علی سدپارہ اور برطانوی کوہ پیما ماں بیٹا، تین کرداروں کا انوکھا تعلق

یہ پہلا واقعہ نہیں کہ آسمان سے باتیں کرتے برف پوش کے ٹو پہاڑ کو سر کرنے کی دھن میں مگن کوئی بازیگر حادثے کا شکار ہوکر ہمیشہ کےلیے لاپتہ ہوگیا ہو یا جان کی بازی ہار گیا ہو، تاہم برطانوی خاتون کوہ پیما ایلیسن، ان کے بیٹے ٹام بلارڈ اور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ میں ضرور کوئی ربط خاص تھا کہ یہ تینوں پہاڑوں میں ہمیشہ کےلیے امر ہوگئے۔

یاد رہے کہ برطانوی کوہ پیما ایلیسن کے ٹو کی چوٹی سر کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو کر ہمیشہ کےلیے کے ٹو کی برفانی دنیا کا حصہ بن گئیں تھیں۔ بعد ازاں ایلیسن کے بیٹے ٹام کو بھی پہاڑوں کا عشق لے ڈوبا۔ ٹام نے نانگا پربت سر کرتے ہوئے جان کی بازی ہاری۔ ٹام کو نانگا پربت کے برف زاروں میں کھوجنے کے لیے محمد علی سدپارہ پہنچے، اور آج سدپارہ خود بھی کے ٹو کے برف زاروں کا حصہ بن چکے ہیں اور انکا کھوج لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ بظاہر عام سے نظر آنے والے کچھ خاص لوگوں کی کہانی ہے۔

اس مثلث کی پہلی کڑی ایلیسن ہے۔ وہ انگلینڈ کے علاقے ڈربی شائر کے ایک چھوٹے سے گھر میں 17 فروری 1962 کو پیدا ہوئیں۔ کوہساروں سے محبت ایلیسن کو ورثے میں ملی تھی کیوں کہ اُن کے والد اور والدہ کو پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق تھا۔ چھ سال کی عمر سے وہ والدین کے ساتھ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے پہاڑوں پر جاتی رہیں اور یوں بلندیوں کا خوف ان کے دل سے نکل گیا۔ ایلیسن کے والد بتاتے ہیں کہ وہ نو کی سال تھیں جب وہ ہمارے ساتھ بین نیوس پر چڑھیں جو برطانیہ کا بلند ترین پہاڑ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اچانک تیزی سے ہم سے آگے نکل گئی۔ ہم بہت ڈر گئے تھے مگر ہم نے دیکھا کہ وہ انتہائی بلندی پر بلاخوف و خطر بہت خوش بیٹھی ہوئی تھی۔
جب ایلیسن 16 سال کی ہوئیں تو ان کی ملاقات ایک غیر معروف کوہ پیما جم بلیرڈ سے ہوئی جن کی کوہ پیمائی کے سامان کی دکان بھی تھی۔ ایلیسن کو بلیرڈ سے محبت ہوگئی، شاید ان کے درمیان محبت کےلیے پہاڑ قدر مشترک تھے۔ کچھ عرصے بعد دونوں نے شادی کر لی۔

