ڈالر نے ڈار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیسے کیا؟

مصنوعی حد بندیوں کو توڑتےہوئے امریکی کرنسی نے روپے کو پٹخا اور ٹریپل سینچری کی جانب گامزن ہوتے ہوئے پاکستانی معیشت کو ٹیک اوور کرلیا۔۔۔ایک ہی دن میں چوبیس روپےچون پیسےاضافے سے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے۔۔۔ اوپن مارکیٹ میں امریکی کرنسی نے ریکارڈ ساز اننگز کھیلی تو سوشل میڈیا صارفین کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وہ دعوے بھی یاد آگئے۔۔۔جو وفا نہ ہوئے ۔۔۔۔وہ کہتے ہیں ناں کہ مجھے اب بھی یاد ہے زرا زرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو ۔۔۔۔ اکیلے اکیلے نے وزیر خزانہ ڈار صاحب کو ان کے سارے وعدے یاد کروائے ۔۔۔ طنز کے نشتر چلا کر اسحاق ڈار کو چھلنی کر دیا ۔۔۔ شوشل میڈیا پر ایک ہی سوال گردش کرتا رہا ‘کیا ڈالر 200روپے سے نیچے آ گیا؟
گذشتہ سال ستمبر میں جب اسحاق ڈار نے بطور وزیر خزانہ ذمہ داریاں سنبھالیں تو ڈالر کی قدر میں اس وقت معمولی سی کمی آئی جس پر سوشل میڈیا پر ڈالر ڈار سے ڈر گی ٹاپ ٹرینڈ رہا، لیکن یہ ’ڈر‘ عارضی ثابت ہوا۔ڈالر کی حد بندی کرنے کے تمام تر اقدامات ریت کی دیوار ثابت ہوئے ۔۔ دنیا کی طاقتور کرنسی کو پاکستان سے افغانستان سمگلنگ کو روکنےکا معاملہ ہو یا بلیک مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کا ۔۔۔کوئی ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے جا سکےیہاں سوال یہ بھی ہے کہ آخر حکومت وقت کو ڈالر کے آگے سر نگوں کیوں کرنا پڑا ؟ درحقیقت امریکی کرنسی کی قدر میں اضافے کا تعلق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات سے ہے ۔۔۔ جس میں عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کرنے والو ں نے ہتھیار ڈال کر’ جی جو حکم حضور آپکا’ کی پالیسی اپنا لی ۔۔۔۔
شوشل میڈیا کے گرماگرم محاذ پر صحافیوں نے بھی پاکستانی عوام پر آنے والی مہنگائی کی نئی سونامی پر صف ماتم بچھا دیا ۔۔۔ مشرف زیدی بولے عوام کو پچھلے چار ماہ پریشانیاں سہنا پڑیں ابھی اگلے چار ماہ بھی پکچر چلتی رہے گی ۔۔۔ کیونکہ اب اشیاء ضروریہ کی قیمتیں فل سپیڈ سے بڑھیں گی ۔۔۔ڈار صاحب پر طنز کرتے ہوئے کہا اب دیکھیں انا کب تک بجلی اور گیس کی قیمتوں کا بوجھ اٹھا سکے گی۔پاکستان تحریک انصاف تو پہلے ہی موقع کی منتظر تھی ۔۔۔۔ ڈیفالٹ کی رٹ لگانے والے کہاں کسی سے پیچھے رہنے والے تھے۔۔۔ پی ٹی آئی کے ترجمان مزمل اسلم نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا سارا ملبہ وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک پر ڈال دیا ۔۔۔ کیوں نکالا کے بعد سوال پوچھا ‘ڈالر کو مصنوعی طور پر کیوں روکا’؟تنقیدی نشتر صرف ڈالر صاحب کو نہیں لگے بلکہ بوچھاڑ مسلم لیگ کے قائد پر بھی ہوئی ۔۔۔ وکیل شفیق احمد بولے کوئی نواز شریف کو جگا کر کہے سمدھی کا جادو نہیں چلا ۔۔۔ کوئی اور خاندان کا ماہر معیشت دیکھ لیں ۔۔۔
کیوں روکا کہ ساتھ ساتھ ایک اور سوال شوشل میڈیا کے مورچوں میں زیر گردش رہا ‘مفتاح کو کیوں ہٹایا ؟ کالم نویس عائشہ اعجاز خان نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ میں اسحاق ڈار کے حامیوں سے پوچھنا چاہوں گی کہ مفتاح کو تبدیل کرنے کا فائدہ کیا ہوا۔رواں ہفتے ایکسچینج کمپنیوں کی طرف سے ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر پر مقرر حد ختم کیے جانے کے بعد بظاہر یوں لگتا ہے کہ ڈالر روپے کو بے قدر کر کے ہی چھوڑے گا۔فکر کے بات یہ ہے کہ مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ڈالر ملک میں نایاب بھی ہو گیا ہے۔۔۔ مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر بھی لگ بھگ ساڑھے چار ارب ڈالر کے رہ گئے ہیں جس سے ملک کی معاشی صورت حال وینٹی لیٹر پر لگی دیکھائی دیتی ہے، پاکستان کی سر توڑ کوشش ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ’آئی ایم ایف‘ قرض کی آئندہ قسط جلد جاری کر دے لیکن تاحال اس بارے میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔آئی ایم ایف کی گارینٹی ملک کے لئے ناگزیر اس لئے بھی ہے کیوں کہ اس گارنٹی کی وجہ سے دیگر ممالک سے ملنے والی امداد کو بھی بریکیں لگی ہوئی ہیں ۔۔۔۔یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ حل کیا ہے ؟ آخر ڈالر کو کیسے منایا جائے؟ ضروری ہے کہ ملک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں ڈالر رہ سکے اور فرار کا راستہ اختیار نہ کرے، جب ڈالر مارکیٹ میں رہے گا تو رفتہ رفتہ دوست بن ہی جائے گا ۔۔۔۔پاکستانی روپے کی قدر بڑھانے کے لیے عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ دونوں کرنسیاں ساتھ ساتھ چل سکیں
