پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے خلاف سازش کون کر رہا ہے؟
پاکستان میں خطرناک حد تک بڑھنے والی فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل کیا جانا ضروری ہے جیسا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم پاکستان میں دو برس پہلے الیکٹرک گاڑیوں (Electric vehicles in Pakistan) کو فروغ دینے کی پالیسی لانے کے باوجود سازشی عناصر نے اسے کامیاب نہیں ہونے دیا چنانچہ آج پاکستان فضائی آلودگی کا گڑھ بن چکا ہے۔
وزارت ماحولیات کے اعلیٰ حکام نے حال ہی میں وفاقی حکومت کو یاد دلایا ہے کہ پاکستان میں تقریباً دو سال پہلے پرجوش گرین پالیسی متعارف کروائی تھی جس کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنا تھا لیکن اب حکومت یہ پالیسی بھلا بیٹھی ہے لہذا اس پر دوبارہ عمل شروع کیا جائے۔ اس پالیسی کے تحت 2030 تک ملک بھر میں 30 فیصد اور 2040 تک 90 فیصد الیکٹرک کاروں اور ٹرکوں کے استعمال کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اسنپالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں، ان کے پرزوں اور پاکستان میں کاروں کی تیاری کے لیے آلات کی درآمد پر ٹیکسز میں بڑا استثنیٰ دیا گیا تھا تا کہ لوگ پیٹرول سے الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل ہونا شروع ہوں۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو پاکستان میں ناکام بنانے کے لیے ملک میں موجود بڑی آٹو مینو فیکچرنگ کمپنیوں نے طاقتور لوگوں کے ساتھ ساز باز کرکے اس پالیسی کو دبا دیا تاکہ پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کا کاروبار خراب نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی سازش کے تحت ملک کے کسی بھی صوبائی دارالحکومت یا بڑے شہر میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے کوئی چارجنگ اسٹیشن نہیں لگایا جا سکا جہاں پر گاڑی کو چارج کیا جا سکے۔ الیکٹرک گاڑی خریدنے کے خواہشمند افراد کو بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ملک میں چونکہ کوئی چارجنگ اسٹیشن موجود نہیں اس لئے وہ الیکٹرک گاڑی خرید کر اپنے پیسے ضائع کریں گے۔ تاہم اب وزارت ماحولیات نے وفاقی حکومت کو دو سال پہلے لائی جانے والی پرجوش گرین پالیسی کو بحال کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے تمام بڑے شہر آلودگی کی خطرناک سطح کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاہور اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن چکا ہے۔ فاسل فیول سے بنے ایندھن کا بڑے پیمانے پر استعمال اور مخصوص موسم میں فصلوں کو جلانے سے اٹھنے والا دھواں سال کے اس حصے میں آلودگی کے مسئلے کو زیادہ سنگین بنا دیتا ہے۔
وفاقی حکومت کے تحت چلنے والے انجینیئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے جنرل مینیجر عاصم ایاز کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی وہ الیکٹرک کاریں،(Electric vehicles in Pakistan) جن میں 50 کلوواٹ آورز سے کم طاقت کی بیٹریاں لگی ہوئی ہیں، ان پر عائد جنرل سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ الیکٹرک کار کے درآمد کیے جانے والے حصے جن میں بیٹریاں، کنٹرولرز اور انورٹرز شامل ہیں، ان پر کسٹم ڈیوٹی ایک فیصد کر دی گئی ہے۔ مکمل تیار شدہ الیکٹرک کاروں کی درآمد پرعائد ڈیوٹی ایک سال کے لیے 25 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے اس پالیسی کی منظوری نومبر 2019 میں دی تھی اور اسکا مقصد نقل و حرکت کے نظام میں 2025 تک پانچ لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلز اور رکشے، ایک لاکھ الیکٹرک کاریں، وینز اور چھوٹے ٹرک لانا ہے۔
پاکستان الیکٹرک(Electric vehicles in Pakistan) وہیکلز اینڈ پارٹس مینیوفیکچررز اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شوکت قریشی کا کہنا ہے کہ ٹیکسز میں نئی کمی کا مطلب ہے کہ چھوٹی درآمدی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر پانچ لاکھ روپے تک بچت ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ایسوسی ایشن کے بہت سے ارکان نے مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی بار الیکٹرک گاڑیوں کا آرڈر دیا ہے۔ شوکت قریشی نے بتایا کہ انہوں نے چین سے ایک سو چھوٹی الیکٹرک گاڑیاں منگوانے کا آرڈر دیا ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ اس کے بعد وہ ہر ماہ سو گاڑیاں درآمد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انتشار اور فساد کی جڑیں
تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں بہت سے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانی بھی الیکٹرک گاڑیوں کی طرف آنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ چارجنگ کی سہولت کا فقدان اور ایک ’نامعلوم خوف‘ ہے۔ ماحولیات کے شعبے سے وابستہ علی توقیر شیخ کہتے ہیں اس کا حل یہ ہے کہ حکومت دفاتر، گھروں اور پارکنگ ایریاز کے قریب مزید چارجنگ سٹیشنز لگانے میں پرائیویٹ شعبے کی حوصلہ افزائی کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کا حل ضروری ہے تاکہ پاکستانی عوام کو زیادہ سے زیادہ الیکٹرونک گاڑیاں خریدنے کی جانب راغب کیا جاسکے۔