اب ایلیسن اپنا وقت کوہ پیمائی کی تربیت میں گزارتیں۔ اردگرد کے پہاڑوں پر وہ بلا رُکے دو دو گھنٹے دوڑتی رہتیں۔ اب ان کی ابتدائی منزل یورپ کے ایلپس کے پہاڑی سلسلے کی چوٹیاں تھیں۔ شوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیسہ تھی۔ ایلیسن جانتی تھیں کہ اسپانسر شپ بھی انہی کوہ پیماﺅں کو ملتی ہے جو خود کو اس کا اہل ثابت کر چکے ہوتے ہیں۔ عالمی کوہ پیما بننے کےلیے ایلیسن کو کچھ کر دکھانا تھا۔ ان کے شوہر نے ایلیسن کے شوق کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ وہ ایلیسن کے خوابوں کو تعبیر دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنا گھر بیچا اور سوئٹزر لینڈ کے ایک پہاڑی علاقے میں منتقل ہوگئے تاکہ ایلیسن کو کوہ پیمائی کی مشق کےلیے سہولت رہے۔ یہ قربانی رنگ لائی اور ایلیسن نے ایک سیزن میں تن تنہا ایلپس کی چھ چوٹیاں سر کرکے ایک عالمی ریکارڈ بنا لیا۔ کوہ پیمائی کے حلقوں میں ایلیسن کا نام گونجنے لگا اور اب اسپانسر شپ کا مسئلہ بھی کسی حد تک حل ہوگیا۔
اب ایلیسن کی منزل ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ تھی۔ انہیں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماﺅنٹ ایورسٹ سر کرنا تھی۔ سنہ 1994 میں پہلی بار ایلیسن نے قسمت آزمائی کی مگر موسم کے خراب ہونے پر چوٹی سے صرف 1500 فٹ کے فاصلے سے انہیں واپس آنا پڑا کیوں کہ وہ فراسٹ بائٹ کا شکار ہو رہی تھیں۔ ایلیسن کا کہنا تھا کہ ان کے ہاتھوں کی انگلیاں اور پیروں کے پنجے سن ہو چکے تھے اور اگر وہ چڑھائی جاری رکھتیں تو انہیں اپنے ہاتھ پیر کھونے پڑ سکتے تھے۔ 13 مئی 1995 کو بالآخر ایلیسن کا جنون کامیاب ہوا اور انہوں نے ماﺅنٹ ایورسٹ کو سر کیا۔ اس بار بھی ایلیسن نے ریکارڈ قائم کیے۔ وہ ایورسٹ سر کرنے والی دوسری خاتون تھیں اور تنہا بنا کسی مدد کے، بنا آکسیجن کے ایورسٹ سر کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔
ماﺅنٹ ایورسٹ کی تسخیر کے بعد اب ایلیسن کی نظریں دنیا کی دوسری اور تیسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور کنچن گنگا پر تھیں۔ انہوں نے پہلے کے ٹو کا پروگرام بنایا اور بچوں کے ساتھ زندگی کے یادگار دو ہفتے گزار کر وہ کے ٹو کی کوہ پیمائی کےلیے جون 1995 میں پاکستان پہنچ گئیں۔ اس بار بھی ان کا مشن کے ٹو کی چوٹی کو بنا کسی آکسیجن اور تنہا سر کرنا تھا۔ جون 1995 کے دوران ایلیسن کے ٹو بیس کیمپ پہنچ چکی تھیں۔ لیکن کے ٹو پر ایلیسن کا سفر ناکامی سے دوچار ہوا اور وہ چوٹی سر کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئیں۔
ایلیسن کو کے ٹو پر پیش آنے والے حادثے کے حوالے سے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ ایلیسن سے پہلی غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے پہلی ویدر ونڈو یعنی موزوں موسم چھوڑ دیا۔ کوہ پیماﺅں کے نزدیک یہ ایلیسن کی سب سے بڑی غلطی تھی اور پھر انہیں واپس آ جانا چاہیے تھا لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور اگست 13 کی ایک صبح چوٹی سر کرکے واپسی کے سفر میں حادثے کا شکار ہوگئیں۔ غالباً وہ ایک برفانی طوفان کے راستے میں آ گئی تھیں۔

