کیا غیرملکی مصنوعات کے بائیکاٹ سے اسرائیل کو نقصان ہوگا؟

نہتے فلسطینیوں پر بم برسانے والے اسرائیل کیخلاف پوری امت مسلمہ میں غم وغصہ پایا جاتا ہے، دنیا بھر کے مسلمان اسرائیل کیخلاف سراپا احتجاج ہیں، اس کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی اس بائیکاٹ مہم سے متعلق مختلف مواد شئیر کیا جا رہا ہے جیسا کہ درجنوں مصنوعات جن سے متعلق صارفین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ اسرائیلی کمپنیاں بناتی ہیں یا پھر ان کی پیرنٹ کمپنی کے مالکان یہودی ہیں، اس میں روزمرہ کے استعمال کی چیزوں سمیت کئی بیشتر ملٹی نیشنل فوڈ چینز کا بائیکاٹ بھی شامل ہے۔پاکستان میں جاری اس بائیکاٹ مہم میں کئی لوگ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں جس میں وہ سوشل میڈیا پر پوسٹس کرنے کے علاوہ مختلف مارکیٹوں اور دکانوں سے مخصوص برانڈز کے بورڈ بھی ہٹا رہے ہیں۔اس مہم کا حصہ بننے والے پاکستانی محمد علی خان کا بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی یہ مہم نئی نہیں۔کئی صارفین نے ایسی غیر ملکی مصنوعات کی تصاویر بھی لگائیں جس میں خریدار کو ایک چیز کے ساتھ دوسری چیز مفت دی جا رہی ہے لیکن وہ ان اشیا کا بائیکاٹ کر رہے ہیں، زیادہ تر صارفین مختلف کیپشن لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بائیکاٹ مہم اثر انداز ہو رہی ہے۔دوسری جانب بہت سے لوگ اس بائیکاٹ مہم سے متعلق یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا اس مہم سے واقعی ہی اسرائیل کو نقصان ہوگا یا پھر اس سے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچے گا؟ ماہر معیشت ڈاکٹر نور فاطمہ کا کہنا تھا کہ جہاں تک یہ خیال ہے کہ اس سے پاکستانی معیشت پر بہت فرق پڑے گا تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ معاملہ غیر ملکی کمپنیوں کی مصنوعات یا برانڈز کا ہے اور انھوں نے پہلے ہی اپنے منافع کی شرح بہت زیادہ رکھی ہوتی ہے۔نور فاطمہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک پاکستان میں برانڈز یا مصنوعات کے بائیکاٹ سے اسرائیل کو نقصان پہنچنے کی بات ہے تو مفروضہ بھی درست نہیں کیونکہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ نہ ہی کوئی تجارتی تعلقات ہیں اور نہ ہی پاکستان وہاں کسی قسم کی برآمدات کر رہا۔محمد علی خان کا کہنا ہے کہ بے شک اس مہم میں کچھ ایسے برانڈز بھی شامل ہیں جن کا تعلق اسرائیل سے نہیں لیکن وہ اسرائیلی جارحیت کی حمایت کر رہے ہیں، پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک اور بین الاقوامی کمپنی میں کام کرنے والے ملازم نے بتایا کہ ہماری سیل میں ستر فیصد تک کمی آئی جبکہ ہمیں باقائدہ طور پر کمپنی کی جانب سے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ لوگوں میں پائے جانے والے غصے کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نوکری کے دوران خاص خیال رکھیں۔ایک اور ملٹی نیشل کمپنی کے مالک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس بائیکاٹ کا اثر ہر کمپنی پر مختلف انداز میں پڑ رہا ہے تاہم ابھی تک ہماری کمپنی کا کوئی تقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ماہر معیشت ڈاکٹر نور فاطمہ کا کہنا تھا کہ تمام کمپنیاں مختلف شکلوں میں یہ ادائیگیاں کرتی ہیں۔ جیسا کہ کوئی کمپنی فرنچائز فیس ادا کرتی ہے، کوئی کمپنی رائلٹی ادا کرتی ہے جو پانچ یا سات فیصد یا پھر اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے اور کچھ کمپنیاں منافع کو شئیر کرتی ہیں اور کچھ ایک ہی مرتبہ رقم کی ادائیگی کر کے فرنچائز خرید لیتے ہیں لیکن یہاں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ فائدہ اصل کمپنی کو کم اور اس کمپنی کو زیادہ ہوتا ہے جو کسی ملک میں آپریٹ کر رہی ہوتی ہے۔

Back to top button