کپتان ملنے والے اپنےتحائف کی تفصیل کیوں چھپا رہے ہیں؟

دوسروں کو نصیحت خود میاں فصیحت کے مصداق وزیرا عظم عمران خان نے غیر ملکی حکمرانوں سے ملنے والے قیمتی تحائف کی تفصیل دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ بھونڈا موقف اختیار کیا ہے کہ ایسا کرنے سے ملکی وقار مجروح ہو سکتا ہے تاہم یہ مضحکہ خیز مؤقف اپنانے والے وزیراعظم عمران خان بھول گئے کہ ماضی میں انہی تحائف کی بنیاد پر اور انہی کے ایما پر ایک سابق صدر اور دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف نیب نے مقدمات درج کئے جو اب تک زیر سماعت ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کے انکار سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مقدمات دائر کروانے والے کپتان خود قیمتی تحائف وصول کر کے ان کی تفصل دینے سے یہ کہہ کر انکاری ہیں کہ اسکے اجرا سے میڈیا ہائپ بنے گی اور غیر ضروری خبریں چلیں گی، جس سے مختلف ممالک سے تعلقات متاثر اور ملکی وقار مجروح ہو سکتا یے۔ اس بھونڈے موقف پر کپتان پر تنقید کے نشتر برسائے جا رہے ہیں اور انکی دوغلی پالیسی کا مذاق اڑایا جا رہا یے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو چیزیں پچھلے دور حکومت میں حرام تھیں وہ اس دور میں حلال ہو چکی ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت انصاف کے دوہرے معیار اپنا رہی ہے۔ یاد رہے کہ نیب کے دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنسز میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت چار ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اشتہاری ملزم قرار دیتے ہوئے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔ اسکے علاوہ اسی ریفرنس میں انکی جائیداد ضبطی کی کارروائی بھی شروع کی جا چکی ہے۔
واضح رہے کہ قانون کے مطابق صدارت یا وزارت عظمی کے دوران ملنے والے غیر ملکی تحائف قومی خزانے کی ملکیت ہوتے ہیں اور ان پر ذاتی حق کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے تمام تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کروا دیا جاتا ہے۔ جب عمران خان کی حکومت کو پچھلے حکمرانوں پر کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا تو ان کے خلاف توشہ خانہ سے سستے داموں تحائف خریدنے کے ریفرنسز دائر کیے گے۔ اب عمران خان بطور وزیراعظم خود کو ملنے والے تحائف کے متعلق بتانے سے انکاری ہو چکے ہیں۔ سنیئر صحافی اسد بور نے اس معاملے پر اپنے تنقیدی ٹویٹ میں لکھا کہ فوجی جرنیلوں کو عوام کےٹیکس سے ملنے والی مراعات کی تفصیلات جاری کرنے سےقومی سلامتی مُتاثر ہونے کے خدشات کےبعد اب مارکیٹ میں پیشِ خدمت ہے وزیرِ اعظم عمران خان کو ملنے والے تحفوں کی تفصیل جاری کرنےسے مُلکی وقار مُتاثر ہونے کا انتہائی خوبصورت جواز۔۔ واہ واہ
واضح رہے کہ کابینہ ڈویژن نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اس حکم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جس میں اگست 2018 سے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی کابخنہ ڈویژن نے وزیراعظم کے ایما پر یہ دعویٰ کیا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی معلومات ظاہر کرنے سے بین الاقوامی تعلقات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ کابینہ ڈویژن نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا کہ تحائف کی تفصیل فراہم کرنے کے حوالے سے انفارمیشن کمیشن کا دیا گیا حکم نامہ غیر قانونی ہے۔ دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے خلاف توشہ خانہ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی نیب ریفرنسز دائر کیے گے۔
یہ۔اس معاملے پر تنازعہ تب کھڑا ہوا جب پاکستان انفارمیشن کمیشن نے ایک درخواست قبول کرتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ غیر ملکی سربراہان مملکت، حکومتوں کے سربراہ اور دیگر غیر ملکی معززین کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو موصول ہونے والے تحائف کے بارے میں مطلوبہ معلومات فراہم کریں، ساتھ ہی وزیراعظم کے اپنے پاس رکھے ہر تحفے کی تفصیل دیں اور وہ قواعد بتائیں جن کے تحت انہوں نے تحائف وصول کیے۔ کابینہ ڈویژن کو یہ بھی کہا گیا رہا کہ وہ مطلوبہ معلومات 10 روز کے اندر شیئر کریں اور اسے سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کریں۔
ابرار خالد نے اپنی درخواست میں انفارمیشن کمیشن کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کو اب تک موصول ہونے والے تحائف کی تفصیلات مانگی تھیں۔ تاہم کابینہ ڈویژن نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ 2017 کے معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ 4 اپریل 1993 کے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں توشہ خانہ کی تفصیلات کو ‘خفیہ یا مخفی’ قرار دیا تھا، کابینہ ڈویژن نے استدلال کیا کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت یہ معلومات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
اس کیس کی ابتدائی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پی آئی سی اور درخواست گزار ابرار خالد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا۔ اس موقع پر کابینہ ڈویژن کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمن صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔ اپنے حکم نامے میں انفرمیشن کمیشن نے کہا تھا کہ کابینہ ڈویژن نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی دفعہ 7 (ف) شق 16 کا حوالہ دیتے ہوئے مطلوبہ معلومات تک رسائی دینے سے انکار کیا،
حالانکہ درخواست ان قوانین کے بارے میں معلومات بارے تھی جن کے تحت غیر ملکی معززین سے موصول ہونے والے تحائف وزیر اعظم کے پاس آتے ہیں۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مصدقہ معلومات کی عدم موجودگی میڈیا میں سنسنی پھیلاتی یے جس کے نتیجے میں ‘غیر ضروری کہانیاں’ جنم لیتی ہیں اور شہریوں اور سرکاری اداروں کے مابین اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بارے مصدقہ تفصیلات کی سرکاری طور پر فراہمی توشہ خانہ میں موجود تحفوں کی قیمت اور ان سے استفادہ کرنے والے منتخب نمائندوں کے بارے میں غیر ضروری افواہوں کو دور کرے گی۔
