کیا عاصمہ شیرازی نے جادو ٹونے کا ذکر کرکے کوئی جرم کیا؟

سنیئر صحافی عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنی ایک تحریر میں اشارتا جادو ٹونے کا تذکرہ کرنے کی وجہ سے تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ کی سخت تنقید کی زد میں ہیں جبکہ صحافتی تنظیموں، وکلا اور سول سوسائٹی نے عاصمہ کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کپتان اینڈ کمپنی کو شٹ اپ کال دی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی سیاست میں اس وقت جادو ٹونے کا تذکرہ اپنے عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں سنیئر صحافی عاصمہ شیرازی کی جانب سے ملکی معاملات جادو ٹونے سے چلانے لی باتوں کا تذکرہ کیا گیا تو وزیراعظم عمران خان کے وزراء اور مشیروں نے عاصمہ شیرازی کو ٹرول کرنا شروع کردیا اور ان پر کھلے حملے شروع کردیے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان ان الزامات کو کس قدر سنجیدہ لیتے ہیں۔ وزیراعظم خود کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ بشریٰ بی بی نے انہیں اور ان کی حکومت کو بلاؤں سے بچا رکھا ہے لیکن جب یہی بات کوئی صحافی کرتا ہے تو اس پر تنقید کے پہاڑ توڑ دیے جاتے ہیں۔
اس مرتبہ تو تحریک انصاف کے ٹرول بریگیڈ کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر شہباز گل نے بھی ایک باقاعدہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ جواب میں صحافتی تنظیموں، وکلاء اور سول سوسائٹی نے عاصمہ شیرازی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومتی ذمہ داران وار ٹرولز کو خبردار کیا ہے کہ خاتون صحافی کو ان کے کالم کی چند لائنوں کی بنیاد پر ہراساں کرنے سے باز آجائیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی کی جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومتی وُزرا اور مُشیران کی طرف سے عاصمہ شیرازی کے خلاف ہرزہ سرائی اور آزادی اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کی کوششوں کی پُرزور مُذمت کرتے ہیں۔جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی، عاصمہ شیرازی اور دیگر صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور تمام تر قانونی اور اخلاقی مدد کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
خیال رہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی وزیراعظم پر یہ الزام لگا چکی ہے کہ وہ ملکی معاملات کو عقلیت پسندی کی بجائے روحانی حساب کتاب اور جادو ٹونے سے چلانے کی روش پر چل رہے ہیں جس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے ہے۔ ملک کے سیاسی و سماجی حلقوں میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ آرمی چیف سے لے کے ڈی جی آئی ایس آئی اور اعلی حکومتی عہدوں پر تعیناتیوں کے لئے بھی جادو ٹونے کا سہارا لیا جاتا ہے جو کہ جدید دنیا کے مقابلے میں ایک انوکھا چلن ہے۔
خیال رہے کہ صحافی عاصمہ شیرازی نے بی بی سی اردو پر کہانی بڑے گھر کی، کے عنوان سے کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر افسانوی طرز میں ستاروں کی چال کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اپنے کالم کے آخر میں لکھا تھا کہ اب کالے بکرے سرِ دار چڑھیں یا کبوتروں کا خون بہایا جائے، پُتلیاں لٹکائی جائیں یا سوئیاں چبھوئی جائیں، معیشت یوں سنبھلنے والی نہیں جبکہ معیشت کے تقاضے تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عاصمہ نے لکھا کہ اب تبدیلی کے اس چرخے میں کون کون آئے گا؟ سیاسی چال ستاروں کے حال سے زیادہ اہم ہے۔ اس کالم کے بعد حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں، وفاقی وزرا اور کارکنوں نے سوشل میڈیا پر عاصمہ شیرازی کے خلاف مہم چلائی اور توہین آمیز الفاظ کے ساتھ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنایا گیا۔وفاقی وزرا نے ٹوئٹر پر عاصمہ شیرازی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الزامات بھی عائد کیے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے عاصمہ شیرازی کے مضمون کو تضحیک آمیز اور گالم گلوچ سے تعبیر کرتے ہوئے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہباز گل نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمارے ہاں سیاست کے نام پر بداخلاقی ہورہی ہے، چند بیمار سیاسی اور صحافتی ذہنیت مل کر اس ملک کی اخلاقی گراؤٹ کی طرف جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند مہینوں سے مسلسل ایک مہم شروع کی گئی ہے اور خاتون اول پر بار بار حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو عمران خان اچھے لگتے ہیں برے لگتے ہیں، ان پر سیاست کیجیے، عمران خان کا خاندان اچھا یا برا لگتا ہے، آپ دل میں بغض رکھیے لیکن معاشرے کی کچھ اخلاقیات ہیں، مثلاً شہباز شریف کی بیٹیاں ہیں وہ میری بہنیں ہیں، مجھے ان کے نام تک نہیں یاد، مجھے نہیں پتا کوئی میلاد شریف پر جاتی ہیں یا مزار پر جاتی ہیں، نواز شریف کی مریم نواز کے علاوہ بھی ایک بیٹی ہے، مجھے ان کے نام کا بھی نہیں پتا، وہ ہمارے لیے احترام کی جگہ پر ہیں اور ہم کبھی ان کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ نے سیاست میں بھی حصہ لیا، اس کے باوجود کوئی ایک بیان ایک ذات یا کردار پر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے کوئی بیان دیاگیا؟
شہباز گل نے کہا کہ جب خاتون اول کے بارے میں بات کی جاتی ہے تو سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ عمران خان کی بیوی ہونے سے پہلے اس قوم کی بیٹی ہیں، اس کے بعد یہ یاد رکھنا پڑے گا کہ وہ ایک ماں ہے، اس کے بچے ہیں اور بچوں کے بھی بچے ہیں۔ شہباز گل نے کہا کہ عاصمہ شیرازی بشریٰ بی بی پر جھوٹے الزامات عائد کر کے خاتون اول کی تحقیر کر رہی ہیں، آپ انہیں گالی دے رہے ہیں، شہباز گل نے کہا کہ عاصمہ شیرازی کو ثبوت دینا پڑے گا، بکرے کٹے، جادو ٹونہ پتا نہیں کیا کچھ خاتون اول پر ڈال دیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو اسٹوری کرنے کا پورا حق ہے لیکن بے پر کی اڑانا کہاں کی صحافت ہے۔ شہباز گل نے کہا کہ جب 3 سال میں وزیراعظم کا کوئی اسکینڈل نہیں ملا تو جادو ٹونا، جن، چڑیلیں، سوئیاں نکال لائے۔ اب میں انکا کیا جواب دوں، یہ سب مضحکہ خیز باتیں ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ شہباز گل خود بھی جانتے ہیں کہ جس جادو ٹونے کا وہ ذکر کر رہے ہیں ہیں وہ بنی گالا میں ایک حقیقت کی صورت اختیار کر چکا ہے اور نہ صرف عمران خان کے قریبی حلقے بلکہ پاکستانی ایجنسیاں بھی اس معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
