کیا خون خرابے کے بغیر تحریک لبیک سے نمٹا جا سکتا ہے؟


اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے تحریک لبیک جیسی شدت پسند مذیبی تنظیموں کو اپنے مخصوص سیاسی ایجنڈے کی خاطر بنانے اور بچانے کا نتیجہ ایک قومی بحران کی صورت میں سامنے آ چکا ہے جس سی خون خرابے کے بغیر نکلنا مشکل نظر آتا ہے۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے دونوں جانب سے طاقت کے استعمال کی اطلاعات ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خود کو ایک مذہبی تنظیم قرار دینے والی تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان کی پولیس والوں پر سیدھی فائرنگ کرنے کی ویڈیو فوٹیج سامنے آرہی ہیں۔ دوسری جانب لبیک والوں کا دعوی ہے کہ پولیس اب تک ان کے پانچ کارکنان کو سیدھی فائرنگ کرکے مار چکی ہے۔ تاہم سچ جاننا اس لیے مشکل ہے کہ دونوں جانب سے ایکدوسرے پر فائرنگ کی ویڈیو فوٹیجز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جبکہ پیمرا نے تحریک لبیک کی مین سپریم میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی ہے جس سے حقیقت جاننا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ تاہم اہم ترین سوال یہ ہے کہ آخر حکومت اس طرح کی تنظیموں سے کیوں بلیک میل ہوتی ہے اور یہ تنظیمیں کب تک ریاست کو بلیک میل کرتی رہیں گی۔

پہلا سچ تو یہ ہے کہ حکومت کو ایسی شدت پسند تنظیموں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کا مشورہ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دیا جاتا ہے جو اصل میں ان تنظیموں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ اسی لیے کوئی بھی حکومت برسراقتدار ہو، جب تحریک لبیک والے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو نہ تو ان سے کسی قتل کا حساب لیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کے خلاف درج مقدمات کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج لبیک ایک طاقتور تنظیم کی صورت میں ریاست پاکستان کے آمنے سامنے کھڑی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر حکومت نے اب لبیک کو کوئی رعایت دی، تو مستقبل میں کوئی بھی حکومت اسکی بلیک میلبگ کے آگے نہیں ٹھہر پائے گی۔ یوں مذہب کا نام استعمال کرکے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے والی دیگر تنظیموں کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔

واضح رہے کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت ٹی ایل پی کی بیشتر شرائط کو مشروط طور پر ماننے کے لیے راضی ہے تاہم فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے حوالے سے حکومت کو تحفظات ہیں اور اس نے واضح کیا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہیں۔ کئی ناقدین کا خیال ہے کہ سیاسی حکومتیں دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں سے ڈرتی ہیں اور وہ ان کو چیلنج کرنا نہیں چاہتی کیونکہ اس سے ان کا ووٹ بینک متاثر ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ نون لیگ کی حکومت سپاہ صحابہ سمیت کئی مذہبی تنظیموں کے لیے نرم گوشہ رکھتی تھی جبکہ پیپلز پارٹی کے حوالے سے خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بھی اسلام پسندوں کی طاقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے مذہبی عناصر کو خوش رکھنا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ پیپلزپارٹی کا جے یو آئی ایف اور دوسری مذہبی سیاسی جماعتوں سے کسی نہ کسی صورت میں اتحاد رہا۔ جی یو آئی اب ن لیگ کی قریبی اتحادی ہے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتوں کی کمزوری ہے کہ تحریک لبیک جیسی شدت پسند تنظیمیں طاقت پکڑتی ہیں۔ انکے خیال میں سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کی وجہ سے ایسی تنظیموں کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے ڈرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی تنظیمیں تمام حکومتوں کو بلیک میل کرتی ہیں۔ پاکستان میں نظام مصطفی، ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے نام پر مذہبی تنظیمیں سیاسی جماعتوں کو بلیک میل کرتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ آج سیاسی جماعتیں اس بات پر خوش ہیں کہ تحریک لبیک پی ٹی آئی کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے لیکن ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ کل یہی تنظیم دوسری جماعتوں کی حکومتوں کے لیے بھی مسائل کھڑے کر سکتی ہے جیسا کہ ماضی میں اس نے نون لیگ کی حکومت کے لیے مسائل کھڑے کئے تھے۔

دفاعی مبصرین کا کہنا یے کہ اس معاملے پر ہماری سیاسی جماعتوں کو اتحاد مظاہرہ کرنا پڑے گا، اور انہیں اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ مذہب اور فرقے کے نام پر کسی شدت پسند تنظیم کو سیاست کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تجویز بھی دی جا رہی ہے کہ ایسا قانون بنا لںا جائے کہ جو بھی شخصیات یا تنظیمیں مذہب یا فرقے کے نام پر سیاست کریں، ان پر پابندی لگا دی جائے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو آج تحریک لبیک حکومت کے لیے درد سر بنی ہوئی، کل کوئی دوسری تنظیم بھی اس کے ساتھ ان کھڑی ہوگی۔

Back to top button