کیا صدام حسین کے محافظ نے صرف پیسوں کی خاطر مخبری کی؟

امریکی ایما پر پھانسی چڑھائے جانے والے عراق کے سابق صدر صدام حسین شاید کبھی اپنے دشمنوں کے ہاتھ نہ آتے اور اب بھی زندہ ہوتے اگر ان کا برسوں پرانا وفادار چیف سیکیورٹی گارڈ انعامی رقم کے لالچ میں ان کے ساتھ غداری نہ کرتا اور انکے ٹھکانے سے متعلق مخبری نہ کرتا۔
صدام حسین کے چیف سیکیورٹی افسر ابراہیم نے امریکی اتحادی افواج کو ڈھائی کروڑ ڈالرز کے عوض غداری کرتے ہوئے عراقی مرد آہن و سابق صدر صدام حسین کے ٹھکانے کی مخبری کی اور انھیں گرفتار کرانے میں مدد دی۔ امریکی حکام نے دسمبر 2003 میں صدام حسین کی گرفتاری کے بعد 30 جون 2004 کو انہیں عراقی حکام کے حوالے کیا گیا جس کے بعد ان پر جیل میں 148 افراد کے قتل عام کا نام نہاد مقدمہ چلایا گیا۔ پانچ نومبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور30 دسمبر کی صبح عراق کے معزول صدر کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ تاہم صدام حسین نے پھانسی گھاٹ پر بھی جس جرات اور جواں مردی کا مظاہرہ کیا وہ ان کے آخری لمحات کی ویڈیوز میں آج بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ صدام کو ان کے آبائی شہر تکریت سے 2004 میں اسوقت گرفتار کیا گیا جب ان کے قابل اعتماد گارڈ ابراہیم نے غداری کرتے ہوئے امریکیوں کو 25 ملین ڈالرز کے عوض ان کا ٹھکانہ بتا دیا۔ ابراہیم صدام حسین کا ایک قابل اعتماد ترین محافظ تھا جس کو صدام کی کی جائے روپوشی کا پتہ تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے خود امریکی حکام سے رابطہ کر کے انہیں آفر کی کہ وہ صدام کے خفیہ ٹھکانے کا راز افشا کرسکتا ہے۔ تاہم کچھ اور ذرائع دعوی کرتے ہیں کہ امریکیوں نے ابراہیم کے سارے خاندان کو اٹھا لیا تھا جس کے بعد اس کے پاس صدام حسین کا ٹھکانہ افشا کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ باقی نہیں بچا تھا۔
امریکی مصنف جان نکسن نے صدام کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے ابراہیم کو گرفتار کرنے والے فوجی اہلکار فرسٹ سارجنٹ ایرک میڈوکس کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ہم نے ابراہیم کے گرد جال بچھا دیا اور اس کے اہل خانہ سمیت اس کے خاندان کے 40 مردوں اور خواتین کو اُٹھا کر حراست میں ڈال دیا۔ اسکے بعد ابراہیم کو۔یہ پیغام بھجوایا کہ اگر صدام کے حوالہ سے ’’تعاون‘‘ نہ کیا گیا تووہ خود بھی مرےگا اور اہل خانہ کو بھی موت کے منہ میں دھکیل دے گے۔ اس پیغام کے بعد ابراہیم ٹریس ہو گیا اور اس نے صدام کی گرفتاری کے لئے تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔ اپنے باس کی مخبری کر کے ابراہیم نے نا صرف اپنے اہل خانہ کو امریکیوں کی قید سے نکلوالیا بلکہ پچیس ملین ڈالر کا انعام بھی حاصل کیا۔
امریکی لکھاری جان نکسن نے اپنی کتاب ’’صدام سے تفتیشی سوالات‘‘ میں بتایا ہے کہ اتحادی افواج کوصدام ہی کے ایک محافظ نے مخبری کرکے گرفتار کروایا تھا اور اس کے بدلہ میں محافظ ابراہیم کو ڈھائی کروڑ ڈالرز کا انعام بھی دیا گیا تھا۔ صدام حسین کا ایک وقت میں قریبی محافظ رہنے والا ابراہیم بھی اگرچہ امریکی و اتحادی افواج کے حملوں کے بعد روپوش ہوگیا تھا لیکن بعد ازاں امریکی انٹیلی جنس نے بعث پارٹی کے منتشر ہوجانے والے عناصر کی مدد سے صدام کے محافظ ابراہیم کا پتا چلا کر گرفتار کرلیا تھا، امریکی انٹیلی جنس کا ماننا تھا کہ ابراہیم کی گرفتاری اس لئے بھی ضروری تھی کہ جب 2003ء میں عراق پر اتحادی و امریکی حملوں کے بعد صدام اور ان کا خاندان روپوش ہوگیا تھا تو ان کی روپوشی کے آخری ایام میں صدام کی حفاظت کے فرائض ابراہیم ہی انجام دے رہا تھا، جس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ صدام جہاں بھی چھپے ہوئے ہیں اس مقام کے بارے میں انکے چیف گارڈ ابراہیم کو یقینا علم ہوگا۔ امریکی مصنف جان نکسن نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس افسران کا یہ نکتہ اہم تھا کہ ماضی میں بھی جب صدام روپوش ہوئے تھے تو صرف ان کے چیف گارڈ ابراہیم کو معلوم تھا کہ وہ کہاں چھپے ہیں لہذا اب بھی وہ وہیں چھپے ہوں گے۔ بعد ازاں صدام کے محافظ نے بھی اسی زرعی فارم کی نشان دہی کی جہاں سے صدام بالآخر زمین کے اندر کھودی گئی ایک سرنگ نما پناہ گاہ سے برآمد ہوئے۔
