کیا حکومتی اتحاد کو فیض حمید کا کورٹ مارشل بھگتنا پڑ جائے گا ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا حکومتی اتحاد کے وہ لوگ جو آج سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کی زورو شور سے حمایت کررہے ہیں، وہ دراصل اقتدار میں رہنے کے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دے رہے ہیں، لیکن یہ فیصلہ مستقبل میں ان کے لیے وبال جان بن سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ سابق آئی ایس آئی چیف کو گرفتار کیا گیا اور اب سنگین جرم کی پاداش میں ان کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ فیض کے کورٹ مارشل سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سویلینز کے ساتھ مل کر جو بھی افسر فوج کے ڈسپلن کو توڑے گا اور سازش کی کوشش کرے گا، اس سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ انتہائی متنازع سابق انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اپنی مدتِ ملازمت کے دوران بھی شہ سرخیوں کی زینت رہے۔ لیکن شاید کسی کو بھی امید نہیں تھی کہ انہیں گرفتار کیا جائے گا اور وہ کورٹ مارشل کا سامنا کریں گے۔ جہاں وہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل کے سلسلے میں زیرِتفتیش ہیں وہیں ان پر ریٹائرمنٹ کے بعد سنگین سرگرمیوں کے بھی الزامات ہیں۔ یہ قیاس آرائیاں بھی ہورہی ہیں کہ وہ 9 مئی کے واقعے میں بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک ان کی اس گرفتاری کی وجہ سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کا قریبی تعلق ہے۔ یہ بھی گمان کیا جارہا ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی نوعیت کا زیادہ ہے اور یہ ایسا سخت ’ادارہ جاتی احتساب کا معاملہ‘ نہیں جس طرح بتایا جارہا ہے۔
جنرل باجوہ کے ہاؤس اریسٹ ہونے کی خبر میں کتنی صداقت ہے ؟
زاہد حسین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت تب سامنے آئی جب فوج کی سرپرستی میں حکمران اتحاد اور تحریک انصاف کی ڈیڈ لاک کی صورت حال سنگین رخ اختیار کر چکی ہے۔ 9 مئی کو پُرتشدد مظاہروں کہ جن میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سابق انٹیلی جنس چیف کے ملوث ہونے سے نہ صرف سیاسی تناؤ بڑھے گا بلکہ اسٹیبلشمنٹ پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ گرفتاری اسٹیبلشمنٹ کی ملکی سیاست میں گہری مداخلت اور انٹیلی جنس سربراہان کی طاقت پر سوالات اٹھاتی ہے جن کی نگرانی کی جانی چاہیے تھی۔
یاد رہے کہ فیض حمید تحریک لبیک کے فیض آباد دھرنے کے دوران 2017ء میں ٹو اسٹار جنرل اور ڈی جی سی آئی ایس آئی کے طور پر بھی سرخیوں میں رہے۔ اس دھرنے نے دارالحکومت کو ہفتوں تک مفلوج کردیا تھا۔ مظاہرے کو منظم کرنے میں انٹیلی جنس کا ہاتھ واضح طور پر نظر آیا۔ دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے ایک غلط فیصلے نے ان الزامات کو تقویت دی، ایک انتہا پسند مذہبی گروپ نے بہ ظاہر شہری انتظامیہ کو کمزور کرنے کے لیے دارالحکومت پر دھاوا بولا تھا۔
