کپتان کے دور حکومت میں مہنگائی کا طوفان، عوام بلبلا اٹھے

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے عوام کا مہنگائی سے جینا دوبھر ہوگیا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے،بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلو دیں. بنیادی استعمال کی اشیاء دال، آٹا، چکن ،گھی، چینی، سبزی ایل پی جی سب کچھ مہنگا ہوگیا۔
لہسن 145، ٹماٹر 85، پیاز 69، آلو 53 فیصد مہنگے ہوگئے۔ دال مونگ 107، دال ماش 62، دال مسور 31، دال چنا 37 فیصد مہنگی ہوگئی، آٹے کی قیمت 24 فیصد بڑھی۔ چینی 36، مٹن 1،4چکن51 ، گھی 21 اور ایل پی جی 12 فیصد مہنگی ہوگئی۔ ملک بھر اوسط اعداد و شمار نے ہی سب چاک کر رکھ دیا ہے، ستمبر 2018 سے جنوری 2020 کے 16 ماہ عوام پر بھاری پڑ گئے، ستمبر 2018 میں دال مونگ کی قیمت 112 روپے کلو تھی جو اب ایک سو سات فیصد اضافے سے 232 روپے کلو ہوچکی ہے۔ دال مسور کی ملک بھر میں اوسط قیمت 120 روپے فی کلو تھی جو اب سرکاری اعداد و شمار میں ہی 31 فیصد مہنگی ہو کر 147 روپے کلو ہو چکی ہے، دال چنا ستمبر2018 سے اب تک 37فیصد مہنگا ہوکر کر 118 سے 162 روپے کلو ہوئی ہے، دال ماش 62 فیصد مہنگی ہو کر 140 سے 227 روپے کلو ہوچکی ہے، سبزیوں میں لہسن کی قیمت 145 فیصد اضافے سے 121 سے 297 کلو تک جا پہنچی، پیاز 69 فیصد مہنگا ہوکر 36 سے بڑھتا ہوا 61 روپے کلو ہوگیا، آلو کی قیمت 53 فیصد اضافے سے 30 سے 46 روپے کلو ہے جب کہ ٹماٹر 85فیصد مہنگا ہوکر 69 سے 109 روپے کلو ہوگیا ہے20 کلو آٹے کا تھیلا 24فیصد مہنگا ہونے سے 777 سے بڑھتے ہوئے 968 روپے کا ہو چکا ہے۔ چائے کا 190 گرام کا پیکٹ ستمبر2018 سے جنوری 2020 تک 17 فیصد اضافے سے 195 سے 229 روپے تک پہنچ چکا ہے، مرغی کا گوشت 51 فیصد اضافے سے 115 سے 174 روپے کلو ہوا ہے، مٹن گوشت کی قیمت 14 فیصد اضافے سے 780 سے 891 روپے کلو تک جا پہنچی ہے۔ چینی بھی 36 فیصد مہنگی ہوئی جو 55 سے 75 روپے کلو ہوگئی جب کہ برانڈ خوردنی گھی کا ڈھائی کلو کا پیکٹ 21فیصد مہنگا ہوکر 474 سے 575 روپے کا ہو چکا ہے اور ایل پی جی کا گھریلو استعمال کا سلنڈر بارہ فیصد اضافے سے 1630 روپے سے 1840 روپے کا ہوگیا۔
