سینیٹ الیکشن میں PMLN کے تمام امیدوار اسٹیبلشمنٹ مخالف

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے پابند سلاسل ہونے کے بعد پارٹی پر مریم نواز کی گرفت مضبوط ہو گئی ہے جسکا بڑا ثبوت یہ یے کہ ماضی کی روایات کے برعکس مسلم لیگ ن نے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کے داعی پارٹی رہنماؤں کو سینیٹ کے ٹکٹ جاری کر دئیے ہیں۔ اسکے برعکس ماضی میں سینیٹ کے انتخابات میں سیاسی جماعتیں عموماً ان لوگوں کو ٹکٹ دیتی رہی ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والے سمجھے جاتے تھے اور سیاسی جماعتوں میں رابطہ کار کے طور پر کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل باجوہ کے ساتھ ماضی قریب میں ملاقاتیں کرنے والے سابق گورنر سندھ محمد زبیر کو سینیٹ کا ٹکٹ نہیں دیا گیا حالانکہ وہ اسکے خواہشمند تھے اور ان کا خیال تھا کہ نواز لیگ کا ترجمان ہونے کی وجہ سے ان کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز لیگ میں اس مرتبہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حمایتی عناصر کی بجائے آمریت مخالف موقف رکھنے والے لوگوں کو آگے لایا گیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی جانب سے ’دونوں جانب کھیلنے والے‘ امیدواروں کو پارٹی ٹکٹس کیلئے ترجیح دی گئی ہے۔ مسلم لیگ نون نے پنجاب سے پرویز رشید، مشاہد اللہ خان، علامہ ساجد میر، اعظم نذیر تارڑ، سعدیہ عباسی زاہد حامد، سیف الملوک کھوکھر، سائرہ افضل تارڑ، عرفان صدیقی، بلیغ الرحمن، اور سعود مجید کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے ہیں جبکہ ماضی کی نسبت اس مرتبہ کسی بھی ریٹائرڈ فوجی افسر کو سینیٹ کے لیے امیدوار نامزد نہیں کیا گیا۔
مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کے مطابق نون لیگ کی قیادت نے پارٹی کے بہترین ناموں کو سینیٹ الیکشن خے لیے میدان میں اتارا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ ہی اب پارٹی کا نظریہ ہے۔ پرویز رشید ہو، مشاہد اللہ خان یا پھر سعدیہ عباسی، ہر کوئی اس نعرے کے ساتھ مکمل کھڑا ہے اور دو قدم آگے ہینظر آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ نے پنجاب میں سیتوں سے زیادہ ٹکٹ کسی غیر متوقع نااہلی کے پیش نظر جاری کی ہیں اور انہیں یقین ہے کہ الیکشن والے دن نون لیگ کے ووٹ کم نہیں بلکہ ذیادہ ہو جائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے امیدواروں اور یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ گیلانی کی جمہوریت کے لیے لازوال قربانیاں ہیں اور وہ تمام جماعتوں کے نزدیک عزت وتکریم رکھتے ہیں۔ انکامکہنا تھا کہ نون لیگ کی نظر میں وہ سینیٹ میں قائد ایوان کے لیے بھی بہترین چوائس ثابت ہوں گے۔
دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی منظر نامے میں کوئی سیاسی جماعت بھی ایسی نہیں جو براہ راست ریاستی ادارے سے ٹکر لے۔ انکامکہنا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ بھی ایک حد تک ہی رہے گا اور شاید پیپلز پارٹی قیادت کی جانب سے سمجھانے کے بعد نون لیگ کی قیادت فوجی اسٹیبلشمنٹ پر ’ہاتھ ہلکا‘ رکھنے پر آمادہ ہوتی نظر آ ئی ہے۔ سینیٹ کے امیدواروں کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے حفیظ شیخ جیسے آئی ایم ایف کے نوکروں کو سینیٹ کا ٹکٹ نواز کر اپنی ساکھ مذید خراب کی ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگر حفیظ شیخ یوسف رضا گیلانی سے شکست کھانے سے بچ کر سینیٹر بن جاتے ہیں تو عمران جدوجہد کرنے والے کارکنان کو کیا جواب دیں گے۔
نواز لیگ کی جانب سے فوجی اسٹیبلشمنٹ مخالف امیدواروں کی نامزدگی پر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایوان میں چند اینٹی اسٹیبلشمنٹ افراد لانے سے کسی جماعت کا بیانیہ نہیں پرکھا جا سکتا۔ تاہم سچ یہ ہے کہ نواز لیگ نے جن لوگوں کو سینٹ کے ٹکٹ دیے ہیں ان میں سے زیادہ تر اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کی وجہ سے بدنام ہیں۔ ایسے لوگوں میں پرویز رشید، مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی منایا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button