لیفٹیننٹ ریٹائرڈ فیض حمید نے دھرنا شروع کروانے اور پھر ختم کرنے کی متنازعہ ڈیل میں بھی اہم کردار کیا تھا۔ ایسی کوئی مثال مشکل سے ہی ملتی ہے کہ جب سینیئر انٹیلی جنس اہلکار نے حکومتی رٹ چیلنج کرنے والے مظاہرین اور حکومت کے درمیان معاہدہ کروایا ہو۔ بہت سے حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی منظوری کے بغیر یہ ڈیل ممکن نہیں تھی۔
زاہد حسین کہتے ہیں کہ فیض حمید تب سیاسی ہیرا پھیری کا حصہ تھے جبکہ وہ مبینہ طور پر 2018ء کی انتخابی انجینئرنگ کے بھی مرتکب پائے گئے جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار ملا۔ 2017ء میں ہی ان پر ٹاپ سٹی اسکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ ان پر ہاؤسنگ اسکیم کے مالک کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر چھاپے مارنے کا الزام تھا۔ یہ یقیناً اختیارات کا غلط استعمال تھا لیکن اس وقت ان کے خلاف کوئی بھی ’ادارہ جاتی احتساب کا عمل‘ شروع نہیں ہوا۔ اس کے بجائے ترقی کے بعد وہ تھری اسٹار جنرل بنے اور آئی ایس آئی کے چیف بن گئے۔ عمران خان کی حکومت میں وہ انتہائی طاقتور تھے۔ سابق وزیر اعظم نے بعدازاں اعتراف کیا کہ وہ ایک کمزور اتحادی حکومت کو تیار کرنے سے لے کر اپوزیشن کو قابو کرنے تک، ہر چیز کے لیے انٹیلی جنس پر منحصر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عمران خان نہیں چاہتے تھے کہ فیض حمید یہ عہدہ چھوڑیں۔
لیکن یہ پہلے ایسے جرنیل نہیں۔ تاریخی اعتبار سے ہمارے ملک میں جاسوسی ادارے کی سربراہ کی کرسی کسی بھی شخص کو بااختیار اور طاقتور بناتی ہے۔ اس سے قبل بھی بہت سے سابق چیفس سیاسی انجینئرنگ کے مرتکب پائے گئے۔ درحقیقت آج اپوزیشن کا دباؤ زیادہ سنگین ہوچکا ہے۔ فیض حمید نے جو کچھ کیا اس نے تخت کے کھیل میں اسٹیبلشمنٹ کے متحرک کردار کی عکاسی کی۔ ان کا معاملہ تو محض اس سلسلے کی چھوٹی سی کڑی ہے۔
زاہد حسین کے مطابق ادارہ جاتی احتساب کا یہ حال ہے کہ 7 سال تک ہاؤسنگ اسکینڈل میں ثبوت موجود ہونے کے باوجود فیض کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب بھینفیض کے خلاف تحقیقات کا آغاز سپریم کورٹ کے حکم پر ممکن ہوا ہے۔ اس سے قبل آرمی چیف کی دوڑ میں شکست کے بعد انہوں نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ اگر انہیں یہ عہدہ مل جاتا تو آج حالات انتہائی مختلف ہوتے۔ پاک فوج کے شعبہ ابلاغ عامہ آئی ایس پی آر کے جاری بیان میں ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا جو سابق سربراہ آئی ایس آئی کی گرفتاری اور کورٹ مارشل کا سبب بنیں۔ فوج کو ان سرگرمیوں کی وضاحت کرنی چاہیے کہ جن میں وہ ملوث تھے اور انہوں نے آرمی ایکٹ کی کیا خلاف ورزی کی تاکہ یہ قیاس آرائیاں ختم ہوسکیں کہ موجودہ آرمی قیادت سے اختلافات کی بنیاد پر فوج نے یہ اقدام اٹھایا۔ یقینی طور پر قانون کی خلاف ورزی اور اختیارات کا غلط استعمال قابلِ برداشت نہیں۔ لیکن مساوی بنیادوں پر قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔ یہاں بڑا مسئلہ اسٹیبلشمنٹ کی ملکی سیاست میں مداخلت ہے۔ فیض حمید ایک ایسے نظام کے نتیجے میں سامنے آئے جس نے انہیں طاقت اور اختیارات دیے۔ مثال کے طور پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ فوجی ترجمان سیاسی بیانات کیوں دیتے ہیں اور میڈیا نمائندگان کو کیوں کہتے ہیں کہ وہ مواد شائع کرسکتے ہیں یا نہیں۔
