کیا اب خارجہ پالیسی حکومت کی بجائے تحریک لبیک بنائے گی؟

وفاقی حکومت اور تحریک لبیک کے مابین کامیاب مذاکرات اور ایک معاہدے کے تحت فرانس کے سفیر کو جلد ملک سے بے دخل کرنے کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر اب یہ بحث شروع ہوچکی ہے کہ آیا ایک مذہبی شدت پسند گروہ اس طریقے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنی شرائط منوا سکتا ہے اور کیا آئندہ پاکستان کی خارجہ پالیسی تحریک لبیک ترتیب دے گی۔ یاد رہے کہ 2017 میں فیض آباد دھرنے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ریاستی ادارے اس طرح کی شدت پسند تنظیموں کو فروغ دینے سے باز آ جائیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب 2017 میں تحریک لبیک نے فیض آباد میں مسلم لیگی حکومت کے خلاف اپنا دھرنا ختم کیا تو معاہدے پر دستخط آئی ایس آئی کے فیض حمید نے کیے تھے اور دھرنے کے شرکاء میں رقم بھی تقسیم کی گئی تھی۔
اب 2020 میں حکومت کے ساتھ معاہدے کا اعلان تحریک لبیک کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے تحت حکومت دو سے تین ماہ کے اندر فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی اور پاکستان میں تمام فرانسیسی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ فرانس میں پیغمبر اسلام کے متنازع خاکوں کی اشاعت کے بعد تحریک لبیک نے اتوار کو راولپنڈی میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک ریلی نکالی تھی، تاہم پولیس کے بعد جھڑپوں کے بعد یہ ریلی دھرنے کی شکل اختیار کر گئی تھی کیوں کہ تحریک لبیک کے مظاہرین نے اسلام آباد پہنچ کر فیض آباد چوک میں دھرنا دے دیا تھا۔
اتوار اور پیر کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں اہم شاہراہیں بند رہیں جبکہ شہریوں کو موبائل اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ فیض آباد دھرنے کے دوران تحریک لبیک نے پیر کی صبح تک یہ مؤقف اپنایا کہ تاحال حکومت کی طرف سے کوئی بھی ان سے مذاکرات کے لیے نہیں پہنچا۔ دوسری طرف راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق تحریک لیبک کی مقامی قیادت نے اس احتجاجی ریلی کے انعقاد کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت نہیں لی تھی۔ لیکن پھر پیر کی شب اچانک فریقین کے درمیان ’کامیاب‘ مذاکرات اور معاہدے کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا۔
ترجمان وزارت مذہبی امور عمران صدیقی کے مطابق خود وزیر اعظم عمران خان نے وزیر مذہبی امور کو مذاکرات کا ٹاسک دیا تھا جبکہ مذاکرات میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر سید اعجاز شاہ، وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر، سیکریٹری داخلہ اور کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی بھی شامل تھے۔ تحریک لبیک کی جانب سے شیئر کردہ اس معاہدے کے مطابق، مذاکرات میں ان چار نکات پر اتفاق ہوا:
پہلا یہ کہ حکومت دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے قانون سازی کے بعد فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرے گی۔ دوسرا۔یہ کہ فرانس میں پاکستان کا سفیر بھی نہیں لگایا جائے گا۔تیسرا یہ کہ تمام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور چوتھا یہ کہ تمام گرفتار شدہ کارکنان کی رہائی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس معاہدے کی کاپی سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ پر گردش کر رہی ہے جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سادہ کاغذ پر چار نکات اور دونوں فریقین میں نمائندوں کے نام درج ہیں۔
مقامی نیوز چینلز کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر اور فیس بُک پر بھی حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات پر مختلف نوعیت کے تبصرے جاری ہیں۔ جہاں کچھ سوشل میڈیا صارفین اسے حکمراں جماعت تحریک انصاف کی کامیابی قرار دے رہے ہیں وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی و مذہبی گروہ حکومت کو خارجہ امور پر ’کیسے حکم دے سکتا ہے؟‘ فدا جتوئی نامی صارف نے اس معاہدے پر اپنے اعتراضات ایک ٹویٹ میں شکل میں لکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ایک وزیر داخلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیسے طے کر سکتا ہے؟‘ ایک صارف نے لکھا کہ اگر فرانس میں بعض لوگ ’دوبارہ اسلام مخالف مواد شائع کرتے ہیں تو ہم کیا کریں گے؟ بالآخر ہم وہاں بسنے والے تمام پاکستانیوں کو واپس بلا لیں گے؟‘ ایک اور صارف نے یہ سوال کیا کہ کیا اب پاکستان کی خارجہ پالیسی تحریک لبیک کے علامہ خادم حسین رضوی ترتیب دیا کریں گے۔ اس نے لکھا کہ بجائے کہ حکومت اس طرح کے شدت پسند عناصر کی سرکوبی کرتی، اس نے ان کے ساتھ معاہدہ کر کے پورے ملک کو شدت پسندوں کا غلام ثابت کردیا ہے۔
دی ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر ذمہ داریاں نبھانے والے مائیکل کوگلمین نے معاہدے کو حکومت کی شکست قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم یہ فلم اب کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ ٹی ایل پی کی جیت کے ساتھ ہم اب یہ فلم بار بار دیکھتے رہیں گے۔‘ صحافی طلعت حسین کا بھی یہی موقف ہے کہ ’خادم رضوی نے عمران خان حکومت سے اپنے تمام مطالبات منوا لیے ہیں۔‘ ٹوئٹر صارف فراز کا اس سب پر کہنا تھا کہ ’پاکستان کبھی بھی ایک بڑی معیشت سے اپنے تعلقات اتنے خراب نہیں کرے گا۔۔۔ جھوٹا وعدہ ہونے کے باوجود حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔‘
عمیر مالک نے حکومت، تحریک لبیک معاہدے کو ’لالی پاپ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقہ کار سے یہ رجحان بڑھ جائے گا۔ ’حکومت نے اپنی کمزوری دکھائی ہے۔‘ فیصل نقوی کہتے ہیں کہ کسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے ’پاکستان کو کسی قانون کی ضرورت نہیں۔۔۔ اس لیے امید ہے کہ کچھ نہیں ہو گا۔‘ دوسری طرف کامران خان جیسے سادہ لوح صحافی بھی موجود ہیں جو حکومت اور انتظامیہ کو ’کامیاب مذاکرات‘ اور ’بحران سے بچانے‘ پر ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔
