرس کے 752 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں کورونا کے 6295 مریض موجود ہیں جب کہ 6408 افراد اب تک اس وائرس سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت نے تعلیمی ادارے کھولتے وقت یہ اعلان کیا تھا کہ ایسے ادارے بند کردیے جائیں گے جہاں یا تو کورونا کا کوئی مریض سامنے آیا یا وہ مقررہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے پائے گئے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کی نگرانی کرنے والے مرکزی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملک بھر میں مروجہ ضابطہ کار پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اب تک کم ازکم 22 تعلیمی اداروں کو بند کیا جا چکا ہے۔
این سی او سی کے جاری کردہ بیان کے مطابق 16 تعلیمی ادارے خیبر پختونخوا، پانچ ادارے آزاد کشمیر اور ایک اسلام آباد میں بند کیا گیا۔ دوسری جانب سندھ میں بھی دو کالجز کے عملے کے اراکین کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کالجز کو بند کر دیا گیا۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا کہ سندھ کے ضلع مٹیاری میں دو کالجوں کے عملے کے آٹھ اراکین کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد ان کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور ٹویٹ میں سعید غنی نے بتایا کہ حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کی وجہ سے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بھی پانچ اسکولوں کو بند کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد میں طلبہ اور عملے کے اراکین میں کورونا وائرس کے 16 کیسز کی تشخیص کے بعد ایک میڈیکل کالج کو بند کر دیا گیا تھا۔
وفاقی حکومت نے 15 ستمبر سے اسکولوں (صرف نویں اور دسویں جماعت)، کالجز اور جامعات کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کی اجازت دی تھی جس کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔
سعید غنی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ نے کرم کیا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال اس خرابی تک نہیں پہنچی جس کا خطرہ تھا، یہی نہیں بلکہ ہمارے ملک میں صورتحال میں بہتری آئی اور کیسز اور اموات میں کمی آئی۔’ سعید غنی کے مطابق اسکول کھولنے کے سلسلے میں سب کو تشویش تھی اور جب اسکول کھولنے سے متعلق فیصلہ ہو رہا تھا تو تب بھی انہوں نے کہا تھا کہ یہ سب سے مشکل فیصلہ ہے۔
وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ ملک میں حالات کی بہتری کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 15 ستمبر سے بڑی کلاسز کھلیں گی جس کے بعد 21 سے چھٹی سے آٹھویں اور 28 ستمبر سے پرائمری اور پری پرائمری کے بچوں کےلیے اسکولز کھل جائیں گے۔ سعید غنی کا کہنا ہے کہ اس پلان کا مقصد یہ تھا کہ اسکولز میں بچوں کی تعداد کم رہے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کا تجربہ ہوسکے کہ کس حد تک ان پر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کچھ نجی تعلیمی اداروں میں ناقص انتظامات کے بارے میں بھی بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ نجی اسکولز جنہیں ہم نے بند کیا وہاں چھوٹی کلاسز کے بچوں کو بھی بلایا گیا تھا جب کہ وہاں کوئی ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا تھا سب بچوں کو ایک ساتھ ہی بٹھایا گیا تھا۔ ان کے مطابق کچھ سرکاری اسکولوں میں بھی کہیں کہیں کوتاہی دیکھنے کو ملی۔ سعید غنی کے مطابق ہم دوسرے مرحلے میں اسکولز کھولنے کا فیصلہ 28 ستمبر تک مؤخر کر رہے ہیں لیکن اگر صورت حال بہتر نہ ہوئی تو ہم 28 سے پہلے بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں گے۔
فروری سے شروع ہونے والی وبا کے آغاز کے ساتویں مہینے میں پاکستان میں کل متاثرین کی تعداد اب تک تین لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 6399 ہے۔ گزشتہ روز پاکستان نے اب تک ایک روز میں سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے جن کی تعداد 31808 تھی اور ان کے نتیجے پاکستان میں اگست کے شروع سے لے کر اب تک ایک روز بھی ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص نہیں ہوئی ہے اور بالخصوص 20 اگست کے بعد سے اب تک صرف ایک بار یومیہ متاثرین کی تعداد 600 سے زیادہ ہوئی ہے۔ اسی طرح اموات کی تعداد میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی ہے اور نہ صرف 23 جولائی کے بعد سے 50 سے زیادہ اموات ریکارڈ نہیں کی گئیں، بلکہ دو ستمبر کے بعد سے اب تک ایک روز بھی یومیہ اموات دس سے زیادہ نہیں ہوئی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اب جب تقریباً تمام پابندیاں ہٹ چکی ہیں اور تعلیمی ادارے بھی کھل گئے ہیں، عوام کو ایس او پیز پر بے حد توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ورنہ خدشہ ہے کہ یہ تعداد ایک بار پھر بڑھ جائے۔
