سینیٹر علی ظفرکاحکومت کوعمران خان کی صحت پرسیاست نہ کرنےکامشورہ

سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ میں بحث کے دوران کہا ہے کہ حکمران عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کریں، کل کو ہم بھی حکومت میں آ سکتے ہیں۔
سینیٹ کا اجلاس پریذائیڈنگ افسر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا، جس میں بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لے جانے اور سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید بحث ہوئی۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ وہ ایک قرارداد پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حضرت علی کا قول بیان کرتے ہوئے کہا کہ معاشرہ کفر کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے، ظلم کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 204 کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرنے سے توہین عدالت لگ سکتی ہے۔
علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو حکم دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال لایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے، جس میں ڈاکٹر فیصل بھی شامل ہوں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفا ہسپتال نہیں لے جایا گیا اور نہ میڈیکل بورڈ بنایا گیا۔
سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ سیکیورٹی ایشو ایک بہانہ ہے ، حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ حکومت نے عدالت کے فیصلے کو خود ہی تبدیل کیا ہے۔ حکومتی وزرا سے کہتا ہوں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کی جماعت سے مخالفت ہے لیکن کسی کی صحت سے نہ کھیلیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت پر سیاست نہ کریں، کل کو ہم بھی حکومت میں آسکتے ہیں۔ اگر عدالت کا فیصلہ ٹھیک نہیں لگتا تھا تو عدالت سے مزید ہدایت لی جاسکتی تھی۔ جب بھی حکومتوں نے عدالتوں کے حکم ماننا بند کیے، آمر آتے رہے۔
علی ظفر نے کہا کہ اگر عدالتوں کو کمزور کیا جائے گا تو انصاف کی حکمرانی نہیں ہوگی ، عوام کا اداروں سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عدالت نہ بنے، اپنا کام کرے ، عدالتی حکم پر عمل کرے۔ وہ اسی معاملے پر قرارداد لانا چاہتے تھے۔
