کیا حکومت FATF کی آڑ میں اپوزیشن پر شکنجہ کسنا چاہتی ہے؟


پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ قوانین کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے جبکہ اپوزیشن کا موقف ہے کہ یہ قوانین بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کا بنیادی مقصد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی بجائے اپوزیشن کے خلاف شکنجہ مزید کسنا ہے۔ لہذا ایف اے ٹی ایف پر دنیا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کی جانے والی قانون سازی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اپوزیشن اس موقع کو اپنے خلاف مقدمات میں رعایتیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ایسے قوانین بنانا چاہتی ہے جن سے اسے اور بھی زیادہ آمرانہ اختیارات مل جائیں۔
پاکستان کی جانب سے30 ستمبر تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو مکمل رپورٹ پیش کرنا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مابین جن بلوں پر ڈیڈ لاک موجود ہےوہ احتساب کا قانون نہیں بلکہ شہری آزادی سے متعلق معاملات ہیں جو معاملے پر پیشرفت میں رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے ممبران اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ 13 بلوں میں سے دوسرے بل اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ(اے ایم ایل اے)، فوجداری کارروائی ضابطہ(سی آر پی سی)اور متروکہ پراپرٹیز اور کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم کے بارے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق متروکہ پراپرٹیز اینڈ کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق بلوں کا تقریبا تصفیہ ہوچکا تھا لیکن اے ایم ایل اے اور سی آر پی سی کے ترمیمی بلوں پر تعطل برقرار ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کے ممبران سی آر پی سی ترمیمی بل کی حمایت کرنے سے گریزاں ہیں کیونکہ یہ شہریوں کی رازداری میں دخل اندازی کے لیے تفتیشی افسر کو اجازت دینے کے مترادف ہے۔حزب اختلاف بل کی ازسر نو تشکیل کرنا چاہتی ہے تاکہ ‘خفیہ آپریشن، مواصلات میں رکاوٹ پیدا کرنے اور کمپیوٹر سسٹم تک رسائی’ کی شرائط کی وضاحت ہوسکے اور مجرموں کے علاوہ دوسرے لوگوں کے خلاف بھی اس کا غلط استعمال نہ کیا جا سکے۔جہاں تک اے ایم ایل اے میں ہونے والی ترامیم کا تعلق ہے ذرائع کے مطابق مجوزہ مسودے میں قومی احتساب بیورو نیب کو مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ چونکہ نیب منی لانڈرنگ کے الزام میں کسی مشتبہ شخص کے خلاف کارروائی کا آغاز کرسکتا ہے لہذا اے ایم ایل اے کے اندر بیورو ‘اے ایم ایل اے کے شیڈول جرائم’ میں کارروائی کرنے والی ایجنسیوں کو فہرست سے خارج کرسکتا ہے۔
حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کے نام پر ایسی قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ جو جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی روح سے مطابقت نہیں رکھتے۔ حکومت کا نیب بل کا مسودہ وہی ہے جو قانون پہلے سے رائج ہے۔ بلکہ اس کے اختیارات میں ایک اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ قانون شہادت کی نفی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں قلیل اکثریت حاصل ہے۔ تاہم ایوان بالا میں حزب اختلاف کی اکثریت ہے۔ جس کے باعث حکومت کے لیے حزب اختلاف کی رضامندی کے بغیر قانون سازی آسان نہیں ہے۔
خیال رہے کہ حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے اپنا کیس تیار کرنے میں مصروف ہے۔ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اپنی گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا جس کا مطلب ہے کہ پاکستان پر یہ جاننے کے لیے مسلسل نظر رکھی جائے گی کہ وہ دہشتگردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کر رہا ہے۔ پاکستان کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے اکتوبر 2019 تک کا وقت دیا گیا تھا جس میں بعدازاں چار مہینے کی توسیع کر دی گئی تھی۔ پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ دی گئی اس مہلت کے دوران ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک موثر نظام تیار کر لے گا۔فروری 2020 میں ایف اے ٹی ایف نے یہ تسلیم کیا تھا کہ پاکستان نے ٹاسک فورس کی جانب سے دیے گئے 27 مطالبات میں سے 14 پر عملدرآمد کیا ہے، تاہم تنظیم نے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا کہ اس حوالے سے کئی شعبوں میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اب 14 سے 21 ستمبر کو ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ باقی 13 معاملات پر پاکستان نے کتنی پیش رفت کی ہے۔ اس کے بعد اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ ہو گا کہ پاکستان کو گرے لسٹ ہی میں رکھا جائے یا وائٹ لسٹ میں شامل کر لیا جائے، یعنی پاکستان کو ایک ایسا ملک قرار دے دیا جائے جہاں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت نہیں ہوتی یا پھر شمالی کوریا اور ایران کی طرح بلیک لسٹ میں شامل کر کے پاکستان پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی جائیں۔
