صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانے کی سازش میں تیزی آ گئی ہے. ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی. ہم عوام پارٹی کی عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی درخواست میں درخواست میں صدر مملکت، وزیراعظم، چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان حکومت اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کوفریق بنایا گیا ہے.
سپریم کورٹ میں صدارتی نظام رائج کرنے کیلئے دائر درکواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ناکام ہوچکا،عدالت وزیراعظم کو ملک میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کرانے اورملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کا حکم دے. درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پارلیمانی نظام حکومت میں ارکان پارلیمنٹ ذاتی مفادات کے لیے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں،کورم پورا نہ ہونے پر معمولی قانون سازی بھی نہیں ہو سکتی،اس لئےعوام کے بنیادی حقوق کےتحفظ کے لیے صدارتی نظام ناگزیر ہے.
درخواست میں اسدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ وزیراعظم پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنڈم کروانے کا حکم دے اور عوام سے پوچھا جائے کہ کیا وہ اپنے اور ملک کی بہتری کی خاطر پاکستان میں صدارتی نظام حکومت لانے کے حق میں ہیں یا نہیں؟ یعنی یہ سمجھتے ہوئے کہ موجودہ پارلیمنٹ ملک میں رائج پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دے گی، خفیہ قوتوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عدالت عظمی کے ذریعے ریفرنڈم کارڈ کھیل کر صدارتی نظام لانے کی کوشش کی جائے۔
باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پٹیشن خفیہ ہاتھوں کے ایما پرایک نام نہاد ڈمی سیاسی جماعت "ہم عوام پاکستان” کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے. پٹیشن دائر کرنے والی نام نہاد سیاسی جماعت "ہم عوام پاکستان” کے مطابق اس کے قیام کا واحد مقصد ملک سے ناکام پارلیمانی نظام کا خاتمہ کرنا اور اس کی جگہ صدارتی طرز حکومت قائم کرنا ہے تاکہ عوام اور پاکستان بہتری کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔ انھوں نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کے علاوہ ترکی اور ایران جیسے کامیاب مسلم ممالک میں بھی صدارتی نظام حکومت رائج ہے لہذا پاکستان میں بھی پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لایا جائے۔
"ہم عوام پاکستان” کی دائر کردہ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 1973 کے متفقہ پاکستانی آئین میں موجود قرارداد مقاصد بھی صدارتی نظام حکومت کے قیام کی بات کرتی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا ذکر ہے۔ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مشاورت کے ساتھ فیصلہ سازی کا دور گزر چکا ہے اور پارلیمینٹ کی بجائے فرد واحد کو اختیارات کا منبع ہونا چاہیے۔
پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر اسلامی تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو وہاں بھی ہمیں چاروں خلفائے راشدین کے ادوار کی صورت میں صدارتی طرزحکومت کی مثال نظر آتی ہے۔ ہم عوام پاکستان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ پچھلے 70 برس کے سیاسی تجربات کو پیش نظر رکھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت عوام اور ملک کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور اس نے پاکستان اور اسکے عوام دونوں کی مشکلات میں کمی لانے کی بجائے اضافہ کیا ہے، لہٰذا مصائب کے موجودہ گہرے ہوتے ہوئے بھنور سے نکلنے کے لیے اب اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہا کہ پاکستان میں بھی ترکی اور ایران کی طرز پر صدارتی نظام حکومت نافذ کر دیا جائے۔
پاکستان میں پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانے کے لئے ہم عوام پارٹی نے جو طریقہ کار بتایا ہے اس کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان وزیراعظم کو حکم جاری کرے کہ ملک میں اس سوال پر ریفرنڈم یا استصواب رائے کروایا جائے کہ کیا عوام اپنی اور پاکستان کی بہتری کی خاطر صدارتی نظام حکومت لانے کے حق میں ہیں یا نہیں؟ یاد رہے کہ پاکستانی آئین میں کسی بھی قومی اہمیت کے مسئلہ پر عوام کی رائے جاننے کے لئے ہاں یا ناں کی بنیاد پر ریفرنڈم کروانے کی شق موجود ہے جسے ماضی میں جنرل ضیاء الحق نے اپنے شخصی اقتدار کو طول دینے کے لیے استعمال کیا تھا۔
جنرل ضیاء کی جانب سے کروائے گئے ریفرنڈم میں عوام سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں یا نہیں اور اگر ان کا جواب ہاں میں ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ وہ جنرل ضیا کو پانچ برس کے لیے صدر منتخب کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت نے جنرل ضیاء کی جانب سے اسلام کے نام پر اپنے آمرانہ اقتدار کو طول دینے کی کوشش ناکام بنانے کے لیے اس ریفرنڈم میں "نہ” کی صورت میں جواب دیا لیکن پھر بھی 1984 میں ہونے والے اس ڈھونگ میں ضیا نے تاریخ ساز دھاندلی کے زور پر 98 فیصد ووٹ حاصل کیے اور کامیاب قرار پایا۔ ضیا دور کے ریفرنڈم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ملک سے پارلیمانی نظام کا خاتمہ کرکے صدارتی نظام لانے کے لیے ایک اور ڈھونگ ریفرنڈم کروانے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور کیا اسی مقصد کے تحت سپریم کورٹ میں ہم عوام پاکستان کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button