کپتان کا IMF کی خوشی کے لیے عوام پر ایک اور بڑا حملہ


آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کی خوشی کی خاطر عوام پر ایک اور مہنگائی بم برساتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چھ ہفتوں میں تیسری مرتبہ اضافہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 3 نومبر کو قوم سے نشری خطاب کے دوران عوام کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج کے وعدے کے صرف 48 گھنٹوں بعد ہی کپتان نے عوام پر ایک مرتبہ پھر بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر ہوشربا اضافہ کردیا ہے جس کے بعد لوگوں کی ضرورت کی ہر چیز مزید مہنگی ہونے جا رہی ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے حکومتی عمل کی مذمت کے ساتھ حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے اپنے ممبران قومی اسمبلی نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے عوام دشمن قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے سے زائد کے اضافے کے بعد اب ایک لیٹر پٹرول کی قیمت 145 روپے 46 پیسے ہوگئی ہے جو کہ ملکی تاریخ میں پٹرول کی بلند ترین قیمت ہے۔
کپتان حکومت کی جانب سے رات گئے جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے تین پیسے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 137 روپے 79 پیسے سے بڑھ کر 145 روپے 82 پیسے ہوگئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 14 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 134 روپے 48 پیسے سے بڑھ کر 142 روپے 62 پیسے ہوگئی۔ اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت 6 روپے 27 پیسے اضافے کے بعد 110 روپے 26 پیسے سے بڑھ کر 116 روپے 53 پیسےاور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 5 روپے 72 اضافے کے بعد 108 روپے 35 پیسے سے بڑھ کر 114 روپے7 پیسے ہوگئی۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ریکوری میں کمی کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا، اگر اوگرا کی سمری کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا تو ان میں کافی ذیادہ اضافہ ہوتا لیکن وزیراعظم نے عوام کی مشکلات کا خیال کرتے ہوئے صرف آٹھ روپے اضافے کی منظوری دی۔
دوسری جانب وزیراعظم کے بونگے معاون خصوصی شہباز گِل نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’پیٹرول کی قیمت بڑھانا کوئی پسندیدہ فیصلہ نہیں تھا۔ ہر پہلو دیکھا گیا۔ پوری دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت دو گنا ہو چکی اسلیے وزیر اعظم کو بھی یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی پیٹرولیم ٹیکس 31 روپے سے کم کر کے 5 روپے تک لا چکی۔ اب بھی اگر قیمت کم رکھنی ہو تو پھر قرضہ لینا پڑے گا جو کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اس حکومتی موقف کو سختی سے رد کیا ہے اور کہا ہے کہ دنیا میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے اور عمران خان حکومت پٹرول کی قیمت بڑھا کر ملکی خزانہ بھرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جس سے عوام کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔
اس معاملے پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عالمی سطح پر تیل کی قیمت 100 فی صد بڑھی ہے۔ انڈیا میں پیٹرول 250 روپے فی لیٹر ہے۔ بنگلہ دیش میں 200 روپے لیٹر جبکہ پاکستان میں 138 روپے لیٹر ہے۔ وزیراعظم کے مطابق سوائے تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاکستان میں تیل سب سے سستا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم نے ٹیکس کم کر کے تیل کی قیمت کم رکھی ہے تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک تو وزیراعظم ہمسایہ ممالک میں پٹرول کی قیمت غلط بتا رہے ہیں اور دوسرا اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں کہ پاکستانی عوام کی قوت خرید بنگلہ دیش اور بھارت کے لوگوں سے کافی کم ہے۔ ناقدین کا کہنا کیا ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کپتان حکومت آئی ایم کی مسلط کردہ ہے جس کے کہنے پر پٹرول، گیس، بجلی اور پانی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے اور ریلیف دینے کے وعدوں کے برعکس عوام کی تکلیف میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر حکومت زیر تنقید ہے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافے کے ساتھ ساتھ عمران صاحب کے تکلیف پیکج کا اطلاق ہونا شروع ہو گیا ہے۔‘
پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ ’سیلیکٹڈ وزیراعظم عمران نیازی کے اعلان کے مطابق ریلیف پیکج کے اثرات عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے۔‘ صارفین کی جانب سے بھی سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور پیڑولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو وزیر اعظم کے تکلیف پیکج کے عین مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ نے نہ صرف اپنا ملازم رضا باقر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر لگوا رکھا ہے بلکہ اب تو وزیراعظم بھی آئی ایم ایف کا غلام بن کر رہ گیا ہے جو ماضی میں عالمی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے پر خود کشی کرنے کو ترجیح دینے کے اعلان کیا کرتا تھا۔

Back to top button