کیا بجٹ کے بعد گاڑی خریدنا آسان ہو جائے گا؟


وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد حکومتی اعلانات کی روشنی میں یہ سوال زبان زد عام ہے کہ کیا اب گاڑیاں سستی ہوجائیں گی اور عام آدمی کے لیے نئی کار خریدنا آسان ہو جائے گا؟
سچ تو یہ یے کہ پاکستان میں اگر چھوٹی سی نئی گاڑی خریدنے نکلیں تو بھی جیب میں کم از کم دس سے گیارہ لاکھ روپے تو ضرور ہونے چاہیں۔ لیکن متوسط طبقے کے کسی تنخواہ دار آدمی کو اتنے پیسے جمع کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔
پاکستان میں مقامی طور پر 850 سی سی سے کم تین گاڑیاں بنتی ہیں کیونکہ یہ مقامی طور پر بن رہی تھیں تو توقع یہ تھی کہ یہ کم قیمت ہوں گی تاہم ایسا نہیں ہوا ہے۔جاپان کی سوزوکی کمپنی کی آلٹو گاڑی اور دو پاکستانی کمپنیوں کی چینی ٹیکنالوجی پر تیار کی جانے والی پرنس پرل اور یونائیٹڈ براوو مقامی طور پر اسمبل یا تیار کی جاتی ہیں۔ سوزوکی آلٹو کی تین اقسام ہیں۔ ان میں فیچرز کا فرق ہے۔ بہت ہی بنیادی آلٹو وی ایکس 11 لاکھ 98 ہزار روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس میں ائیر کنڈیشنر تک بھی موجود نہیں۔ اے سی کے ساتھ آلٹو وی ایکس آر ہے جس کی قیمت 14 لاکھ 33 ہزار روپے ہے۔اگر زیادہ فیچرز چاہیں تو آپ کو آلٹو وی ایکس ایل خریدنا پڑے گی جس کی قیمت 16 لاکھ 33 ہزار کے قریب ہے۔ یاد رہے یہ ایک چھوٹی 660 سی سی گاڑی ہے۔ سوزوکی کے بعد پرنس کی پرل کی قیمت 1149000 ہے جبکہ یونائیٹڈ براوو کی قیمت بھی لگ بھگ 1099000 ہے۔
گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ حکومت کی طرف سے ان سے ٹیکس کی مد میں اس قدر زیادہ پیسے لے لیے جاتے ہیں کہ ان کے لیے سستی گاڑی تیار کرنا ممکن نہیں رہتا۔ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں کوشش کی ہے کہ گاڑی ایک عام آدمی کی پہنچ میں لائی جائے اور اس کے لیے 850 سی سی سے کم انجن والی اور الیکٹرک یعنی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں پر ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ دی گئی ہے۔ اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیاں سستی ہو جائیں گی۔ تو کیا اب تنخواہ دار طبقے کے لوگ باآسانی گاڑی خرید پائیں گے۔
اس سوال کا جواب بیشتر لوگ نفی کی صورت میں دیتے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ وہ اب بھی چھوٹخ۔گاڑی نہیں خرید پائیں گی مگر ایسا کیوں ہے؟ مسئلہ یہ ے کہ اگر وہ الیکٹرک گاڑی کا آپشن دیکھتے ہیں تو پاکستان میں ایسی گاڑیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کوئی کمپنی مقامی طور پر تو ایسی کوئی گاڑی بنا ہی نہیں رہی۔یاد رہے کہ الیکٹرک گاڑیاں اس لیے سستی ہوں گی کیونکہ ان پر صرف ایک فیصد سیلز ٹیکس ہو گا۔ وفاقی حکومت کے مشیرِ خزانہ شوکت ترین کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ ’الیکٹرک گاڑیاں پاکستان میں مقامی طور پر بنیں۔ اس لیے کپمنیوں کو ٹیکس کی مد میں بڑی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے محض ایک فیصد کر دی جائے اور یوں الیکٹرک گاڑیاں باقی گاڑیوں سے بہت سستی ہوجائیں گی۔ لیکن بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں دستیاب نہیں۔ ملک میں جو چند ایک الیکٹرک گاڑیاں موجود ہیں وہ صارفین نے خود سے درآمد کر رکھی ہیں۔ ملک کے اندر گاڑیاں بنانے والی کوئی کمپنی تاحال الیکٹرک گاڑی نہیں بنا رہی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا مقصد ہی یہی ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کپمنیوں کو اس جانب راغب کیا جائے۔
