کیا سعودی امیر زادی کا دلہا واقعی پاکستانی ڈرائیور ہے؟


سوشل میڈیا پر ایک عرب خاتون اور لڑکے کی وائرل ویڈیو بارے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ سعودی عرب کی ارب پتی بزنس وومن ساہو بنت عبداللہ المحبوب ہیں جنکے ساتھ انکا پاکستانی ڈرائیور ہے جس سے خاتون نے شادی کر لی ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کے مطابق ساہو بنت عبداللہ المحبوب ہے دراصل ایک ارب پتی بزنس وومن ہیں اور سعودی عرب سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کاروبار کی مالکن ہیں جن کی دولت کی مجموعی مالیت آٹھ ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ کئی سوشل میڈیا ویب سائٹس کے مطابق، ساہو بنت عبداللہ المحبوب متعدد رہائشی املاک کے ساتھ ساتھ مدینہ اور مکہ مکرمہ میں کئی ہوٹلوں کی بھی مالکن ہیں اور ان میں سے کئی مقدس مقامات کے قریب واقع ہیں جن سے وہ یومیہ کثیر دولت کماتی ہیں۔
تاہم بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل پر سرچ کیے جانے پر ساہو بنت عبدااللہ المحبوب نامی کسی عرب دولت مند کاروباری عورت کا نام سامنے نہیں آتا۔ درحقیقت جب اس نام کو گوگل پر سرچ کریں تو سرچ رزلٹ آپ کو ان ویب سائٹس پر لے جائیں گے جہاں اس خاتون اور مرد کی شادی کے بارے میں خبر شائع کی گئی ہے۔ بی بی سی کا کہنا یے کہ 24 دسمبر 2020 کو ٹوئٹر پر شئیر کی گئی ویڈیو میں موجود خاتون کوئی ارب پتی کاروباری شخصیت نہیں بلکہ مصنفہ یاسمین بنت مشال السدری ہیں جن کے شوہر کے بارے میں سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ وہ سعودی امیر زادی کے ذاتی ڈرائیور ہیں جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
اب تک سعودی عرب کے مقامی میڈیا میں کسی سعودی ارب پتی خاتون کی اپنے پاکستانی ڈرائیور سے شادی کی کوئی خبر نشر نہیں کی گئی۔ جہاں تک دلہا کے پاکستانی اور سعودی امیر زادی کے ذاتی ڈرائیور ہونے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں کوئی قابلِ بھروسہ حقائق نہیں مل سکے۔ دلہے کو ویڈیو میں عربی زبان بولتے سنا جا سکتا ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ عرب ملک کے شہری ہوں یا یہ بھی امکان ہے کہ اگر وہ پاکستانی ہیں تو انہوں نے کسی عرب ملک میں قیام کے دوران عربی زبان سیکھ لی ہو۔ کئی سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ سعودی عرب یا کسی دوسرے عرب ملک میں ہونے والے ایک عام شادی کی تقریب کو کسی منچلے نے غلط کیپشن کے ساتھ شئیر کر دیا ہو گا جو اس کے وائرل ہونے کا سبب بنی گئی۔
ایک اطلاع یہ ہے کہ یہ ویڈیو کرونا وائرس کی وبا کے دوران منعقد ہونے والی ایک سادہ شادی کی تقریب ہے جو 23 دسمبر 2020 کو منعقد ہوئی اور اسی تقریب کی ویڈیو کو ٹوئٹر پر 24 دسمبر 2020 کو احمد العليان نامی صارف نے اس کیپشن کے ساتھ شیئر کیا کہ’یاسمین بنت مشال السدری نے افغانستان کے متعلق اپنی کتاب لکھی۔ خدا انہیں کامیابی عطا فرمائے۔‘ تاہم احمد کی پوسٹ کعدہ ویڈیو کے کمنٹس سیکشن کے مطابق افغانستان پر کتاب لکھنے والی یاسمین بنت مشال السدری نے اپنے افغان ڈرائیور سے ہی شادی کر لی ہے اور مذکورہ ویڈیو اسی تقریب کی ہے۔ اسی کمنٹس سیکشن میں کئی عرب صارفین احمد سے سوال کر رہے ہیں کہ ایک عرب عورت، غیر عرب سے شادی کیسے کر سکتی ہے؟ اور ایسے ہی سوالات کے ساتھ یہ ویڈیو عرب ممالک کے صارفین کے درمیان بحث کا سبب بنی ہے اور عرب ٹوئٹر پر بھی وائرل ہے۔
پاکستان میں ٹوئٹر اور فیس بک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ سے لے کر واٹس ایپ تک یہ ویڈیو وائرل ہے اور خاصے دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں کئی صارفین ویڈیو کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کیے بغیر جوڑے کے اچھے نصیب کی دعائیں کر رہے ہیں وہیں کئی نوجوان یہ بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ ’ڈرائیونگ لائسنس کتنے دن میں بن جاتا ہے؟‘ حتیٰ کہ آٹھ ارب ڈالر دولت رکھنے والی امیر زادی سے ایک پاکستانی کی شادی ہونے کی خبر سن کر ایک صارف نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ اگر یہ خبر سچ ہے تو یہ بندہ اکیلا ہی پاکستان کا سارا قرض اتار سکتا ہے۔ عطا الرحمن لکھتے ہیں کہ آج آپکو ڈرائیونگ لائسنس کے مقابلے میں اپنی ڈگری چھوٹی لگ رہی ہوگی۔ جب کہ رضا کہتے ہیں کہ ڈرائیورنگ کا چھ ہفتے کا کورس انجنیئرنگ کے چار سالوں سے بہتر ہے۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ جب اللہ دیتا ہے تو چھپڑ پھاڑ کے ہی دیتا ہے۔ جب کہ سعد مقصود لکھتے ہیں کہ سعودیہ میں پاکستانیوں کا مستقبل روشن ہے۔
قاضی نامی صارف نے لکھا کہ اس پاکستانی نے ایک ایسے مشکل وقت میں خوشی کے ایک نئے باب کی شروعات کی ہے جب پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا: لیکن پاکستانی مرد ابھی بھی عرب عورتوں میں بے حد پسند کیے جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نہ صرف وہ دکھنے میں وجہیہ ہیں بلکہ ان میں سے بیشتر وفادار بھی ہیں۔ کئی صارفین کا ماننا ہے کہ یہ نسل پرستی پر مبنی جھوٹا پروپیگنڈا ہے جس میں جان بوجھ کر ایک پاکستانی لڑکے کو مشرقِ وسطیٰ میں ’ڈرائیور‘ خے روپ میں دکھایا گیا ہے جب کہ ویڈیو میں موجود جوڑا ایک ہی رتبے کا اور آپس میں بہت خوش دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button