کپتان پی پی پی کے چلے ہوئے کارتوس اکٹھے کرنے لگے


وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں اپنی جماعت کو مضبوط کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے دو ایسے چلے ہوئے کارتوس اپنے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی وجہ شہرت ان کی بیویاں ہیں، یعنی ناہید خان کے شوہر صفدر عباسی اور فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار مرزا۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں حضرات اس وقت عمران خان کے رابطے میں ہیں اور انکا تحریک انصاف میں شمولیت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں ناہید خان بے نظیر بھٹو شہید کی سیکریٹری ہوا کرتی تھیں جبکہ ذوالفقار مرزا آصف زرداری کے ذاتی دوست ہونے کے علاوہ ان کی ناک کے بال بھی تھے۔ تاہم پیپلز پارٹی سے فارغ ہونے کے بعد اب یہ لوگ نہ تو گھر کے رہے ہیں اور نہ ہی گھاٹ کے۔
کپتان حکومت اقتدار میں اپنے تین سال پورے کرتے ہوئے اچانک الیکشن موڈ میں آ گئی ہے اور نواز لیگ کی ہوم گراونڈ پنجاب کے علاوہ پیپلز پارٹی کی ہوم گراونڈ سندھ میں بھی متحرک ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سندھ میں بڑے سیاسی ناموں سے وزیراعظم عمران خان کی حالیہ ملاقاتوں اور سابق وزیراعلٰی سندھ ارباب غلام رحیم کی بطور معاون خصوصی برائے سندھ تقرری کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی صوبائی کابینہ میں توسیع کرکے جوابی سیاسی وار کیا ہے۔
آزاد کشمیر کے الیکشن میں کامیابی اور سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں حیران کن فتح کے بعد حکمران جماعت سیاسی میدان میں جارحانہ مزاج کے ساتھ کھیلنا شروع ہو گئی ہے۔
اسلام آباد کے سینئر صحافی وسیم عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں بھی تین صوبائی وزرا کی حالیہ چھٹی سے معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان ملک گیر سطح پر اپنی جماعت کی صفیں منظم کر رہے ہیں۔
چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے اچانک منہ پر جوتے کھانے والے سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کو اپنا معاون خصوصی برائے امور سندھ مقرر کیا تو سیاسی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہوگئیں کہ کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وزیراعظم سندھ میں بھی کوئی انتخابی معرکہ دیکھ رہے ہیں۔
وزیراعظم نے پیپلز پارٹی کے پھوکے کارتوس اور ناہید خان کے شوہر صفدر عباسی سے بھی ملاقات کی اور آصف زرداری سے بیوفائی کر کے ایجنسیوں کے ٹاوٹ بن جانے والے فہمیدہ مرزا کے شوہر ذوالفقار مرزا سے بھی رابطہ کیا۔ لیکن کپتان کو شاید یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ ان تلوں میں اب تیل نہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید صفدر کے شوہر ڈاکٹر صفدر عباسی کا تعلق سندھ سے ہے۔ انکے آصف زرداری سے تعلقات بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد خراب ہوئے جب ان پر یہ الزام لگا کہ انھوں نے محترمہ کو اپنی گاڑی کی سن روف سے نکل کر نعرے لگانے والوں کو ہاتھ ہلانے کا مشورہ دیا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد سے دونوں میاں بیوی سیاسی طور پر صفر ہو چکے ہیں۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ذوالفقار مرزا کا بھی ہے جو آصف زرداری کے دور حکومت میں سندھ کے طاقتور ترین وزیرداخلہ ہوتے تھے لیکن پھر وزارت تبدیل کئے جانے پر وہ زرداری کے خلاف ہوگئے حالانکہ ان کی اہلیہ تب بھی قومی اسمبلی کی اسپیکر تھیں۔ پیپلز پارٹی چھوڑنے کے بعد یہ میاں بیوی بھی اب سیاسی طور پر فارغ ہو چکے ہیں لیکن عمران خان نے فہمیدہ کو وفاقی کابینہ میں کھیلوں کا وزیر بنا رکھا ہے۔ خان صاحب اب انہیں لوگوں کی مدد سے سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی سیاسی کھیل کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چنانچہ گذشتہ چند ہفتوں سے پی ٹی آئی سندھ میں پوری طرح سرگرم ہوچکی ہے۔ اس سلسلے میں عمران اسماعیل کی قیادت میں سندھ کا گورنر ہاؤس سیاسی رابطوں کا مرکز ہے۔