کیا مریم نواز ن لیگ کی گرتی ساکھ کو بحال کر پائیں گی؟

مریم نوازملکی سیاسی بساط پر مسلم لیگ ن  کی عوام میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر نے کیلئے واپس لوٹ رہی ہیں جس مریم نواز کو کچھ ماہ پہلے پارٹی قیادت سائڈ لائن کرنا چاہتی تھی آج شاید وہ پارٹی کی سب سے بڑی اور واحد امید دکھائی دے رہی ہیں۔ ن لیگ کے اندرونی مسائل اور اتحادی حکومت کی کارکردگی اور بڑھتی مہنگائی پر عمران خان کے لفظی پوسٹ مارٹم نے پارٹی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم لیگ کا خاصہ رہا ہے کہ جب بھی اقتدار میں آئی کمزور ہوتی چلی گئی ۔۔اس وقت بھی پارٹی میں مایوسی  کی کیفیت طاری ہے اور خود پارٹی قیادت یہ کہتی دکھائی دے رہی ہے کہ عدم اعتماد کے بعد ضروری ترامیم کر کے انتخابات کی راہ لینی چاہیئے تھی جبکہ شہباز شریف اور ان کے حامیوں نے ایک نیا بیانیہ بنانے کی کوشش کی ہے کہ ہم سیاست نہیں ریاست بچا رہے ہیں ۔۔۔ اس بیانیے کو تاحال کچھ خاص پزیرائی حاصل ہوتی دیکھائی نہیں دے رہی ۔۔

ان نازک حالات میں مریم کا جارحانہ انداز شائد عوام میں مسلم لیگ کو واپس کھینچ پائے ۔۔کیوں کہ نواز شریف بھی اس بات کو سمجھ گئے ہین کہ گڈ کاپ بیڈ کاپ اب نہیں کھیلا جا سکتا ۔۔۔مریم کو ہر صورت پارٹی کو دو بڑے چیلنجز سے نکالنا ہو گا ایک معیشت اور عوامی ریلیف اور دوسرا اندورنی ٹوٹ پھوٹ ۔۔۔پاکستان میں سیاسی ماحول گرم ہو جانے کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ نون کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی واپسی کے بعد مارچ کے آخر میں ان کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اپنے خلاف زیر التوا کیسز کا سامنا کرنے کے لیے وطن واپس آ جائیں گے۔ یاد رہے کہ نواز شریف نے حال ہی میں مریم نواز کو مسلم لیگ نون کا چیف آرگنائزر مقرر کرنے کے بعد پارٹی کا سینئر نائب صدر بھی بنا دیا ہے۔ اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان نون لیگ کو دو ماہ کے اندر پارٹی انتخابات کروانے کی ہدایت بھی جاری کرچکا ہے، چنانچہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مریم نواز نون لیگ کی اگلی صدر بھی منتخب ہو سکتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز پاکستان واپس لوٹنے کے بعد نواز شریف کی واپسی کی تیاریاں شروع کردیں گی۔ مارچ کے آخر میں سابق وزیر اعظم بھی واپس پہنچ سکتے ہیں تاکہ اپنے خلاف زیر التوا کیسز میں کلئیر ہونے کے بعد اگلے الیکشن کی تیاری کر سکیں۔

نون لیگ کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز وطن واپس آکر ان تمام سازشی کرداروں کے خلاف جارحانہ بیانیہ اپنانے کا ارادہ رکھتی ہیں جنہوں نے نواز شریف کو وزارت عظمی سے ہٹانے اور پھر 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران کو برسر اقتدار لانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ 19 جنوری کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران جب نواز شریف سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے مسائل کا ذمہ دار ’جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کو سمجھتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ’جی ہاں، آپ سب جانتے ہیں، سب واقف ہیں۔ اب نہ کسی کی شکل چھپی ہوئی ہے اور نہ ہی نام چھپا ہوا ہے۔ چند سازشیں کرداروں نے پورے پاکستان کو اپنی ذات کے گرد گھمایا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے گوجرانوالہ کا جلسہ یاد دلاتے ہوئے میں نے چند کرداروں کے نام لے کر کہا تھا کہ یہ لوگ تمام خرابیوں کے اصل ذمہ دار ہیں، میں نے تب ہی ہر بات کھول کر رکھ دی تھی۔ ہمارے ملک کے ساتھ جو ستم ظریفیاں ہوئی ہیں، اور جو ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے اس کو بتانا اور عوام تک پہنچانا میری ذمہ داری ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2020 کے دوران گوجرانوالہ میں ایک تقریر کے دوران نواز شریف نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر اپنی حکومت کو ’رخصت‘ کرانے اور عمران خان کی حکومت کے لیے ’جوڑ توڑ‘ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انھوں نے تب کے آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ سب کچھ آپ کے ہاتھوں سے ہوا ہے، جواب بھی آپ کو دینا ہوگا۔‘ اب نون لیگ کے اندرونی ذرائع یہ خبر دے رہے ہیں کہ مریم نواز شریف پاکستان واپس پہنچنے کے بعد عدلیہ اور فوج میں موجود عمران کے ان سابقہ سہولت کاروں کو بےنقاب کرنے کے لیے مہم چلائیں گی جنہوں نے اپنے آئینی کردار سے تجاوز کرتے ہوئے سازشیں کیں۔ پنجاب میں سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے ہاتھوں کئی بار شکست کھانے اور پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد صوبے میں تین ماہ کے اندر عام انتخابات کے انعقاد کے پیشِ نظر مسلم لیگ (ن) کی قیادت اب پی ٹی آئی کے مقابلے کے لیے ایک نئے ’بیانیے‘ کی تلاش کر رہی ہے۔ مسلم لیگ نون کے اندرونی ذرائع کے مطابق ووٹ کو عزت دو کا پرانا بیانیہ اب اسلئے نہیں چلے گا کہ 2018 کے برعکس 2023 میں عمران خان کی جماعت اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور نواز لیگ پرو اسٹیبلشمنٹ ہو چکی ہے۔ چنانچہ اب ووٹ کو عزت دلوانے کا مسئلہ نواز شریف کو نہیں بلکہ عمران خان کو درپیش ہے۔ ایسے میں نون لیگ کو عوام کو کوئی نیا چورن دینا ہوگا، لہذا سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے اس مقصد کے لیے پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں کو عمران خان اور فوج اور عدلیہ میں ان کے سابقہ سہولت کاروں کے خلاف ایک چارج شیٹ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ انہیں بے نقاب کیا جا سکے۔

عمران خان کے جن سابقہ سہولت کاروں کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں ان میں سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ، سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور دیگر شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی سازش تیار کی۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں انتخابی مہم کے دوران ان تین کرداروں کو مکروہ قرار دے کر انہیں مانجا لگایا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پارٹی میں پختہ احساس موجود ہے کہ عمران خان کا ’غیر ملکی آقاؤں کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے‘ کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مقبول بیانیے ’ووٹ کو عزت دو‘ کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔

Back to top button