پاکستانی خواتین میں کاسمیٹک سرجری کا رجحان کیوں بڑھنے لگا؟

پرکشش، جاذب نظر دکھائی دینا ہر خاتون کا ہی دیرینہ خواب ہوتا ہے لیکن کچھ خواتین اس جدوجہد میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتی ہیں، اور بات کاسمیٹک سرجری تک جا پہنچتی ہے تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو قدرتی خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں اور ایسی تمام تر چیزوں سے دور رہتے ہیں۔پُرکشش لگنے کے لیے دینا بھر میں کاسمیٹک سرجری اور ایستھیٹک پروسیجرز کا سہارا کچھ عرصے پہلے تک تو صرف سلیبرٹیز (مشہور شخصیات) لیا کرتے تھے لیکن اب یہ شوق عام لوگوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جن میں پاکستانیوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ڈرمٹالوجسٹ ڈاکٹر کامران قریشی کہتے ہیں کہ پاکستان میں پچھلے تین چار سالوں میں یہ رجحان بڑھا ہے اور اب ہر عمر اور جنس کے لوگ ہمارے پاس آتے ہیں، زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خواتین ہی پُرکشش لگنے کے لیے ان چیزوں کا سہارا لیتی ہیں لیکن آج کل مرد بھی ایسے تمام پروسیجرز کرواتے ہیں۔ رضا منیر کا شمار بھی ایسے ہی مردوں میں ہے جو مختلف قسم کے استھٹیک اور کاسمیٹک پروسیجرز سے گزر چکے ہیں، ان کا دعویٰ تھا کہ زیادہ تر مرد ماڈل اور اداکار یہ پروسیجرز کرواتے ہیں تاہم عام مرد حضرات بھی اس کام میں پیچھے نہیں ہیں۔حال ہی میں اس سرجری سے گزرنے والے محمد علی نے بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ ایک تکلیف دہ سرجری ہے جو تقریبا تیرہ سے چودہ گھنٹے طویل ہے۔ اس میں ڈاکٹر آپ کے سر کے حصے پر بال لگاتے ہیں جہاں گج پن ہوتا ہے اور اس پر کم سے کم ڈھائی سے تین لاکھ روپے تک لاگت آتی ہے۔دوسری جانب خواتین میں مختلف اقسام کے فیشل، لپ فلرز، لیزر پروسیجرز، مصنوعی پلکیں لگوانے کے علاوہ رنگ گورا کرنے والے انجیکشن لگوانے کا ٹرینڈ زیادہ پایا جاتا ہے۔اس انڈسٹری سے منسلک ڈاکٹر حنا فاروق کے مطابق ’ہرپروسیجر مختلف ہوتا ہے، آپریشن کے علاوہ بعض پروسیجر مختلف کیمیکلز کو انجیکٹ کر کے کیے جاتے ہیں جیسا کہ ماتھے کی شکنیں اور آئی بیگز کو غائب کرنے کے لیے بوٹوکس کے انجیکشن لگوائے جاتے ہیں۔ڈاکٹر نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’لوگوں کو اصل مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے پروسیجر کے نتائج بھی ویسے ہی آئیں جیسے کسی دوسرے شخص کے آئے ہیں، ماہرین کے مطابق ان ٹریٹمینٹس سے جہاں آپ ایک طرف خوبصورت دکھائی دے سکتے ہیں تو وہیں ان کے نقصانات بھی موجود ہیں۔ اس لیے ایسے پروسیجرز میں رسک موجود ہوتا ہے۔رضا منير جو کئی قسم کے کاسمیٹک پروسیجرز سے گزر چکے ہیں نے بتایا کہ میں نے چہرے کے اضافی بالوں کے لیے جب لیزر کروایا تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں آئے، مجھے لگا تھا کہ شاید میرے چہرے پر بال آنا کم ہو جائیں گے لیکن یہاں تو الٹا زیادہ سیاہ بال آنے لگے ہیں، اداکارہ سعدیہ فيصل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے کیس میں مجھے تو بہت فائدہ ہوا، میرے چہرے پر دانے نکلنے کی وجہ سے جلد خراب ہو گئی تھی۔ اس کے لیے میں نے لیزر ٹریٹمنٹ کروائی اور وہ ٹھیک ہوگئے۔سعدیہ بتاتی ہیں میں جب اپنے ڈرمٹالوجسٹ کے پاس جاتی ہوں تو وہاں جو لوگ آتے ہیں ان سے کہتے ہیں ہمیں یہ کر دیں، ویسا کریں، وہ فلر لگا دیں۔ اب یہ ایک لت بن گئی ہے کیونکہ آپ کو نتائج اچھے ملیں گے تو آپ کا دل کرے گا کہ آپ مزید اچھے لگیں۔‘

Back to top button