اس حوالے سے حکومتی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس نے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت سے متعلق موجودہ قوانین میں ترمیم کے لیے آٹھ بل تیار کیے ہیں۔ اس قانون سازی پر اتفاقِ رائے کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کے 24 پارلیمانی ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔اپوزیشن کی مدد سے اب تک ان آٹھ میں سے چھ بل منظور کرائے جا چکے ہیں۔ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن میں اس طرح کا اتفاقِ رائے کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کی ایک وجہ ملک کی طاقت ور فوج کی جانب سے دباؤ بھی ہے۔
دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کے ایکش پلان میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک لوگوں کو عدالتوں سے سزائیں دلوائی جائیں اور ان کی منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادیں ضبط کی جائیں۔بعض مبصرین کے خیال میں ایسا کئی مرتبہ ہوا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے پاکستان میں سزائیں دی گئی ہوں اور پابندیاں عائد کی گئی ہوں۔ رواں برس اگست میں پاکستان نے ایسے 88 افراد پر پابندیوں کا اعلان کیا جن کا شدت پسند تنطیموں سے مبینہ تعلق تھا۔ ان شدت پسند تنظیموں میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ، القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان جیسی تنظیمیں شامل ہیں۔ اسی طرح کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید کو بھی رواں برس فروری میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے پہلے سزا سنائی گئی۔ جبکہ حافظ سعید کے قریبی تین ساتھیوں کو دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں 27 اگست کو عدالت نے سزا سنائی۔
ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے ساتھ پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ سفارتی سطح پر بھی اپنا مقدمہ لڑے۔ اب تک ترکی، ملائیشیا اور چین کی حمایت نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے باہر رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس دوران چین پاکستان پر دباؤ ڈالتا رہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز اور ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو پورا کرے۔
اطلاعات ہیں کہ گذشتہ اجلاس میں امریکہ نے سعودی عرب کو پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ واپس لینے پر قائل کیا تھا۔ پاکستان کو گرے لسٹ سے باہر نکلنے کے لیے سعودی عرب کے فیصلہ کُن ووٹ کی ضرورت تھی یعنی اگر سعودی عرب اپنا ووٹ پاکستان کے حق میں دے دیتا تو پاکستان گرے لسٹ سے باہر نکل جاتا اور یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہوتی۔اس کے بعد سے پاکستان افغان طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ طالبان اور امریکہ کے مذاکرات صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کے لیے بہت اہم ہیں جس کے تحت وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں اپنے کردار کی وجہ سے بھی یہ امید ہے کہ اگلے اجلاس میں امریکہ پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔کچھ عناصر اب بھی پاکستان کی کوششوں کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ان میں خاص طور پر انڈیا کی یہ شکایات شامل ہیں کہ پاکستان نے اب بھی اِن شدت پسند تنظیموں کی حمایت ترک نہیں کی ہے جو پاکستان میں بیٹھ کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تاہم دوسری طرف ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کی جانے والی قانون سازی پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ اپوزیشن اس موقع کو اپنے خلاف مقدمات میں رعایتیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ایسے قوانین بنانا چاہتی ہے جن سے اسے آمرانہ اختیارات مل جائیں۔
واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام سنہ 1989 میں عمل میں آیا تھا۔اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی نظام کو دہشت گردی، کالے دھن کو سفید کرنے اور اس قسم کے دوسرے خطرات سے محفوظ رکھا جائے اور اس مقصد کے لیے قانونی، انضباطی اور عملی اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button