کوہ پیما اور ریسرچر عمران حیدر تھہیم کا کہنا ہے کہ ایلیسن بہت اچھی کوہ پیما تھیں لیکن کے ٹو کے سفر میں ان سے فیصلے کی غلطی ہوئی۔ ’اوپر بڑھتے ہوئے انہوں نے موسم کا زیادہ خیال نہیں رکھا۔ وہ جس وقت اوپر بڑھ رہی تھیں، قریب ہی تین چار کوہ پیما اور تھے جو نیچے اتر رہے تھے۔۔۔ انہوں نے بتایا کہ جب ہم نیچے اترے تو ہمیں علم ہوا کہ چین کی جانب کوئی طوفان بن رہا ہے جو خطرنک ثابت ہو سکتا ہے مگر ان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ وہ ایلیسن کو آگاہ کرتے۔‘
بعد ازاں ایلیسن کی مردہ حالت میں شناخت ہوگئی تھی اور شناخت کا سبب اس کے چمکیلے سبز جوتے تھے۔ ان کی لاش واپس نہ لائی جا سکی اور یوں وہ ہمیشہ کےلیے پاکستانی برف زاروں کا حصہ بن کر امر ہو گئیں۔
اسی طرح ایلیسن کے بیٹے ٹام بلیرڈ 24 سال بعد نانگا پربت سر کرنے آئے تھے، انہی فضاؤں میں جہاں ان کی والدہ نے آخری سانسیں لی تھیں۔ وہ اپنی ماں کی طرح ہی بہادر اور بے خوف تھے۔ ان کی عزائم پختہ مگر تجربہ نسبتاً کم تھا۔
عمران حیدر کہتے ہیں ٹام ناتجربہ کار تھے۔ ’انہیں نانگا پربت جیسے ٹیکنیکل پہاڑ پر چڑھنے کا کوئی تجربہ نہ تھا۔‘
یاد رہے کہ انسانی جسم اتنی آسانی سے بلندیوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا ہے۔ ضروری ہے کوہ پیما ان مخصوص بلندیوں سے آشنا ہو اور ان کا جسم باہری درجہ حرارت کو جان چکا ہو۔
عمران حیدر نے مزید کہا کہ ’ٹام کا ساتھی کوہ پیما ڈینیئل نارڈی نانگا پربت کو سر کرنے میں چھ بار ناکام رہا تھا۔ ایک ’ناتجربہ کار اور ایک ناکام کوہ پیما‘ پر مشتمل اس ٹیم کو کامیاب ہونے کےلیے کسی بھی طرح مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔‘
اس ٹیم سے سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ چوٹی پر پہنچنے کےلیے نارمل راستہ یعنی دیامیر فیس کے بجائے انتہائی خطرناک روٹ یعنی جارج میمری کا دریافت کردہ روٹ ’میمری اسپور‘ کا انتخاب کیا۔

اس وقت دنیا کی آٹھ ہزار میٹر سے بلند تمام 14 چوٹیاں سر کرنے والے کوہ پیماﺅں کے رہبر اٹلی کے میسنر کا کہنا ہے کہ ’یہ سوسائیڈل روٹ ہے، جسے خودکشی کرنا ہو وہ یہ راستہ اختیار کرے۔‘ اس راستے پر مسلسل برفانی طوفان آتے رہتے ہیں اور تودوں کا گرنا عام بات ہے۔
عمران حیدر کے مطابق ٹام اور ڈینیئل کو پہلا حادثہ بیس کیمپ سے اوپر پیش آیا تھا جب ایک ایوا لانچ نے ان کا کیمپ تباہ کر دیا اور یہ دونوں بھی ایک دراڑ میں گر گئے تھے۔ ان کے ساتھ جو ہائی ایلٹی ٹیوڈ پورٹر رحمت اللہ بیگ تھے، وہ ان سے پیچھے تھے لہٰذا محفوظ رہے تھے۔

انہوں نے ان دونوں کو دراڑ سے نکالا اور ان کے ساتھ مزید آگے جانے سے انکار کر دیا۔ رحمت اللہ کا کہنا تھا کہ ’آپ لوگ خود کشی کرنے جا رہے ہیں جب کہ ہمارے مذہب میں خودکشی حرام ہے، اس لیے میں نہیں جاﺅں گا۔‘ ایوا لانچ سے کیمپ کے ساتھ ساتھ تمام سامان بھی تباہ ہوگیا تھا۔ ٹام اور ڈینئل نے رحمت اللہ کی بات پر بھی کان نہیں دھرے اور انہیں مزید سامان لینے بھیج دیا اور خود آگے بڑھ گئے۔ 5700 میٹر کی بلندی پر پہنچ کر ٹام اور ڈینیئل کا رابطہ سب سے کٹ گیا اور وہ لاپتہ ہوگئے۔
ٹام بلیرڈ اور ڈینیئل کے سرچ آپریشن کےلیے تجربہ کار پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی مدد لی گئی۔ کئی روز تک یہ آپریشن چلتا رہا، علی سدپارہ ساتھ ساتھ رہے۔ ہیلی اور ڈرون سے ہائی ریزولوشن تصاویر لی گئیں اور پھر ایک تصویر میں ایک ٹینٹ اور ان دونوں کی لاشیں نظر آ گئیں۔ اور دونوں کو مردہ قرار دے کر سرچ مشن بند کر دیا گیا۔

