کیا اپنی جانیں بچانے کے لئے اب TLP کو جوائن کرنا ہوگا؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے تحریک لبیک کو بحال کیے جانے کے بعد اب مجھے یہ مشورے دیے جارہے ہیں کہ اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو چپ چاپ لبیک جوائن کر لو، لہذا میں سوچ رہا ہوں کہ کیا کروں؟ ملک چھوڑ کر چلا جاؤں یا پھر ٹی ایل پی میں شمولیت اختیار کر لوں؟ جاوید چودھری لوگوں کو بھی یہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ یا تو ملک سے بھاگ کر اپنی جانیں بچا لیں یا پھر ٹی ایل پی کی پناہ لے لیں کیوں کہ اب اس کے علاوہ ان کے پاس بھی کوئی اور آپشن نہیں بچی۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس ملک میں 21 کروڑ لوگ موجود ہی اور اسلام کی بھین21 کروڑ ہی تشریحات کی جاتی ہیں۔ ہر شخص اپنی تشریح کی بنیاد پر دوسرے شخص کو قتل کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے اور ریاست اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے لہٰذا سوقل یہ یے کہ ملک چلے گا کیسے؟ وہ بتاتے ہیں آج کے پاکستان کی حالت یہ ہے کہ میں نے کل اپنے ایک دوست کو تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی سے ملاقات کرتے دیکھا حالانکہ دونوں کے نظریات میں مشرق اور مغرب کا فرق تھا۔ میں نے اپنے دوست سے اس یوٹرن کی وجہ پوچھی تو اس نے کمال جواب دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ’’ملک میں اب سعد رضوی کے سوا کوئی شخص مجھے میری جان اور مال کا تحفظ نہیں دے سکتا، اس نے مجھے بھی مشورہ دیا کہ تم بھی اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو چپ چاپ ٹی ایل پی جوائن کر لو۔ بقول جاوید چودھری، اس مشورے کے بعد میں بھی اب سنجیدگی سے دو آپشنز پر غور کر رہا ہوں کہ ملک سے چلا جاؤں یا پھر ٹی ایل پی جوائن کر لوں؟
جاوید چودھری کہتے ہیں کہ ہم اگر تحقیق کریں تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ لاکھوں ٹیلنٹڈ‘ پڑھے لکھے اور شان دار پاکستانی مسلسل ملک سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ آپ امریکا‘ کینیڈا یا برطانیہ جائیں آپ کو وہاں لاکھوں پڑھے لکھے اور کام یاب پاکستانی ملیں گے۔ یہ لوگ مختلف ادوار میں ملک سے نکلے، وطن سے دور آباد ہوئے اور اب ایک مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ اسلام آباد میں ای سیون‘ ایف سیون‘ ایف ایٹ اور جی سکس پوش ترین علاقے ہیں۔ ای سیون مہنگا اور پرسکون ترین سیکٹر ہے۔ ایوب خان اور بھٹو صاحب کے دور میں اعلیٰ ترین بیوروکریٹس، جرنیل، بزنس مین اور دانشور اس سیکٹر میں رہائش پذیر تھے۔ ایف ایٹ اور ایف سیون میں بھی ملک کی کریم رہتی تھی۔ لاہور میں کینٹ، گلبرک اور ماڈل ٹاؤن اشرافیہ کی بڑی آبادیاں تھیں اور کراچی میں کلفٹن کا علاقہ کروڑ پتیوں کی بستی تھی لیکن آج وہ تمام خاندان کہاں ہیں؟ اسلام آباد کے چاروں مہنگے سیکٹرز کے گھر چالیس برس میں تین تین بار بک چکے ہیں اور وہ عظیم لوگ اور خاندان جنھیں ملنے کیلئے لوگ دوسرے ملکوں سے آتے تھے، وہ مدتوں پہلے نقل مکانی کر چکے ہیں۔ دوسرا اسلام آباد کی مختلف سڑکیں مختلف مشاہیر سے منسوب ہیں لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی یہ سڑکیں جن لوگون سے منسوب ہیں ان میں سے کسی سڑک پر اس عظیم شخص کا گھر یا خاندان موجود نہیں حتیٰ کہ شاہراہ دستور سے ملک کا دستور بھی نقل مکانی کر چکا ہے۔ تیسراہم نے ملک کی تمام چھاؤنیوں کی مختلف سڑکیں بھی مختلف بہادر اور نامور افسروں سے منسوب کر رکھی ہیں لیکن ان میں سے بھی 98 فیصد فوجی افسروں کی اولاد برسوں پہلے ملک چھوڑ گئی تھیں۔ چوتھا آپ تحقیق کر لیں، ایوب خان کے دور کے 22 امیر ترین خاندان کہاں ہیں؟ بھٹو صاحب کے اسٹار جیالوں کے خاندان کہاں ہیں۔جنرل ضیاء الحق کے عظیم رفقاء کی اولادیں کہاں ہیں؟ جنرل مشرف کے ساتھیوں کے خاندان کہاں چلے گئے اور بڑے بڑے سیاستدان اور ان کی اولادیں، اثاثے اور گھر کہاں ہیں؟
