کپتان کا فوج مخالف بیانیہ نواز سے بھی زیادہ زہریلا نکلا


وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کی جانب سے اپنی تقاریر میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لیے جانے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ فوج سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بغاوت کردے۔ تاہم یہ الزام لگاتے ہوئے وزیراعظم شاہد بھول گئے کہ وہ ماضی قریب میں خود فوج اور جرنیلوں کے حوالے سے اس سے کئی زیادہ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کر چکے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کا نام لیکر ان کے سیاسی کردار پر تنقید کی ہے تو عمران خان تو ماضی میں جرنیلوں کا پیشاب تک نکل جانے کی کہانیاں سناتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ نواز شریف نے 11 سیاسی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے جلسوں میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام لے کر انھیں 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو اقتدار میں لانے کا الزام لگایا تھا جس کی ابھی تک دونوں حضرات ے تردید نہیں کی ہے۔
سوات میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ علاج کی خاطر باہر جا کر نواز شریف نے این آر او لینے کی کوشش کی لیکن وہ جانتے ہیں کہ عمران خان این آر او نہیں دینے لگا لہذا اب انھوں نے باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کے خلاف گیم شروع کی ہے۔ عمران نے کہا ہہ ’یہ پاکستانی فوج کو اٹیک کر رہا ہے اور فوج کو کہہ رہا ہے کہ اپنا آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف بدلو یعنی یہ بغاوت کرنے کا کہہ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بات پھر سے دہراتے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر فوج کو کہہ رہا ہے کہ بغاوت کرو اپنے آرمی چیف کے خلاف۔‘ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے مسلسل اپوزیشن کو فوج مخالف قرار دینے کا بنیادی مقصد اپوزیشن اور فوجی قیادت کے مابین پیدا ہونے والی خلیج کو وسیع کرنا ہے تاکہ ان کی حکومت قائم و دائم رہے اور اپوزیشن کی توپوں کا رخ خان کی حکومت کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طرف رہے ہیں تاکہ ان کا مقصد بھی پورا ہوتا ہے۔
اپنی سوات تقریر کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی تقاریر پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مریم دراصل پاکستان میں خواتین کو دی جانے والے عزت کا فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز اس فوج کے خلاف زبان استعمال کر رہی ہیں ‘جو ہر روز سرحدوں قربانیاں دے رہی ہے اس ملک کے لیے۔‘ تاہم دوسری طرف نواز شریف اور مریم نواز مسلسل اپنی تقاریر میں یہ بیانیہ لے کر چل رہے ہیں کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ اس ادارے کے ان چند جرنیلوں کے خلاف ہیں جنہوں نے فوج کو سیاست میں ملوث کر کے اس کی ساکھ خراب کرنے کا جرم کیا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں اپنی تقاریر میں مسلسل فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ وہ انکی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں لیکن ایسے جرنیلوں کی عزت نہیں کر سکتے جنہوں نے پاکستان کے ایک معتبر قومی ادارے کو سیاست میں ملوث کرکے اس کا وقار خراب کیا ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مسلسل اپوزیشن پر فوج کی کردار کشی کرنے کے الزامات لگائے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سوشل میڈیا پر عمران خان کی درجن بھر ایسی تقاریر وائرل کر دی ہیں جن میں وہ اسٹیبلشمنٹ اور جرنیلوں کوننگا کر رہےہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button