کچے کے ڈاکو عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے لگے؟

https://youtu.be/Z815iNiK-D4
کچے کے ڈاکوؤں کیوجہ سے پاکستان کے شعبہ ہوا بازی کو بڑا دھچکا لگ گیا۔ ڈاکوؤں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ میزائل کی تصاویرنے پاکستانی فضائی حدود میں بین الاقوامی سطح پرپیچیدہ صورتحال پیدا کردی۔ ان تصاویر کو جواز بناکر یورپین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پاکستان کی فضائی حدود میں اڑنے والی پروازوں کیلئے ایڈوائزری جاری کردی ہے۔
ڈی جی سول ایوی ایشن (سی اے اے) خاقان مرتضیٰ کے مطابق سوشل میڈیا اوردیگر پلیٹ فارمز پر سندھ کے کچے کے ڈاکووں کی وائرل تصاویر جن میں ان کے ہاتھوں میں بھاری اسلحہ حتیٰ کہ اینٹی ائیرکرافٹ گنز دکھائی گئی وہ سنگین صورتحال کا سبب بنی ہیں، حالانکہ ان میں سے کچھ تصاویرکافی سال پرانی تھیں۔ مگران مناظر کی خبروں کی شکل میں تشہیر نے معاملے کو ہوادی۔انہوں نے کہا کہ ان ڈی جی سی اے اے کے مطابق پاکستانی فضائی حدود کی ایڈوائزری پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے یورپ سے اعلی سطح پر رابطہ کیا کیونکہ ایڈوائزری بڑی حد تک زمینی حقائق کے مکمل برعکس تھی۔انہوں نے کہا کہ سی اے اے کی جانب سےانھیں باورکروایا گیا کہ پاکستانی حدود کی فضائی ایڈوائزری عجلت میں جاری کی گئی ہے کیونکہ زمینی حقائق اس سے بہت زیادہ مختلف ہیں جبکہ کسی بھی قسم کے خطرے کا خدشہ بھی نہیں ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن نے کہا کہ ایاسا ایڈوائزری ملکی ایوی ایشن پرانتہائی منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔ نئی ایڈوائزری میں برطانیہ کی سابقہ ایک ایڈوائزری کا حوالہ دیا گیا، جس پر ایاسا کو بتایا کہ برطانیہ کی پروازیں پاکستان آرہی ہیں۔معاملے پر ایاسا نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں ایک مخصوص بلندی پرپروازوں کو فضائی آپریشن کے لیےجاری ایڈوائزری پاکستانی میڈیا میں اینٹی ائیرکرافٹ اسلحے کی رپورٹس کے باعث جاری کی گئی۔
دوسری جانب نگران وزیر اعلیٰ سندھ اور کابینہ کی جانب سے کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کے خلاف آپریشن کی منظوری بعد اطلاعات ہیں کہ بالائی سندھ میں رینجرز اور پولیس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد پہنچ چکی ہے۔ جبکہ پنجاب کچے سے اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ سندھ کچے کے ڈاکوئوں نے پنجاب خاص طور پر روجھان، تھانہ بنگلہ، رحیم یار خان، صادق آ باد اور دیگر مقامات پر کچے کا رخ کرلیا ہے۔ وہاں موجود پنجاب کچے کے ڈاکوئوں نے انہیں پناہ گاہیں فراہم کرنا شروع کردی ہیں۔ اسی لیے مقامی طور پر پنجاب کچہ میں بھی فوجی آپریشن کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔پنجاب کچے کے مقامی لوگوں نے گزشتہ آپریشن میں بھی یہی مطالبہ کیا تھاکہ سندھ اور پنجاب کے کچے میں مشترکہ فوجی آپریشن کیا جائے اور دونوں صوبوں میں موجود جرائم پیشہ افراد کو اکٹھا ٹارگٹ کیا جائے۔ ایک جانب آپریشن کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، علاوہ ازیں کچے کے ڈاکوئوں سے زیادہ ان کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈالا جائے کیونکہ کچے کے ڈاکو ان کے بغیر کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔ان ڈاکوئوں کے سہولت کار نہ صرف وڈیرے اور جاگیر دار ہیں بلکہ بعض بینکوں کا عملہ بھی ان کی سہولت کاری میں شامل ہے۔ یہ عملہ صارفین کے اکائونٹ پر نظر رکھتا ہے، جس اکائونٹ میں زیادہ پیسے آتے ہیں اس کی اطلاع مختلف ذرائع سے ڈاکوئوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اور ڈاکو اس صارف کے گھر کی ریکی شروع کرتے ہیں جس کے بعد اس گھر کا کوئی مکین اغوا کرلیا جاتا ہے، یا پھراس کو بھتے کی دھمکی بھجوا دی جاتی ہے۔ جبکہ سندھ کے ڈاکوئوں کا طریقہ واردات مختلف ہے۔ وہ مقامی لوگوں کے بجائے زیادہ تر غیر مقامی لوگوں کو اغوا کرتے ہیں۔
مقامی صحافیوں کے بقول، سندھ سے اغوا کیے گئے بعض مغوی بھی پنجاب کچے منتقل کیے جاچکے ہیں۔ سندھ میں جیکب آباد اور شکار پور سمیت کچے کے علاقوں سے ذرائع نے خبر دی ہے کہ سندھ میں فوجی آپریشن کے بارے اطلاعات ملتے ہی سندھ کچے کے ڈاکوئوں نے پنجاب کچے کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ خاص طور پر روجھان کچے کے جزیروں کو مسکن بنایا جارہا ہے۔ دریائے سندھ اس وقت جوبن پر ہے اور اس میں قائم مختلف جزیروں پر ڈاکوئوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔مبصرین کا ماننا ہے کہ ڈاکوئوں کو ایک صوبے سے دوسرے صوبے جانے کا جو فائدہ میسر ہے، اسے ختم کرنے کیلئے سندھ اور پنجاب کے کچے میں بیک وقت فوجی آپریشن کرنا لازمی ہے۔