گورنر ہاؤس کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی بنیادیں استوار کرنے کے بعد دیہی سندھ میں اپنا سیاسی اثر بڑھانا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی نے اپنی نگاہ ان سیاسی شخصیات اور مقامی وڈیروں پر رکھی ہوئی ہے جو صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں الیکشن جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر صفدر عباسی کے علاوہ ضلع نوشہرو فیروز کے جتوئی خاندان، گھوٹکی کے مہر خاندان اور بدین سے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے پی ٹی آئی میں شمولیت کے لیے رابطے کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ان میں سے زیادہ تر افراد کا تعلق پی ٹی آئی کے اتحادی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) سے ہے، تاہم ذرائع کے مطابق اب پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ جی ڈی اے میں شامل ان الیکٹ ایبلز کو براہ راست پارٹی میں شامل کیا جائے۔ اس حوالے سے اندرون سندھ کی سیاست پر نظر رکھنے والے صحافی سہیل سانگی نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت اب اندرون سندھ اپنی جڑیں قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔’
‘ایک تو وقت سے پہلے عام انتخابات اور دوسرا مقامی حکومتوں کے انتخابات۔ اس حوالے سے پارٹی کو انتخابی تیاری کے لیے مضبوط امیدواروں کی ضرورت ہے جن سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔’اس سوال پر کہ پی ٹی آئی اپنی اتحادی جی ڈی اے میں کیوں نقب لگا رہی ہے؟
سہیل سانگی کا کہنا تھا کہ ‘جی ڈی اے کی قیادت اب چھوٹے پیر صاحب یعنی پیر پگاڑا پیر صبغت اللہ شاہ کے پاس ہے جن کا سیاسی اثرورسوخ اپنے والد کی طرح نہیں ہے اس لیے پارٹی ان سے فاصلے پر جارہی ہے۔’ دوسری طرف پی ٹی آئی سے باغی ہونے والے جہانگیر ترین نے حال ہی میں اپنے رشتہ دار پیر پگاڑا سے ملاقات بھی کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترین گروپ شاید اب پیر پگاڑا کے ساتھ مل کر چلنا چاہتا ہے جبکہ پی ٹی آئی باقی ماندہ جی ڈی اے کو ضم کرنا چاہ رہی ہے۔’
سیاسی تجزیہ کار رسول بخش رئیس کا کہنا ہے کہ ‘پیپلز پارٹی 40 سال سے سندھ میں اقتدار میں ہے، اس لیے دیہی علاقوں میں اس کی حمایت ہونے کے باوجود شہری علاقوں میں اس کی مقبولیت کم ہو رہی ہے جس کا پی ٹی آئی فائفہ اٹھانا چاہتی ہے۔ اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ شہری علاقوں میں تو ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر پیپلز پارٹی کا صفایا کر دیا جائے جبکہ دیہی علاقوں میں پیپلز پارٹی سے نالاں سندھ کے وڈیروں کو ساتھ ملائے اور ان کو متبادل راستہ فراہم کرے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں اس سب کا مقصد عام انتخابات کی تیاری ہے کیوںکہ جب حکومتیں تین سال مکمل کر لیتی ہیں تو پھر اگلے الیکشنز کا سوچنا شروع کر دیتی ہیں۔ لیخن سندھ میں پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی غافل نہیں۔ اسی لیے پارٹی کی جانب سے اپنے معاون خصوصی برائے اطلاعات مرتضیٰ وہاب کو کراچی شہر کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا گیا ہے تاکہ شہری علاقوں میں پارٹی کو مزید منظم کیا جا سکے۔ دوسری طرف سندھ کی صوبائی کابینہ میں بھی 15 نئے معاونین خصوصی اور چار وزرا کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے۔اسی اعلان کے تحت حکومت سندھ نے پہلی بار کراچی کے چار اضلاع، حیدرآباد اور سکھر کے لیے بھی معاون خصوصی مقرر کیے ہیں۔
تجزیہ کار سہیل سانگی کے مطابق ‘پیپلز پارٹی نے صوبائی بجٹ اور کابینہ کی توسیع سے پیغام دیا ہے کہ وہ بھی الیکشن موڈ میں چلی گئی ہے۔”پچھلے دنوں پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں پارٹی کے چیدہ چیدہ رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور سندھ کے وزیراعلٰی مراد علی شاہ نے بھی 2018 کے بعد پہلی بار اپنے حلقے کا دورہ کیا۔”ان کے مطابق یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی عام انتخابات سے قبل بلدیاتی الیکشنز بھی کروا دے اور اس بات کا عندیہ وزیراعلٰی نے اپنے حلقے کے دورے کے دوران بھی دیا تھا۔’

Back to top button