کیا امریکہ بھی پاک چین سی پیک کا حصہ بننے والا ہے؟
حکومت پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک چین سی پیک پراجیکٹ کی ہمہ گیریت اور شاندار مستقبل کو دیکھتے ہوئے جرمنی اور پولینڈ جیسے یورپی ممالک کے علاوہ جنوبی کوریا بھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہے لہذا اب چین کے سب سے بڑے حریف امریکہ کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ بھی اگر چاہے تو سی پیک میں سرمایہ لگا سکتا ہے کیونکہ یہ پراجیکٹ پوری دنیا کے سرمایہ کاروں کے لیے اوپن ہے۔ تاہم ابھی اس پاکستانی پیشکش کے جواب میں امریکہ کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ نومبر 2019 میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالرز مالیت کے پراجیکٹس پر مشتمل منصوبے سی پیک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلِس ویلز نے کہا تھا کہ سی پیک پراجیکٹ پاکستان کو چینی قرضوں کے جال میں جکڑ کر رکھ دے گا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کو پاکستانی نوجوانوں کو روزگار مہیا نہیں کرتا ہے، اور پاکستانی کمپنیوں کو وہ سہولیات فراہم نہیں کرتا جو چینی کمپنیوں کو پاکستان ایک دہائی پہلے مہیا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں اتنا عدم توازن ہے۔
چنانچہ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کے مخالفت کی وجہ سے یہ تاثر عام ہے کہ امریکہ اس پروجیکٹ کو ناکام دیکھنا چاہتا ہے۔ شاید اسی لیے اب پاکستان نے امریکی مخالفت کو نیوٹرلائز کرنے کے لیے اسے منصوبے میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سی پیک خالد منصور کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری یعنی سی پیک پوری دنیا سے سرمایہ کاروں کے لیے اوپن ہے۔ ہمارے پاس اب سی پیک اتھارٹی میں مختلف سفیروں نے دلچسپی ظاہر کرنا شروع کی ہے اور ہم نے ان کو بھی کہا ہے کہ ہمارے اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کریں۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے پاس نو اکنامک زونز ہیں سی پیک کے تحت ان میں سے پانچ بہت تیزی سے تیار ہو رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ دلچسپی ظاہر کرنے والے چند یورپی ممالک بھی ہیں جیسا کہ پولینڈ اور جرمنی۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک فیز ٹو میں 10 جوائنٹ ورکنگ گروپ مختلف شعبوں میں بنائے گئے ہیں جیسے کہ زراعت، ادویات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل اور فارماسوٹیکل کے شعبے میں صعنت لگائی جائے گی۔ خالد منصور نے کہا کہ وہ یہ غلط تاثر زائل کرنا چاہتے ہیں کہ پاک چجن سی پیک منصوبہ صرف چین کے لیے ہے بلکہ امریکہ اور دیگر ممالک سے بھی اس پر بات ہوئی ہے اور انہیں بھی سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔
خالد منصور کے بقول یہ غلط تاثر ہے کہ سی پیک صرف چین کے لیے ہے، ہم رفتہ رفتہ اس کو زائل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ کے کمرشل قونصلر نے بھی مجھ سے بات چیت کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی آ کر سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائے کیونکہ اس میں جو مالی فوائد ہیں وہ سب کے لیے دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکومت کے علاوہ وہاں مقیم کوئی پاکستانی بزنس مین بھی سی پیک پراجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو اسے اجازت ہو گی۔ خالد منصور کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت بننے والی گوادر دنیا کی بہترین پورٹ ہو گی جس میں ایک بڑے ایریا پر فری زون بن رہا ہے۔ سی پیک کے فیزٹو میں چین کی وہ انڈسٹری جس میں زیادہ لیبر کی ضرورت ہوتی ہے اسے گوادر میں لایا جائے گا اور فری زون میں اس انڈسٹری کو دوبارہ سے لگایا جائے گا اور پھر اس سے ایکسپورٹ کریں گے۔ دوسرا جب ہم بڑی انڈسٹری لے کر آ جائیں گے چاہے زراعت ہو، انرجی سیکٹر ہو، پیٹروکیمیکل، فارماسوٹیکل، ٹیکسٹائل ہو یہ سب صنعت کے منصوبے ہیں ۔
گوادر میں مقامی آبادی کی طرف سے سہولیات کی عدم فراہمی پر حال ہی میں ہونے والے احتجاج کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں خالد منصور کا کہنا تھا کہ بہت فوکس طریقے سے وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر سی پیک اتھارٹی کوشش کر رہی ہے۔ ان میں چاہے بجلی کے مسئلے ہوں یا وہ پانی کے مسئلے ہوں، وہ حل کیے جائیں گے۔ اس طرح وہاں کے نوجوان طبقے کی تربیت کے لیے ہم نے بہت ووکیشنل اور ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ حال ہی میں مکمل کیا ہے۔ وہاں نوجوان بچوں کو شامل کرکے تربیت دیں گے، پھر جو فری زون کے اندر صنعت لگ رہی ہے وہاں تربیت کر کے ان لوگوں کو ملازمت کے مواقع دیے جائیں گے۔
چینی ورکرز کی سکیورٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک ہماری معیشت کے لیے گیم چینجر ہے۔ ہماری معیشت کو بحال کرنے کے لیے شہ رگ ہے، مگر بہت سی مخالف قوتوں کی نظر میں کھٹکتا بھی ہے۔ اسی لیے اس کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دی گئی اور ابھی تک فیز ون میں جو پراجیکٹ محدود علاقوں میں تھے، ان میں ہزاروں چینی آئے اور ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھے طریقے سے پوری کی اور ان کے اندر شاید ہی کوئی واقعہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی یہ شرط بھی تھی کہ جب وہ کام کریں گے تو ان کو فول پروف سیکورٹی دی جائے۔ تاہم جو اکا دکا واقعات ہوئے وہ ایسے پراجیکٹ تھے جو محدود علاقے میں نہیں تھے بلکہ کھلے علاقے میں تھے جیسے کہ داسو کا حملہ تھا۔ اس کے فوراً بعد اس قسم کے پراجیکٹس کے لیے بھی ازسرنو جائزہ لیا گیا اور ہماری سکیورٹی کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ ان سارے انتظامات سے اور سکیورٹی میں اضافے کے بعد چین نے اطمینان کا اظہار کیا اور داسو پراجیکٹ پر بھی دوبارہ کام شروع کر دیا۔
