کیا زلفی بخاری نے واقعی اسرائیل کا دورہ نہیں کیا؟


وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر سید ذوالفقار حسین عرف زلفی بخاری نے اسرائیلی میڈیا کی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے گذشتہ سال نومبر میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا اور وزیراعظم کا ایک پیغام پہنچایا تھا۔
یاد رہے کہ ایک اسرائیلی اخبار اسرائیل ہیوم نے اسلام آباد میں موجود ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے سابق مشیر سید ذلفی بخاری نے گذشتہ سال نومبر میں اسرائیل کا مختصر دورہ کیا تھا۔ اخبار کے مطابق زلفی بخاری اپنے برطانوی پاسپورٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلام آباد سے براستہ لندن اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد انہیں تل ابیب لے جایا گیا تھا جہاں ان کی اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار سے ملاقات ہوئی تھی۔‘ اخبار کے مطابق ذلفی بخاری نے وزیراعظم عمران خان کا پیغام وزارت خارجہ کے اہلکار کو دیا تھا جب کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ یوسی کوہن کو فوجی قیادت کا پیغام دیا تھا۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملاقات متحدہ عرب امارات کے پاکستان پر ’شدید دباؤ‘ کے بعد کی گئی۔
تاہم سابق مشیر زلفی بخاری نے اس خبر کی کرتےہوئے کہا ہے کہ ’میں اسرائیل نہیں گیا تھا۔‘ انہوں نے ٹویٹر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پاکستانی اخبار نے میرے دورہ اسرائیل کا دعوی اسرائیلی ذرائع کی بنیاد پر کیا جبکہ اسرائیلی اخبار نے یہ دعوی پاکستانی ذرائع سے کیا۔ لہازا مجھے یہ سوچ کر تعجب ہو رہا ہے کہ آخر یہ خیالی پاکستانی ذرائع کون سے ہیں؟
اسرائیلی اخبار کی خبر میں مزید کہا گیا ہے کہ ذلفی بخاری کے دورے بارے یہ معلومات پاکستان اور اسرائیلی افواج کی امریکہ اور یوکرائن کے زیر سایہ بحر اسود میں ہونے والی بحری مشقوں کے تناظر میں جاری کی گئی ہیں۔ پاکستان نیوی ان مشقوں میں بطور مبصر حصہ لے رہی ہیں۔ ان مشقوں میں پاکستان کے علاوہ مسلمان ممالک میں سے مصر، متحدہ عرب امارات، مراکش، تیونس اور ترکی حصہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں اسی اخبار نے کسی ملک یا شخصیت کا نام لیے بغیر یہ خبر دی تھی کہ ایک بڑے مسلمان ملک کے رہنما کے سینیئر مشیر نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا اور حکام سے بات چیت کی تھی۔ 
اس خبر آنے کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جانے لگی تھیں کہ زلفی بخاری اسرائیل گئے تھے مگر اس وقت بھی زلفی بخاری نے نہ صرف اس کی تردید کی تھی بلکہ ایک اخبار ’مڈل ایسٹ مانیٹر‘ کو خط بھی لکھا تھا جسکے بعد انہوں نے اس خبر کو اپنی ویب سائٹ سے ہٹاتے ہوئے معافی مانگی تھی۔
تاہم اسرائیلی اخبار کے مدیر ایوی شارف نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ یہ خبر اسرائیلی فوجی حکام نے چلانے کی اجازت دی ہے جس کے بعد اسے شائع کیا گیا ہے۔ تاہم ذلفی بخاری کا اصرار ہے کہ یہ خبر سراسر جھوٹ ہے۔

Back to top button