کیا جسٹس عائشہ اب سپریم کورٹ کی جج بن پائیں گی؟


لاہور ہائیکورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کو دوبارہ سپریم کورٹ کا جج بنانے کی کوشش کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار نے ایک بار پھر انکا نام تجویز کرتے ہوئے 6 جنوری کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ اس مرتبہ جسٹس عائشہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی تجویز منظور ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ پچھلے اجلاس میں جسٹس دوست محمد خان نے جسٹس عائشہ کو ترقی دینے کی مخالفت کی تھی، جس پر یہ معاملہ چار چار ووٹوں سے ٹائی ہو گیا تھا اور وہ سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز حاصل نہ کر سکیں۔
تاہم اب جسٹس دوست کی بطور رکن جوڈیشل کمیشن مدت ختم ہوگئی ہے اور انکی جگہ جسٹس سرمد عثمانی رکن بن گئے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ جسٹس عائشہ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ تاہم یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا تھا لہذا اگر انہوں نے تقرری کی مخالفت کر دی تو یہ تازہ کوشش دوبارہ ناکام ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے چیئرمین خوشدل خان نے جسٹس عائشہ کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی کوشش پر ایک بار پھر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سنیارٹی کا اصول نظر انداز کر کے سپریم کورٹ لانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ انکا۔کہنا یے کہ تمام عدالتوں میں ججز کی تقرریوں پر سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے اور اعلیٰ عدلیہ میں تقرریان کرتے وقت پک اینڈ چوز کی پالیسی ختم ہونی چاہیے، بصورت دیگر وکلا برادری فیصلہ سازوں کے خلاف راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیگی۔
یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ ستمبر 2021 میں جسٹس عائشہ کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے وکلا برادری نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جونئیر جج کی پروموشن سے سینئر جج حضرات کا حق مارا جاتا ہے۔ لیکن اس موقع پر چیف جسٹس گلزار کا دایاں بازو سمجھے جانے والے پرو اسٹیبلشمنٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خاتون جج کی مخالفت کرنے والوں کے نام ریکارڈ پر لائے جائیں تاکہ تاریخ میں واضح رہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے کھڑا ہونے سے کس نے انکار کیا تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسا کرتے ہوئے بظاہر ایک اصولی موقف کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی گئی کیونکہ جسٹس عائشہ کی تقریر کی مخالفت صنفی بنیاد پر نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ جسٹس عمر عطا بندیال کے اس موقف کے باوجود جوڈیشل کونسل کے چار ممبران نے جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کے مطابق کسی جونئیر جج کو سپریم کورٹ میں تعینات نہیں کیا جاسکتا۔ بعد ازاں ان چار حضرات کے نام بھی قتل کردیئے گئے۔ تاہم دوسری جانب جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایسا ان کے خاتون ہونے کی وجہ سے نہیں کی بلکہ اصولوں کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ اور پنجاب سے جونیئرز ججز کو سپریم کورٹ میں لایا جارہا ہے اور سینیارٹی کے اصول کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ بار نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن یا کسی اور بار ایسوسی ایشن نے جج عائشہ ملک کی مخالفت صنفی بنیادوں پر کی جا رہی یے۔
اس معاملے پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ وکلاء برادری کسی بھی جج کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیادوں پر نہیں کرتی بلکہ اس کا مطالبہ میرٹ کا اور سینیارٹی کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شعبہ وکالت میں خواتین کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور ان کو اور بھی دوسرے مسائل کا سامنا ہے لیکن جج عائشہ ملک کی تقرری کی مخالفت صنفی بنیاد پر نہیں کی جا رہی بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں تقرریاں کرتے وقت سینیارٹی کے اصول کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وکلاء برادری ان چیزوں کی مخالفت کر رہی ہے اور اس صرف کسی خاتون جج کی مخالفت نہیں کی جا رہی بلکہ ان مردوں کی بھی مخالفت کی جا رہی ہے جو سنیارٹی نہیں رکھتے لیکن وہ اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے حق میں ووٹ دینے والوں میں چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید جان اور وزیر قانون فروغ نسیم شامل تھے جس کا مطلب یہ ہوا کہ وفاقی حکومت جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی پوری کوشش کر رہی تھی جو کہ ناکام رہی۔ عائشہ ملک کی تقرری کی مخالفت میں ووٹ دینے والوں میں پاکستان بار کونسل کے نمائندے اختر حسین کے علاوہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس سردار طارق مسعود اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ر) دوست محمد شامل تھے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی جوڈیشل کمیشن کے ممبر تھے لیکن وہ اپنی اہلیہ کے علاج کے سلسلے میں بیرون ملک ہونے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ معاملہ ایک مرتبہ پھر یا تو ٹائی ہو جائے یا عائشہ ملک کا نام مسترد ہو جائے۔

Back to top button