حسن نثار نے عمران کو دماغ استعمال کرنے کا مشورہ دے ڈالا

پی ٹی آئی حکومت کی مکمل ناکامی کے باوجود وزیراعظم عمران خان کی ستائش پر تلے رہنے والے لکھاری حسن نثار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے سائیڈ ایفکٹس اور آفٹر ایفکٹس سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور اب نئے پاکستان میں روٹی کے بعد پانی بھی نایاب ہونے جا رہا ہے۔ اپنے تازہ کالم میں حسن نثار سوال لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس کس شے کی کمی ہے؟ لیکن بے برکتی اور نحوست اتنی ہے کہ جان نہیں چھوڑ رہی بلکہ اس کی تہوں اور جہتوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔دلدل گھنی اور گہری ہوتی جارہی ہے حالانکہ ’’راہنما‘‘ اتنے ہی کہ گنے نہیں جاتے لیکن راہیں مسدود ہیں اور منزلیں غائب ہیں۔
حسن نثار کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایسا ایسا دانشور موجود ہے کہ جسے ہر مسئلے کا علم ہے اور اس کا حل بھی جانتا ہے۔ اسکے علاوہ پہنچے ہوئے پیروں فقیروں کی بھی کمی نہیں۔اولیا کرام کے مزاروں پر بھی رونقیں برقرار ہیں۔ مسجدیں بھی ماشااللہ آباد ہیں اور جمعہ کو تو سڑکوں پر بھی صفیں بچھانی پڑتی ہیں۔ لیکن افسوس کہ نئے پاکستان میں کوئی شے بھی اپنے اصل ٹھکانے پر نہیں۔ حکمرانوں کی آنکھیں ماتھے پر ہیں، ہونٹ کانوں کی جگہ، کان سر پر شفٹ ہو چکے، ناک گردن پہ، بازوئوں کی جگہ ٹانگیں اور ٹانگوں کی جگہ بازو نکل آئے ہیں۔ لیکن وہ بتاتے ہیں کہ تازہ ترین خوشخبری نے تو انکے حلق میں کربلا بچھا دیا ہے۔ خوشخبری نہیں ہے بلکہ ’’خشک خبری‘‘ یہ ہے کہ ’’واسا‘‘ نے پانی بھی 110 فیصد مہنگا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق ٹیرف تبدیلی کا یہ عمل 5 سال پر محیط ہو گا۔ پہلے سال پانی کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہو گا، دوسرے اور تیسرے سال 25 ،25، چوتھے سال 20 فی صد اور پانچویں سال 10 فیصد اضافہ ہو گا جسے ’’قسطوں میں موت‘‘ کا عنوان بھی دیا جا سکتا ہے۔
حسن نثار افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ ’’پنج آب‘‘ یعنی پانچ پانیوں کی سرزمین کے دارالحکومت لاہور میں ہو گا۔ اسکا بنیادی مقصد آئی ایم ایف کو خوش کرنے کی آڑ میں ’’واسا‘‘ کی آمدنی میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض بحالی کے لیے جو معاہدہ کیا ہے اس کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں بھی 30 روپے اضافے کا فیصلہ کیا گیس ہے۔ یہ اضافہ بھی قسط وار ہوگا، یعنی قسطوں میں موت بانٹی جائے گی، اور ہر مہینے بجلی کی قیمت بڑھائی جاتی رہے گی تا آنکہ 30 روپے پورے ہو جائیں۔
حسن نثار کہتے ہیں کہ پانی کی قیمتوں میں 110 فیصد اضافہ ہو جانے کے بعد لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، گجرانوالہ میں آب حیات نایاب ہو جائے گا چنانچہ ان شہر کے باسیوں کو چاہئے کہ وہاں سے ہجرت کر جائیں یا جتنا نہانا دھونا ہے ابھی نہا دھو لیں، جتنا پانی پینا ہے، اونٹ کی طرح اپنے اندر ذخیرہ کر لیں۔ خوشحال اور متمول لوگوں کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا لیکن جن غیور باشعور ہم وطنوں کو پہلے ہی دو وقت کی روٹی مسئلہ بنی ہوئی ہے ان کیلئے زندگی مزید مشکل ہو جائے گی کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے سائیڈ ایفکٹس اور آفٹر ایفکٹس آنا شروع ہو چکے ہیں۔
حسن نثار کہتے ہیں کہ نئے پاکستان میں کوئی شے اپنے اصل ٹھکانے پر نہیں اور اس کی منظر کشی اقبال کے اس شعر سے ہوتی ہے:
یہ بھی پڑھیں: بیلجیئم : ٹیسٹ ٹیوب بچوں کی پیدائش پر جرمانہ
زندگی کیا ہے، عناصر کا ظہور ترتیب
اور موت کیا ہے، انہی اجزا کا پریشاں ہونا
نئے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے حسن نثار معرعف شاعر ساغر صدیقی کا ایک شعر بھی سناتے ہیں جو کچھ یوں ہے:
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
حسن نثار کے مطابق ہمارے نظام میں جرم نہیں، جرائم سرزد ہوئے اور یہ نظام ایسا آدم خور ہے کہ مجرم نہ صرف تقریریں کرتے ہیں بلکہ آنکھیں بھی دکھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے تقریباً تیس سال ہو گئے مختلف انداز میں یہ عرض کرتے ہوئے کہ ارض پاک کا صدقہ اتارو اور یہ صدقہ کم از کم اس نظام کا ہونا چاہئے جسے ’’آدم خور نظام‘‘ لکھتے لکھتے میری انگلیاں گھس گئیں اور ایک بار پھر مکررارشاد ہے کہ پانی بھر بھر بوکے بالٹیاں نکالنا بند کرکے، ہوسکے تو اس اندھے کنویں سے مردہ کتے نکالو یعنی بنیادی اور جوہری تبدیلیاں لانے کا سوچو ورنہ جتنی مرضی ڈنڈ بیٹھکیں لگا لو ….کچھ نہیں ہو گا کہ نوبت روٹی کے بعد پانی تک جا پہنچی ہے اور ہوائوں فضائوں میں آلودگی پہلے ہی عروج پر ہے۔ صدقے کے بارے میں حسن نثار کہتے ہیں کہ یہ بلاؤں کو ٹالتا ہے اور ہمیں تو قدم قدم پر بلائوں کا سامنا ہے۔ تاہم وہ یاد دلاتے ہیں کہ ماڈرن زمانے کی بلائوں سے نمٹنے کیلئے ’’سربکف‘‘ ہونا ضروری نہیں، بلکہ سر کے اندر موجود مغز نامی شے کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک دماغ کا استعمال شروع نہیں ہوگا پاکستان کے حالات بھی صحیح نہیں ہو پائیں گے۔