ماں ایلیسن کے ٹو پر اور بیٹا نانگا پربت کی بلندیوں سے کبھی واپس نہ آسکے۔ اس مثلث کے تیسرے کردار محمد علی سدپارہ ہیں جنہیں آج پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ محمد علی سدپارہ ایک تجربہ کار کوہ پیما تھے اور انہیں 8000 میٹر سے زائد دنیا کی 14 بلند چوٹیوں میں سے آٹھ سر کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ کوہ پیمائی کے حوالے سے انہیں جنونی اور دھن کا پکا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے جنون کو پہلی کامیابی سنہ 2006 میں گشہ بروم دوم کی تسخیر سے حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ سنہ 2008 اور سنہ 2009 میں مسلسل نانگا پربت جیسے خطرناک پہاڑ کو سر کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ پاکستان کے پہلے کوہ پیما تھے جس نے موسم سرما میں قاتل پہاڑ نانگا پربت کو سر کیا تھا۔ اس سفر میں ٹیم لیڈر بھی اس بات کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوگئے کہ محمد علی سدپارہ کے عزم و ہمت کے بغیر ہم یہ کارنامہ سرانجام دینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اور یہ کارنامہ بھی فروری میں سرانجام دیا گیا۔
حال ہی میں محمد علی سدپارہ پانچ فروری 2021 کو سردیوں میں کے ٹو کی چوٹی سر کرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے۔ ان کے ساتھ آئس لینڈ کے جان سنوری اور چلی کے کوہ پیما بھی ہیں۔
محمد علی کا بیٹا ساجد سدپارہ بھی ان کے ساتھ تھا لیکن آکسیجن سلینڈر میں خرابی ہونے کے باعث ساجد کو محمد علی سدپارہ نے واپس بھیج دیا تھا۔ ساجد نے آخری بار والد کو بوٹل نیک سیکشن سے آگے بڑھتے دیکھا تھا۔ اس کے بعد یہ ان تینوں کا رابطہ بیس کیمپ سے منقطع ہوگیا۔ یہ تینوں اب تک لاپتا ہیں، پاک آرمی کا سرچ مشن جاری ہے مگر ان کا کہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا۔ ساجد کے بیان کے مطابق وہ پانچ فروری کی صبح کے ٹو کے مشکل ترین حصے سے آگے بڑھ رہے تھے جہاں سے چوٹی تک پہنچنا مشکل نہیں ہے لہٰذا گمان ہے کہ انہوں نے چوٹی سر کرلی ہو گی، اور واپسی کے سفر میں کوئی حادثہ پیش آیا ہوگا۔ کیا ہوا اور کیسے ہوا؟ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔
محمد علی سدپارہ اب قومی یکجہتی کی علامت بن چکے ہیں۔ انہیں پورے پاکستان کی محبت حاصل ہے۔ اس کی بخیریت واپسی کےلیے پاکستان کا ہر فرد دعاگو ہے لیکن افسوس کہ ایلیسن اس حوالے سے اتنی خوش قسمت نہ تھیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ میں وہ زندگی اور موت کے بعد بھی ہدف تنقید بنی رہی۔ ایلیسن کی بیٹی کیٹ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کی ماں کی پسندیدہ کہاوت تھی کہ ’چیتے کی طرح ایک دن، بھیڑ کی طرح ہزار دن سے بہتر ہے۔‘
آج ایلیسن، ان کا بیٹا ٹام ابدی دنیا کے مکین ہیں اور انہیں کھوجنے والا علی سدپارہ بھی وہیں کہیں ہے۔ کے ٹو کے برف زاروں پر ایلیسن نے محمد علی سدپارہ کا شکریہ ضرور ادا کیا ہو گا کہ انہوں نے ان کے چہیتے بیٹے کی جانفشانی سے تلاش کی تھی، وہ بیٹا جو بچپن میں ماں سے بچھڑ چکا تھا اب اس ابدی سفید دنیا میں ہمیشہ کےلیے ماں کے ساتھ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button