یاد رہے کہ صدام نے 1958ء میں بھی عراقی وزیر اعظم عبد الکریم قاسم کیخلاف ایک ناکام بغاوت اور قاتلانہ حملے کے بعد اسی فارم میں پناہ لی تھی۔ کچھ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابراہیم نے پہلے ڈیل کی پھر امریکیوں کو یہ درخواست کی کہ میرے خاندان کے تمام افراد کو حفاظتی تحویل میں لے لیا جائے اور اس کے بعد صدام کے ٹھکانے کی نشاندہی کر کے انعام کی رقم وصول کرلی۔ ابراہیم نے امریکی افسران کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے تکریت کے فارم ہاؤس میں ایک باغ کی نشاندہی کی جس میں ایک سرنگ نما پناہ گاہ کے اندر صدام حسین چھپے ہوئے تھے۔
چناچہ اس رات امریکی کمانڈوز نے صدام حسین کی گرفتاری کیلئے ایک ہزار سیکورٹی اہلکاروں پر مشتمل ایک چھاپہ مار ٹیم مقرر کی جس کی معاونت کیلئے اسپیشل فضائی ٹیم کو بھی تیار رکھا گیا تاکہ مزاحمت کی صورت میں نمٹا جا سکے۔ پھر امریکی حکام نے عراقی صوبے صلاح الدین میں دریائے دجلہ کے مشرقی سمت میں واقع معروف مقام الدور میں ایک فارم پر چھاپا مارا۔ علاقہ کو گھیرے میں لے لیا اور کم از کم تین مقامات کی تلاشیی لی گئی لیکن صدام حسین کو بر آمد نہیں کیا جاسکا۔ تاہم جب امریکی افواج ایک قدیم فارم کے ساتھ موجود پرانے مکان میں گھسے تو ایک فرد ملا، جو فارم کا مالک تھا، اس نے فارم میں صدام کی موجودگی سے صریحاً انکار کردیا۔ چنانچہ امریکی صدام کے مخبر محافظ ابراہیم کو موقع ہر کے آئے جس نے باغ میں ایک مقام پر چٹائی پر اپنا پیر مارا اور چیخ کر کہا کہ یہاں چھپا بیٹھا ہے صدام۔ یہ کہہ کر ابراہیم نے اس چٹائی کو اُٹھا پھینکا، جس کے نیچے ایک تہہ خانہ تھا۔ امریکی کمانڈوز بندوقیں نکال کر تہہ خانہ نما جگہ میں گھس گئے اور پھر اس میں موجود صدام حسین کو باہر نکالا۔ اس وقت صدام حسین کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی، بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ ٹھیک طرح پہچانے نہیں جا رہے تھے۔
ایسکوائر میگزین کے مطابق جب سابق عراقی صدر کے خفیہ ٹھکانے پر دھاوا بولا اور ان پر اسلحہ تان لیا تو صدام نے چلاتے ہوئے کہا کہ ’’ گولی مت چلانا، گولی مت چلانا”۔ اس بات کی تصدیق کے بعد کہ گرفتار ہونے والا شخص صدام حسین ہی ہے، امریکی فورسز نے تکریت کے نواح میں واقع حدوشی کے اس فارم کو بمباری کرکے تباہ کردیا تھا۔
واضح رہے کہ صدام حسین وہیں سے گرفتار ہوئے جہاں کہ وہ پیدا ہوئے تھے۔ صدام عراق کے شہر ہرات کے ایک غریب گھرانے میں 1937ء میں پیدا ہوئے اور 16 جولائی 1979ء کو عراق کے صدر بنے۔ انہوں نے 9 اپریل 2003 تک عراق پر بلا شرکت غیرے حکومت کی۔ جب گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق کو سرکش ریاست قرار دیا گیا تو امریکی صدر بش ، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور اتحادی ممالک نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں جو خطے میں مغربی مفادات کیلئے نقصاندہ ہے۔ چنانچہ اتحادی افواج نے مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام کی حکومت ختم کر دی جبکہ ان کی گرفتاری کا اعلان دسمبر 2003 میں کیا گیا۔
امریکی حکام نے صدام حسین کی گرفتاری کے بعد30 جون 2004 کو انہیں عراق حکام کے حوالے کر دیا تھا جس کے بعد ان پر 1982ء میں 148 افراد کے قتل عام کا مقدمہ چلایا گیا اور بالآخر سزائے موت سنا دی گئی۔ 30 دسمبر 2006 کی صبح صدام حسین کو پھانسی دینے کے بعد تکریت کے قریب آبائی گاؤں ال اجوا میں دفن کر دیا گیا۔ تاہم صدام کے خاتمے کے کئی برس بعد امریکہ اور برطانیہ دونوں نے یہ اعتراف کیا کہ جس الزام کی بنیاد پر صدام حسین کی حکومت ختم کی گئی وہ دراصل جھوٹ پر مبنی تھی اور صدام حسین وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اکٹھے نہیں کر رہا تھا۔
