کیا شہباز شریف بھی عمران کی طرح کسی لال بتی کے پیچھے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار بلال غوری نے کہا ہے کہ  عمران خان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں لال بتی کے پیچھے لگائے رکھا اور مجھے دو مرتبہ اسمبلیاں توڑنے کا کہا .  یہ رونا روتے ہوئے مدتیں بیت گئیں کہ عوام کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا اور منتخب وزرائے اعظم کو کام نہیں کرنے دیا جاتا . سوچنا چاہیے کہ سابق سربراہان حکومت کی طرح موجودہ وزیر اعظم  شہبازشریف بھی کہیں کسی لال بتی کے تعاقب میں اپنی راہ کھوٹی تو نہیں کر رہے؟

اپنے ایک کالم میں بلال غوری لکھتے ہیں کہ عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھرکہا ہے کہ انہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لال بتی کے پیچھے لگائے رکھا۔ انہوں نے دو مرتبہ اسمبلیاں توڑنے کا کہا۔ سابق وزیر اعظم اس سے پہلے بھی کئی بار اپنی بے اختیاری اور لاچاری کا اعتراف کرچکے ہیں، لیکن اس بات کا احساس تب کیوں نہیں ہوتا جب آپ اس کرسی پر براجمان ہوتے ہیں؟

بھارت کی 75 سالہ پارلیمانی تاریخ میں نریندر مودی 14 ویں وزیر اعظم ہیں، اگر دو بار نگراں وزیراعظم بننے والے گلزاری لال نندا کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد 15 بنتی ہے۔ اس حساب سے منتخب بھارتی وزرائے اعظم کی اوسط مدت 5 سال 4 ماہ بنتی ہے۔ پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں 25 برس تک تو وزیر اعظم کا منصب خالی رہا۔ باقی ماندہ 50 سال کے دوران 30 وزرائے اعظم آئے جن میں سے 23 منتخب اور 7 نگراں پرائم منسٹر تھے۔ منتخب وزرائے اعظم میں سے کوئی ایک بھی اپنی مدت پوری نہ کر سکا۔ ایک وزیراعظم تو محض 13 دن تک اس عہدے پر متمکن رہے۔ یوں پاکستان میں 23 منتخب وزرائے اعظم کی اوسط مدت دو سال دو ماہ بنتی ہے۔ اب اگر تصویر کادوسرا رُخ دیکھیں تو جنرل منوج پانڈے بھارت کے 29 ویں آرمی چیف ہیں یعنی وہاں بری فوج کے سربراہ کی اوسط مدت ملازمت 2 سال 7 ماہ رہی، جب کہ وطن عزیز میں جنرل عاصم منیر 17 ویں سپہ سالار ہیں یعنی یہاں آرمی چیفس کی اوسط مدت ملازمت 4 سال 8 ماہ رہی۔

بلال غوری کا کہنا ہے کہ یہ رونا روتے ہوئے مدتیں بیت گئیں کہ عوام کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا۔ ووٹ کی پرچی کو عزت نہیں دی جاتی۔ منتخب وزرائے اعظم کو کام نہیں کرنے دیا جاتا۔ سازش کرکے اچھی بھلی چلتی حکومتوں کو رخصت کر دیا جاتا ہے۔ 16 اکتوبر 2020ء کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب! آپ نے ہماری اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومت کو رخصت کردیا‘۔ اور پھر 17 دسمبر 2022ء کو سابق وزیراعظم عمران خان نے لبرٹی چوک میں کارکنوں سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہماری چلتی ہوئی حکومت جنرل قمر جاوید باجوہ نے سازش کرکے گرائی‘۔ اگرچہ نوازشریف کے برعکس عمران خان نے تب جنرل قمر باجوہ کا نام لیا جب وہ آرمی چیف نہیں رہے اور ریٹائر ہو کر گھر جا چکے تھے مگر دونوں کا الزام ایک ہے کہ ان کی اچھی بھلی چلتی ہوئی حکومتوں کو ختم کر دیا گیا۔ عمران خان بتدریج یہ اعتراف بھی کر رہے ہیں کہ وہ کتنے بے بس،بے اختیار اور لاچار وزیر اعظم  تھے۔

اظہار رائے کی آزادی کا گلہ گھونٹنے کا معاملہ ہو یا پھر سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری کا، وہ ان سب معاملات کا ذمہ دار اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کب کس پر کتنا دباؤ ڈالنا ہے، کب گرفتار کرنا ہے،کب رہا کرنا ہے، یہ سب فیصلے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کیا کرتے تھے۔ ہم بالکل بے بس تھے، وزیراعظم بے بس بیٹھا تھا، ذمہ داری میری تھی لیکن حکمرانی کسی اور کی تھی۔ مجھے ساڑھے تین سال میں آدھی طاقت مل جاتی تو شیر شاہ سوری سے مقابلہ کرلیتا۔ ہم اربوں روپے کے ٹیکس ڈیفالٹر پکڑتے تو وہ کہیں اور چلے جاتے اور چھوٹ جاتے۔ عمران خان کئی بار یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ اصل اختیار کسی اور کے پاس تھا اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ حالانکہ اس سے قبل جب وہ وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان تھے تو کہا کرتے تھے کہ جو بھی فیصلہ ہے میں ذمہ دار ہوں کیونکہ کوئی فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر نہیں ہوتا۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ عمران خان یہ گلہ کرنے والے پہلے سربراہ حکومت نہیں بلکہ قیام پاکستان سے اب تک برسرِ اقتدا ر آنے والے 23 وزرائے اعظم میں یہی قدر مشترک ہے کہ ان سب کو اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سچا پیار نہیں ملا، لیکن یہ سمجھ نہیں آتا  کہ ایوانِ وزیراعظم کی کھڑکی سے راولپنڈی کا تعاقب کرنیوالی محبت بھری نگاہیں اور دلفریب ادائیں اقتدار سے محروم ہوتے ہی سرد آہوں اور اداس راہوں میں کیوں بدل جاتی ہیں؟ شیروانی زیب تن کیے وزیراعظم کو خاکی وردی میں ملبوس شخص سابق ہوتے ہی رقیب کیوں محسوس ہونے لگتا ہے؟ وہ جو یک جان دوقالب ہوا کرتے ہیں، ایک دوسرے کے حلیف سخن ساز دکھائی دیتے ہیں، وقت بدلتے ہی حریف دشنام طراز کیوں ہو جاتے ہیں؟ اگر ہر وزیراعظم یہی دہائی دیتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کام نہیں کرنے دیتی، مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی، سازشیں کی جاتیں ہیں اور حکومت کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہونگے۔’صادق و امین‘ وزیر اعظم کی باتوں کو کیسے جھٹلایا جاسکتا ہے؟ لیکن وہ تب جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں، جب اقتدار میں ہوتے ہیں یا تب جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں؟

بلال غوری لکھتے ہیں کہ آخری سوال یہ کہ آج تک کسی لاچار،بے بس اور بے اختیار وزیراعظم نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ کٹھ پتلی بن کر اس وقت تک اقتدار سے چپکے کیوں رہتے ہیں جب تک ان کی تشریف پر ٹھوکر مار کر وزیراعظم آفس سے نکال نہیں دیا جاتا؟ سویلین بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر جمہوریت پسند شخص کو ان سوالات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سابق سربراہان حکومت کی طرح موجودہ وزیر اعظم  شہبازشریف بھی کہیں کسی لال بتی کے تعاقب میں اپنی راہ کھوٹی تو نہیں کر رہے؟

Back to top button