عثمان بزدار نے اپنی نااہلی کا انتقام پنجاب پولیس سے کیسے لیا؟


معلوم ہوا ہے کہ لاہور سے اسلام آباد کی جانب سفر کرنے والے تحریک لبیک کے مظاہرین نے وزیر آباد پہنچنے تک کئی مقامات پر تصادم کے دوران پنجاب پولیس کے اہلکاروں سے بڑی مقدار میں اسلحہ چھینا تھا جو اب مختلف مقامات سے برآمد ہونا شروع ہو گیا ہے۔ چھینے جانے والے اسلحے میں 30 جی ایس ایم رائفلز، سینکڑوں گولیاں، پولیس کی امریکی ساختہ درجنوں اینٹی رائٹ گنز، اور آنسو گیس کے شیلز شامل تھے۔ پولیس کا موقف ہے کہ تحریک لبیک والے اسلحہ چھیننے میں اس لیے کامیاب رہے کہ انہیں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف اسلحہ استعمال کرنے کے احکامات نہیں تھے لہذا وہ صرف اپنے دفاع میں مصروف رہے اور لبیک والے ان کو مارتے رہے اور ان سے اسلحہ چھینتے رہے۔ دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب پولیس کے 32 سنئیر پولیس افسران کو اس الزام پر تبدیل کر دیا ہے کہ وہ تحریک لبیک کے لانگ مارچ کو روکنے میں ناکام رہے۔ تبدیل کیے جانے والے افسران میں لاہور کے سی سی پی او بھی شامل ہیں جنہوں نے لبیک مظاہرین کے ہاتھوں پانچ پولیس والوں کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کیا تھا چنانچہ وزیراعلی پنجاب نے فوری انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کا تبادلہ کردیا۔ اس سے پہلے انہوں نے وزیر اعلی کو یہ شکایت کی تھی کہ حکومت کی جانب سے تحریک لبیک سے نمٹنے کے لیے اپنائی جانے والی دوغلی پالیسی نے پولیس کا مورال گرا دیا ہے اور اس کی رٹ ختم کر دی ہے لہٰذا ایک مرتبہ حخومتی سطح پر طے کیا جائے کہ لبیک کو طاقت سے نمٹنا ہے یا اس سے معاملات طے کرنے ہیں۔
پولیس والوں کا موقف ہے کہ تحریک لبیک اگر لاہور سے وزیر آباد تک مارچ کرتی ہوئی پہنچ گئی تو اس کی ذمہ دار حکومت کی دوغلی پالیسی ہے کیونکہ پولیس والوں کو تو مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے اور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہی نہیں تھی لہذا وہ انہیں کیسے روکتے۔ اسی وجہ سے کئی پولیس جوان مظاہرین کے ہاتھوں مارے گئے۔ تاہم وزیر اعلی پنجاب نے اپنی ناکامی کا مدعا پولیس پر ڈالتے ہوئے 32 سینئر افسران کو تبدیل کر دیا جن میں لاہور پولیس کی تمام بڑے افسران شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کو روکنے کے دوران پولیس اور شرکا کے درمیان لاہور سے وزیر آباد تک کئی مقامات پر تصادم ہوا۔پولیس نے مختلف تھانوں میں 60 کے قریب مقدمات درج کیے جن میں سے بیشتر میں مظاہرین پر پولیس کی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ، اہلکاروں پر تشدد کے ساتھ ساتھ قیمتی اسلحہ اور سامان چھیننے کا الزام لگایا گیا۔
تاہم پنجاب پولیس حکام کے مطابق 15 دن پہلے ہونے والے واقعات میں غائب ہونے والا بھاری اسلحہ ادھر، ادھر سے ملنا شروع ہو گیا ہے۔ تحریک لبیک کی لانگ مارچ کے دوران وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ پولیس کو اسلحہ فراہم نہیں کیا گیا تاہم پھر اس طرح کی اطلاعات آئی تھیں کہ مظاہرین نے پولیس کا اسلحہ چھین کر گولیاں چلائیں جس سے پولیس اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔ دوسری جانب ٹی ایل پی قیادت نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کے کارکنوں پر پولیس نے فائرنگ کی جس سے کئی کارکنان ہلاک و زخمی ہوئے۔ اس تمام صورتحال میں پولیس حکام یا ٹی ایل پی قیادت کی جانب سے کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ یا تصاویری ثبوت تاحال سامنے نہیں آئے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ جھڑپوں میں اسلحہ استعمال ہوا ہے۔ تاہم پنجاب پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جب حکومت اور لبیک کے درمیان مذاکرات ٹوٹے تھے تو پولیس والوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا تھا لیکن استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی چنانچہ لبیک کے مظاہرین نے کئی مقامات پر پولیس والوں پر تشدد کرنے کے بعد ان سے اسلحہ چھین لیا جو اب ملنا شروع ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ تحریک لبیک نے دو ہفتے قبل مطالبات تسلیم نہ ہونے پر لاہور سے مارچ کا آغاز کیا تھا جس کی منزل اسلام آباد تھی۔حکومت کی ہدایت پر پنجاب پولیس نے ایم اے او کالج چوک لاہور میں مارچ کو طاقت سے روکنے کی کوشش کی تو تصادم کے نتیجے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ اس دوران آنسو گیس کی شیلنگ، لاٹھی چارج اور مظاہرین کے پتھراؤ سے کئی پولیس اہلکار اور مظاہرین ہلاک اور زخمی ہوئے۔ پولیس گاڑیوں کی مظاہرین کی جانب سے توڑ پھوڑ اور اسلحہ چھننے کے الزامات پر لاہور، شیخوپورہ، گجرانوالہ ضلع میں 60 سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ ان مقدمات میں ایک درجن کے قریب تنظیمی عہدے داروں اور مقامی مساجد کے امام سمیت نامعلوم افراد کو بھی نامزد کیا گیا۔ سنگین دفعات کے تحت درج مقدمات میں مظاہرین پر مجموعی طور پر 25 سے 30 جی ایس ایم رائفلز، سینکڑوں گولیاں، پولیس کی امریکی ساختہ درجنوں اینٹی رائٹ گنز، آنسو گیس کے شیلز چھننے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پولیس نے 22 اکتوبر سے 26 اکتوبر تک لاہور، شیخوپورہ اور گجرانوالہ کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے جن میں مارچ کے شرکا کی جانب سے پولیس اہلکاروں اور گاڑیوں پر حملوں کے ساتھ اسلحہ چھیننے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر ہر ضلعے میں پولیس کے سامان کا تخمینہ لگانے والی کمیٹیوں نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ کافی قیمتی اسلحہ غائب ہے۔
یاد رہے کہ محکمہ پولیس میں اسلحہ اور گولیوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور جس اہلکار یا افسر کو کوئی اسلحہ جاری کیا جاتا ہے، اس کا اندراج بھی کیا جاتا ہے۔ لہذا جب معاملہ کمیٹیوں کے سامنے زیر غور آیا اور متعلقہ اہلکاروں یا افسروں سے اسلحے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے رپورٹ دی کہ بھگدڑ میں بیشتر جی ایس ایم رائفلز، گولیاں وغیرہ ادھر، ادھر غائب ہوگئیں جو واپس مل گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے واقعے میں جہاں پولیس کو ہزاروں افراد کے مارچ کو روکنے کا اختیار ایک حد تک ہو تو سلحہ اور سامان چھینا جانا فطری ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پولیس سے اسلحہ چھیننے کے الزام پر گرفتار لبیک کے کارکنان کو حکومت سے معاہدے کے بعد رہا کیا جا چکا ہے۔

Back to top button