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ آپ کسی دن ٹھنڈے دل اور دماغ سے تحقیق کیجیے، آپ آج سویلینز میں سے 19ویں گریڈ اور آرمڈ فورسز میں کمانڈنگ افسروں سے دیکھنا شروع کیجیے، اور پھر آرٹ‘ کلچر‘ ادب‘ تعلیم‘ سائنس‘ بزنس‘ میڈیکل انجینئرنگ اور سیاست ملک کے تمام اداروں کو کھنگال کر دیکھ لیجیے، آپ کو ہر شعبے کے کام یاب لوگ اور ان کے خاندان ملک سے باہر جاتے نظر آئیں گے۔ آپ جس دن دہری شہریت‘ ریزی ڈینسز اور تعلیم کے نام پر نقل مکانی کا ڈیٹا جمع کریں گے تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ تمام اچھے اور سمجھ دار نوجوان بیوروکریٹس تک نوکری چھوڑ کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ملک تو آپکی ماں کی طرح ہوتے ہیں، کیا ماؤں کو چھوڑنا اتنا آسان ہوتا ہے؟ دوسرا والدین بھی اپنی اولاد سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کو فتنہ اور آزمائش قرار دیا لہٰذا پھر ہمارے والدین اپنے بچوں کو خود سے الگ کر کے دوسرے ملک کیوں بھجوا تے ہیں؟ پاکستانی والدین اپنی اولاد کے بغیر کیسے سروائیو کرتے ہوں گے؟ صفدر محمود ہمارے بزرگ تھے‘ وفاقی سیکریٹری کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے‘ دانشور بھی تھے‘ کالم نگار بھی‘ محقق بھی اور مصنف بھی‘ وہ پوری زندگی پاکستان اور پاکستانیت پر لکھتے رہے لیکن ان کا صاحبزادہ بھی امریکا میں رہتا تھا، ڈاکٹر صاحب اس سے ملنے گئے، بیمار ہوئے اور صرف دفن ہونے کے لیے پاکستان واپس آئے۔ جنرل پرویز مشرف کی بیٹی اور بیٹا بھی مدت سے باہر ہیں۔ شوکت عزیز لندن سے آئے، وزیراعظم بنے اور فسرغ ہونے کے بعد لندن واپس چلے گے۔ بقول جاوید چودھری، یہ صرف چند مثالیں نہیں ہیں، ایسے لاکھوں لوگ ہیں لیکن سوال پھر وہی ہے۔۔۔ یہ لوگ اپنا ملک، اپنی زمین، جائیداد، گھر، فیکٹریاں، والدین اور عزیز رشتے دار چھوڑ کر ان ملکوں میں کیوں چلے جاتے ہیں جہاں نہ ان کی زبان بولی جاتی ہے،نہ کلچر انکا ہوتا ہے اور نہ ہی رہن سہن؟ یہ لوگ اذان کی آواز تک نہیں سن سکتے اور پوری زندگی اوئے، ابے اور تیری … سننے کے لیے ترس ترس کر مر جاتے ہیں۔ ہمیں ماننا ہو گا اس ملک میں کوئی نہ کوئی آسیب، کوئی نہ کوئی سایہ اور کوئی نہ کوئی ایسی وبا ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے راجہ صاحب محمود آباد سے لے کر صبیحہ خانم تک کوئی اہم شخص اس ملک میں نہیں ٹکتا اور اگر وہ کسی مجبوری سے یہاں رہ بھی جائے تو وہ اپنے خاندان اور اپنے بچوں کو باہر منتقل کر دیتا ہے۔آخر ایسا کیوں ہے؟ ہم نے کبھی یہ سوچا ہے اور اگر آج تک نہیں سوچا تو پھر ہم کب سوچیں گے؟ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو دس بیس سال بعد کیا ہوگا! کیا ہمیں سمری اور ڈرافٹ لکھنے کے لیے بھی باہر سے لوگ منگوانا پڑیں گے؟ بقول جاوید چوہدری، آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ملک سے 90 فیصد نقل مکانی مارشل لاؤں اورنفاذ اسلام کی کوششوں کے دوران ہوئی۔ ہمارے ملک کی آخری بڑی شخصیت ڈاکٹر عبدالقدیر تھے اور وہ بھی یہ کہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے کہ ’’میں نے پاکستان آ کر غلطی کی تھی۔‘‘ ہم اگر اس صورت حال کی وجوہات تلاش کریں تو بے شمار وجہیں ہو سکتی ہیں لیکن دو وجوہات ان وجوہات کی ماں ہیں۔ پہلی غیریقینی صورت حال اور دوسری مذہب کی اپنی اپنی تشریح۔ آپ ملک کا کوئی شعبہ اٹھا لیں آپ کو وہ بری طرح غیر یقینی صورت حال کا شکار ملے گا۔ ہمارے ملک میں صدر، وزیراعظم اور چیف جسٹس سے لے کر اے سی اسلام آباد تک کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ’’میں کل بھی اس سیٹ پر ہوں گا یا نہیں۔ پارلیمنٹ تک کو یہ یقین نہیں ہم نے 17 نومبر کو جو 33 بل پاس کرائے ہیں وہ اگلے سال تک قائم رہیں گے یا نہیں یا ڈالر 178 روپے پر رہے گا یا 250 تک پہنچے گا؟ اس غیر یقینی صورت حال میں تو کوئی مرغی بھی انڈہ نہیں دیتی اور ہم ریاست چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ کیسے چلے گی؟
یہ بھی پڑھیں: چینلز کو اشہارات نہ دینے کی وائرل آڈیو میری ہے
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں 21 کروڑ لوگ ہیں اور 21 کروڑ ہی اسلام کی تشریحات بھی ہیں اور ہر شخص اپنی تشریح کی بنیاد پر دوسرے شخص کو قتل کرنے کے لیے تیاربیٹھا ہے لیکن ریاست اپنا منہ چھپاتی پھر رہی ہے لہٰذا یہ ملک کیسے چلے گا؟ لہذا بہتر یہی ہے کہ آپ یا تو تحریک لبّیک میں شمولیت اختیار کر لیں یا پھر ملک چھوڑ کر نکل جائیں اور اپنی جان بچا لیں۔ میں بھی انہی دو آپشنز پر غور کر رہا ہوں۔
