کیا جیت کر یوسف رضا گیلانی سینیٹ چیئرمین بن سکتے ہیں؟

مارچ کے سینیٹ الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن کے انتخابی میچ میں نہ صرف صوبوں سے عمران خان کی تحریک انصاف کو سرپرائزز مل سکتے ہیں بلکہ اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں ان کے چیئرمین سینیٹ بننے کے امکانات بھی روشن ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرے۔ یاد رہے کہ اسلام آباد سے سینٹ کی واحد نشست کے لیے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ ہیں جبکہ گیلانی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہیں۔
سینئر صحافی سلیم صافی اپنے تازہ ترین تجزیے میں تحریک انصاف کے ہمدردوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اگر آپ پی ٹی آئی کے ایم این ہوتے تو آپ کیا حفیظ شیخ کو خوشی سے ووٹ دے کر سینیٹر منتخب کروا دیتے؟ وہ حفیظ شیخ جو پہلے مشرف کے ساتھ تھے، پھر زرداری کے ساتھ اور اب مستقل آئی ایم ایف کے ساتھ ہیں۔ وہ حفیظ شیخ جو حکومت میں تو شامل ہیں لیکن پی ٹی آئی میں سینیٹ کا ٹکٹ ملنے کے بعد شامل ہوں گے۔ صافی کہتے ہیں کہ یہ وہی حفیظ شیخ ہیں جو روز مہنگائی کروا کر، عوام۔پر ٹیکس بڑھوا کر، بجلی اور گیس مہنگی کروا کر پی ٹی آئی کے ایم این ایز کو اپنے حلقے میں ووٹرز کے سامنے شرمندہ کروا رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عمران خان کے ساتھ پندرہ بیس سال تک جھک کچھ اور لوگوں نے ماری لیکن حفیظ شیخ روز عمران خان کے پاس بیٹھے انہیں ڈکٹیٹ کروا رہے ہوتے ہیں جبکہ پارٹی کے ایم این ایز عمران خان تو کیا ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے بھی ملنے کا تصور نہیں کرسکتے۔
سلیم صافی کے مطابق پی تی آئی کے عام ایم این ایز تو کیا، خود اسد عمر بھی کیا دل سے چاہیں گے کہ ان کو وزارت خزانہ سے نکالوانے والے حفیظ شیخ سینیٹر بن کر ان کے لئے مستقل چیلنج بن جایئں؟ وہ پوچھتے ہیں کہ آپ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ ثانیہ نشتر کو کیوں خوشی سے اپنا ووٹ دیں گے جو اب ٹکٹ ملنے کے بعد پارٹی میں شامل ہورہی ہیں ۔ آپ فیصل سلیم کو کیوں ووٹ دیں گے جن کی واحد کوالیفکیشن یہ ہے کہ وہ بڑی سگریٹ انڈسٹری کے مالک اور پارٹی کے کچھ رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔ آپ اگر پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ہیں تو آپ علی ظفر کو کیوں خوشی سے ووٹ دیں گے جن کا ماضی میں پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کے والد ایس ایم ظفر مسلم لیگی اور پرویز مشرف کے وزیرقانون تھے لیکن علی ظفر نے پی ٹی آئی حکومت پہلے جوائن کی اور پارٹی میں اب شمولیت اختیار کریں گے۔ صافی سوال کرتے ہیں کہ آپ اگر سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ہیں تو سیف اللہ ابڑو کو ووٹ کیوں دیں گے جن کی واحد کوالیفیکیشن ارب پتی ہونا ہے اور جن کے بارے میں خود پی ٹی آئی سندھ کے عہدیدار تحریری شکایت کرچکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔ ویسے سچ تو یہ یے کہ بدنام صرف جہانگیر ترین تھے کہ وہ عمران خان صاحب کے اے ٹی ایم ہیں لیکن یہاں تو پتہ چلا کہ پی ٹی آئی میں ہر طرف اے ٹی ایم ہی اے ٹی ایم ہیں اور خود پارٹی عہدیداروں کے شکایتی خطوط میں نشاندہی کی جارہی ہے کہ فلاں امیدوار ، فلاں رہنما کا اے ٹی ایم ہے۔
صافی کہتے ہیں کہ معاملہ یہاں پر آکر نہیں رکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ سینیٹ الیکشن میں جبکہ عمران خان ابھی ایکسپوز نہیں ہوئے تھے اور حفیظ شیخ ، زلفی بخاری اور ثانیہ نشتر جیسے پیراشوٹرز ابھی نہیں اترے تھے، تب بھی صرف پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے دو درجن ایم پی ایز جن میں ایک وزیر اور ایک مشیر بھی شامل تھے، بک گئے تھے۔ تو نہ جانے اب موجودہ دور میں کیا صورتحال ہوگی؟ لیکن صافی کے مطابق مسئلہ اس بار ایک اور حوالے سے بھی سنگین ہے۔ وہ یوں کہ پرویز خٹک ، اسد قیصر اور اسد عمر جنہیں سینیٹ الیکشن کے دوران لوگوں کو قابو رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ بھی دل سے کام نہیں کریں گے ۔ دوسری طرف پنجاب میں اصل گرو گورنر چوہدری سرور ہیں لیکن وہ پچھلی مرتبہ کی طرح زور نہیں لگائیں گے اور جہاں تک بزدار صاحب کا تعلق ہے وہ تو اس معاملے میں بھی جادو کی چھڑی کے منتظر رہیں گے ۔ بلوچستان میں جب انتخابات ہورہے تھے تو صوبائی صدر سردار یار محمد رند تھے لیکن اب ان سے صدارت لے لی گئی ہے اور صوبے کو زونز میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ رند صاحب جام کی کابینہ کے رکن ہیں لیکن جام اور رند کے ٹکراو کا یہ عالم ہے کہ بات چیت تک بند ہے ۔ بلوچستان کے سب سے بڑے قبیلے اور ماضی میں وفاقی وزیر رہنے والے یار محمد رند سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی ہوئی ۔ عمران خان وہاں پارٹی معاملات کے لئے ڈپٹی ا سپیکر قاسم سوری کی طرف دیکھتے ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کیسے منتخب ہوئے اور اب الیکشن ٹریبونل سے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد کیسے سپریم کورٹ کے سٹے آرڈر پر چل رہے ہیں۔
صافی کے مطابق سندھ کی حالت اور بھی تشویشناک ہے۔ وہاں کی تنظمیں ابڑو کے بارے میں تو واضح کرچکی ہیں کہ وہ بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔ دوسری طرف فیصل واوڈا کو عمران خان نے ٹکٹ دے دیا ہے اور وہ بہ ہر صورت انہیں سینیٹ میں لانا چاہتے ہیں لیکن گورنر عمران اسماعیل اور علی زیدی فیصل واوڈا کی جگہ محمود مولوی کوسینیٹر بنوانا چاہتے ہیں جو ارب پتی ہونے کے ساتھ ساتھ علی زیدی کے بھی لاڈلے ہیں۔ تاہم عمران خان نے سندھ کے پارٹی ایم پی ایز کی جانب سے فیصل واڈا کے خلاف کیے جانے والے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ان کا سینیٹ ٹکٹ برقرار رکھا ہے۔ ظاہر ہے فیصل واوڈا ان کا پرانا ارب پتی دوست ہے۔
دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتوں نے اس مرتبہ ٹکٹوں کی الاٹمنٹ میں کافی حد تک میرٹ سے کام لیا ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے بھی بعض ٹکٹ صاحب ثروت لوگوں کو الاٹ کئے ہیں لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کہ جن کو پارٹی میں نووارد یا پیراشوٹر سمجھا جائے۔ پیپلز پارٹی نے رحمان ملک کو ڈراپ کرکے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا ہے جن کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیس بھی پوری نہیں ہورہی تھی جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں اکثریت مریم نواز گروپ کی نظر آتی ہے جو کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
تاہم سب سے دلچسپ کام پی ڈی ایم نے اسلام آباد سے یوسف رضاگیلانی کو مشترکہ امیدوار بنا کر کیا ہے۔ اگر خفیہ ووٹنگ ہو تو اس صورت میں گیلانی کی یقینی جیت کے بارے میں پی ڈی ایم کی قیادت مطمئن ہے۔ تاہم یوسف رضا گیلانی کے امیدوار بننے سے حفیظ شیخ کی سینٹ میں کامیابی کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔ گیلانی کی ذاتی رشتہ داریاں جی ڈی اے کے رہنماوں سے لے کر پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ کابینہ میں کئی ایک جبکہ قومی اسمبلی میں درجنوں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہیں یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم بہت نوازا ہے۔ یوں اصل مقابلہ مرکز میں ہوگا ۔ اور اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو اپوزیشن اسے عمران خان پر عدم اعتماد سے تعبیر کرے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ اپوزیشن گیلانی کی جیت کے بارے میں زرداری فارمولے کی وجہ سے مطمئن ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پی ڈی ایم کے پہلے والے موقف سے دستبردار کروانے کے بدلے میں یقین دلایا گیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں وہ کچھ نہیں ہوگا جو 2018 کے الیکشن میں یا پھر گلگت بلتستان کے الیکشن میں یا پھر چیرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے میں ہوا۔
یوں اگر مقابلہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا رہے تو اس صورت میں اپوزیشن کی جیت یقینی نظر آتی ہے لیکن اگر 2018 کے الیکشن، چیئرمین سینیٹ یا گلگت بلتستان کے الیکشن جیسے عمل کو دہرایا گیا تو اس صورت میں حکومت کی جیت یقینی ہوگی۔ صسفی کہتے ہیں کہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا میچ ہونے کی صورت میں صوبوں سے بھی پی ٹی آئی کو سرپرائزز مل سکتے ہیں اور اس صورت میں گیلانی کے چیرمین سینیٹ بننے کے چانسز بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن اگر ماضی کو دہرایا گیا تو پھر شاید زرداری صاحب اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنما ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button