کیا افغانستان دوبارہ القاعدہ کا گڑھ بننے جا رہا ہے؟


طالبان نے افغان دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد اس اہم ترین شہر کی سیکیورٹی کمانڈر سراج الدین کے حقانی نیٹ ورک کے حوالے کر دی ہے جن کے القاعدہ سمیت غیر ملکی جہادی گروہوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور جنہیں امریکہ دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ افغان طالبان کے اس فیصلے نے مغربی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے میں طالبان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ نیٹ ورک کے ساتھ اپنی تمام روابط ختم کر لیں گے اور کسی دہشت گرد گروہ سے تعلق نہیں رکھیں گے۔
اسلام آباد میں مقیم سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کو کابل شہر کی سیکیورٹی کہ ذمہ داری دینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب وہ بتدریج اپنے وعدوں سے پھرنا شروع ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ دوحہ امن معاہدہ کرتے وقت یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ 1996ء سے 2001ء تک کے دور کے برعکس اعتدال کا راستہ اپنائیں گے اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے خود کو دور کر لیں گے۔
اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد القاعدہ کو دوبارہ افغانستان میں اپنا نیٹ ورک بحال کرنے کی اجازت مل جائے گی کیونکہ کمانڈر سراج الدین حقانی کا گروپ القاعدہ سے قریبی تعلقات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوگا کہ گزشتہ سال طالبان نے امریکی عہدیداروں سے قطر میں معاہدہ کرتے وقت جو وعدے کئے تھے وہ صرف وعدوں کی حد تک تھے اور انکی پاسداری نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ 20 اگست کو افغانستان کی قومی مفاہمتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کابل میں خلیل الرحمٰن حقانی کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کی جس کے بعد ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اعلان کیا کہ خلیل الرحمٰن حقانی افغان دارالحکومت کابل کی سیکیورٹی کے نگران ہوں گے۔ خیال رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے فروری 2011ء میں خلیل الرحمٰن حقانی کو دہشت گرد قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے بارے میں اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا، ان کا نام اقوام متحدہ کی دہشت گردوں سے متعلق فہرست میں بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور خلیل الرحمٰن حقانی کی ملاقات سے چند ہی گھنٹے قبل طالبان نے افغانستان کی اسلامی امارات کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں کے مطابق یہ ایک پریشان کن حقیقت ہے کہ خلیل الرحمٰن حقانی کو کابل کی سیکیورٹی کا انچارج بنایا گیا ہے۔ بقول ان کے حقانی اور القاعدہ کے آپس میں پرانے تعلقات ہیں، اور یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ دراصل وہ دو وہ ایک ہی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ باہمی تعلقات منقطع کر دیں۔
اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک ریٹائرڈ برطانوی سفارتکار ایور رابرٹس کا کہنا ہے کہ کابل کی سیکیورٹی کی نگرانی حقانی نیٹ ورک کے حوالے کرنے کا اقدام ایسا ہے جیسے آپ چوزوں کی رکھوالی لومڑی سے کروا رہے ہوں۔ رابرٹس کہتے ہیں کہ میں نے سوچا تھا کہ پبلک ریلیشنز کے حوالے سے طالبان ہوش مند ثابت ہوں گے لیکن اس فیصلے سے ایسا نہیں لگتا، وہ اپنی تنظیم کا سب سے برا تاثر دینے والا پہلو سب کے سامنے رکھ رہے ہیں جس سے خواتین، لڑکیوں اور سول سوسائٹی کو خطرناک پیغام جائے گا۔ میرے خیال سے اس قدم سے یہ امکان بڑھ جاتا ہے کہ افغانستان دوبارہ بین الاقوامی دہشت گردی کا گڑھ بن جائے گا۔
مغربی میڈیا کے مطابق افغانستان کے کنڑ صوبے کے دور دراز علاقوں میں اور آن لائن جہادی چیٹ رومز میں شدت پسندوں بالخصوص القاعدہ کے حامی افراد طالبان کی ‘تاریخی کامیابی‘ کا جشن منا رہے ہیں۔ وہ فوج جس نے 20 برس پہلے طالبان اور القاعدہ کو نکال باہر کیا تھا، اُسی فوج کے انخلا نے مغرب مخالف جہادیوں کا دنیا بھر میں حوصلہ بڑھایا ہے۔ ان حالات میں مغربی جنرلز اور سیاستدان خبردار کر رہے ہیں کہ القاعدہ تنظیم اب افغانستان میں مضبوط ہو گی۔ دوحہ میں مذاکرات کے دوران طالبان مذاکرات کار کو یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کا عمل تب ہی ہو گا جب وہ خود کو القاعدہ سے مکمل طور پر علیحدہ کر لیں گے۔
افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کر چکے ہیں۔ لیخن اقوام متحدہ کی رپورٹیں کہتی ہیں کہ انھوں نے ایسا نہیں کیا ہے اور درحقیقت دونوں تنظیموں کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ اسکا ثبوت یہنہے کہ طالبان کے افغانستان پر تیزی سے حالیہ قبضے کے دوران القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر افغان جنگؤوں کو دیکھا گیا ہے۔
ایشیا پیسفک فاؤنڈیشن کے تخمینوں کے مطابق القاعدہ کے کنڑ صوبے میں اس وقت تقریباً 200 سے 500 ارکان ہیں۔ اس تنظیم کے مطابق طالبان کا کنڑ صوبے پر قبضہ انتہائی اہم ہے کیونکہ یہاں پر بہت ہی مشکل جغرافیہ ہے اور گھنا جنگل ہے۔ چنانچہ اگر یہاں پر القاعدہ کی فورسز بڑھتی ہیں تو مغرب کے لیے ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ مغربی ممالک نے اس معاملے میں گذشتہ 20 سال تک این ڈی ایس، افغان انٹیلیجنس سروس، اور اس کے ساتھ امریکی، برطانوی، اور افغان سپیشل فورسز پر انحصار کیا تھا۔ لیکن اب وہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے اور انٹیلیجنس تناظر میں افغانستان اب ایک مشکل ہدف بن گیا ہے۔ ان حالات میں اگر افغانستان میں دوبارہ القاعدہ کے ٹریننگ کیمپوں کی نشاندہی ہوتی ہے تو امریکہ کے پاس دور بیٹھے ڈرون حملے یا کروز میزائل ہی آپشنز رہ جاتے ہیں جیسے کہ 1998 میں اسامہ بن لادن کے خلاف داغے گئے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح القاعدہ کا نیٹ ورک ختم کیا جاسکے گا؟

Back to top button