سنیل احمد گاڑیوں کی خرید و فروخت اور گاڑیوں کی صنعت کے حوالے سے خبروں کے لیے مقبول پاک ویلز نامی مقامی ویب سائٹ کے چیئرمین ہیں اور پاکستان میں گاڑیوں کی صنعت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی آمد یا مقامی طور پر ان کی تیاری میں مسئلہ ٹیکس مراعات سے زیادہ بڑا ہے۔ سنیل نے بتایا کہ پاکستان میں تاحال صرف چار چارجنگ سٹیشنز ہیں۔ ان میں سے دو لاہور، ایک کراچی اور ایک اسلام آباد میں موجود ہے یعنی ایسے مقامات جہاں سے آپ الیکٹرک گاڑی میں چارجنگ کر پائیں گے وہ پورے ملک میں صرف چار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آپ الیکٹرک گاڑی میں لاہور سے اسلام آباد تک راستے میں چارچنگ کیے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔’یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کے موبائل کی بیٹری ختم ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ اگر راستے میں ختم ہو گئی تو آپ کیا کریں گے؟ اس لیے جب تک ملک میں چارجنگ سٹیشنز کا جال نہیں ہو گا اس وقت تک الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ نہیں ہو گی اور مانگ نہیں ہو گی تو کوئی کپمنی اس طرف سرمایہ کاری کیوں کرنا چاہے گی۔‘
سنیل احمد کے مطابق چارجنگ سٹیشنز کا یہ نیٹ ورک بھی ابتدائی طور پر حکومت کو خود بنانا پڑے گا کیونکہ نجی شعبے کو ایسے سٹیشن لگانے میں زیادہ مالی فوائد نظر نہیں آتے۔سنیل احمد کے خیال میں پاکستان میں اگر کوئی کپمنی الیکٹرک گاڑیوں پر سرمایہ کاری کرتی نظر آ رہی ہے تو وہ ایم جی ہے جو ایم جی زیڈ ایس نامی الیکٹرک گاڑی پاکستان میں متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ ایم جی ایک سابقہ برطانوی کپمنی تھی جو مکمل طور پر چینی کپمنی نے خرید لی تھی۔ حال ہی میں ایم جی ڈیلر شپ نے پاکستان میں چند گاڑیاں پاکستان میں متعارف کروائی ہیں جن میں زیادہ تر سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکلز شامل ہیں۔
تاہم لاہور کی ارشہ منیر کے مطابق ’ایک تنخواہ دار شخص کے لیے پاکستان میں چاہتے ہوئے بھی ایسی گاڑیاں خریدنا بہت مشکل ہے۔‘ تو ارشہ 850 سی سی سے کم انجن کی گاڑی کیوں نہیں خرید لیتیں؟ بجٹ میں وفاقی حکومت نے ان گاڑیوں پر بھی ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ملک میں مقامی طور پر بننے والی 850 سی سی اور اس سے کم انجن کی گاڑیوں پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے۔
نئے بجٹ میں حکومت نے ان گاڑیوں پر لاگو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں لیا جانے والا 2.5 فیصد ٹیکس ختم کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کر کے 12,5 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاک سوزوکی کے ترجمان شفیق احمد شیخ نے بتایا کہ ’حکومت کی طرف سے اس طرح کے اقدامات صارفین اور صنعت کے لیے خوش آئیند ہیں۔‘تاہم ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ اس کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں کتنی کمی آئے گی کیونکہ ’اس کے تعین میں وقت درکار ہو گا۔‘
سنیل احمد کی ویب سائٹ پاک ویلز کے مطابق اس کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں مقامی طور پر بننے اور اسمبل ہونے والی اس انجن کی تین گاڑیوں سوزوکی آلٹو، پرنس پرل اور یونائیٹڈ براوو کی قیمتوں میں 75000 روپے سے لے کر 115000 روپے تک کمی آئے گی۔ لیکن ارشہ میر کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس کمی کے بعد بھی پاکستان میں تیار کی جانے والی چھوٹی گاڑی نہیں خرید سکیں گی۔ ’ان تینوں میں سب سے بہتر میرے لیے آلٹو وی ایکس آر ہو گی جس میں کم از کم اے سی اور دوسرے فیچرز تو ہوں اور اس کی قیمت پھر بھی 14 لاکھ کے قریب ہو گی۔ میں اگر اپنی پرانی گاڑی بیچوں تو بھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوں گے کہ میں یہ گاڑی خرید سکوں۔ یہی وجہ ہے کہ ارشہ بجٹ میں دی جانے والی ٹیکس کی چھوٹ سے فوری طور پر زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں انھیں گاڑی تبدیل کرنے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا تاکہ جمع پونجی بڑھ سکے۔

Back to top button