کیا مولانا عبدالخیر آزاد چیئرمین رویت ہلال کمیٹی لگنے کے اہل تھے؟


مفتی منیب الرحمن کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کے عہدے سے ہٹا کر بادشاہی مسجد کے مولانا عبدالخیر آزاد کو نیا چیئرمین لگانے سے شاید چاند دیکھنے کا تنازعہ تو ختم ہو جائے لیکن رویت ہلال کمیٹی نئے تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ مولانا عبدالخیر آزاد کی اس اہم عہدے کے لیے اہلیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ دینی و علمی قابلیت کے حساب سے تو مولانا نعیمی مولانا آزاد سے ہزار گنا بہتر تھے اور اگر تبدیلی واقعی بہتری کے لئے لانی تھی تو کسی مستند پڑھے لکھے شخص کو چیئرمین رویت ہلال کمیٹی لگایاجاتا۔ ناقدین کہتے ہیں کہ مولانا عبدالخیر آزاد کو بادشاہی مسجد کی خطابت بھی صرف اس لیے ملی تھی کہ ان کے والد نے وہاں دہائیوں تک امامت کی تھی ورنہ تعلیمی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر تو وہ اس عہدے کے بھی قابل نہیں تھے۔
دوسری طرف رویت ہلال کمیٹی کے نئے چئیرمین مولانا عبدالخبیر آزاد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ تمام فریقین کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ وہ کیا کسی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں جو فریقین کو ساتھ لیکر چلنے کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم تبدیلی سرکار کے سائنسی وزیر فواد چودھری کی لائن لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رویت میں اصل شرعی اصول شہادت ہی ہے لیکن اب سائنس سے ضرور استفادہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ کہ پچھلے ڈھائی برس کے دوران رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب اور فواد چوہدری کے درمیان چاند دیکھنے کے حوالے سے سائنسی طریقہ کار اپنانے پر تنازعہ چلتا رہا اور دونوں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے۔ کچھ حکومتی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ مفتی منیب کی فراغت اسی تنازعہ کا نتیجہ ہے اور انہیں ہٹانے کا مقصد بنیادی طور پر ایک کمزور چیئرمین لانا تھا جو حکومت کے کہنے میں ہو۔
لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ مولانا عبدالخبیر آزاد نہ صرف کمزور ہیں بلکہ نا اہل اور کم علم بھی ہیں جو کسی بھی صورت اس اہم ترین کمیٹی کا چیرمین لگائے جانے کے قابل نہیں تھے۔ لہذا خیال کیا جارہا ہے کہ مفتی منیب کی جگہ مولانا عبدالخیر آزاد کو یہ عہدہ دیے جانے سے رویت ہلال کمیٹی آنے والے دنوں میں مزید تنازعات کا شکار ہو جائے گی کیوں کہ کمیٹی کے بیشتر ممبران اپنی دینی اور علمی قابلیت کے حساب سے مولانا آزاد سے بہت بہتر ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں رمضان اور شوال کا چاند ہمیشہ سے ہی مختلف تنازعات کی زد میں رہتا ہے، کبھی کسی ایک صوبے میں عید کا اعلان پہلے کر دیا جاتا ہے تو کبھی ’سائنس بمقابلہ مذہب‘ کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری وزارت سنبھالنے کے بعد سے رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے ان اختلافات کو ختم کرنے کےلیے سائنس کی مدد سے گزشتہ برس اگلے پانچ برسوں کا قمری کیلینڈر جاری کیا تھا اور ساتھ ہی ایک ایپ بھی جاری کی گئی تھی جس کی مدد سے عام افراد بھی چاند کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
اب تقریباً دو دہائیوں سے رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تعینات مفتی منیب الرحمان کو ہٹا کر ایک نئی 19 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رویت کمیٹی اور اسکے چیئرمین کی تبدیلی سے ہر سال تنازعے کا باعث بننے والے رمضان اور شوال کے چاند کو دیکھنے کے مراحل میں کیا کوئی تبدیلی آئے گی یا سائنس اور مذہب کی بحث ایسے ہی جاری رہے گی؟
اس حوالے سے نئے چیئرمین عبدالخبیر آزاد کا کہنا ہے کہ ان کی فواد چوہدری سے ملاقات ہوئی ہے اور ان کی اس حوالے اپنی سوچ ہے۔ لیکن ہم کوشش کریں گے کہ تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پہلے بھی کوئی ایسے مسائل نہیں تھے، کچھ غلط فہمیاں ضرور ہو سکتی ہیں اور اس بارے میں فواد چوہدری سے بھی جہاں ہمیں رہنمائی ملے گی ہم لیں گے تاکہ شرعی اصولوں کے مطابق فیصلے ہو سکیں۔
دوسری طرف رویتِ ہلال کمیٹی کے رکن مفتی ضمیر ساجد نے ماضی میں فواد چوہدری اور مفتی منیب کے تنازعہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد صاحب کی اپنی سوچ ہے۔ تب بھی سائنسی علوم سے تعلق رکھنے والے ماہرین رویت کے رکن تھے اور اب بھی ہیں، ہم نے پہلے بھی اس سے انکار نہیں کیا تھا، اب بھی نہیں کریں گے۔ چاند کا مشاہدہ ضرور کیا جائے گا، شرعی اصولوں کے مطابق چاند کو دیکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے خیبر پختونخوا کی مسجد قاسم علی خان میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں ایک غیر سرکاری کمیٹی چاند کی رویت کے حوالے سے فیصلہ کرتی آئی ہے، جس کے باعث ملک بھر میں دو عیدیں ہوتی آرہی ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے گزشتہ برس ماہ رمضان کی ابتدا میں ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کی تھی تاکہ آئندہ پورے ملک میں رمضان اور عیدوں کا تعین یہ کمیٹی کر سکے تاہم مسجد قاسم علی خان کی جانب سے شوال کے چاند کی رویت کے اعلان کے بعد صوبے کے بیشتر علاقوں میں سرکاری سطح پر عید الفطر منائی گئی تھی۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ ہماری سابقہ کمیٹی بھی یہی چاہتی تھی کہ ہم اس حوالے سے مفاہمت سے فیصلے کریں اور ہم اس مرتبہ ان سے جا کر ملاقات بھی کریں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں اس لیے کوشش ہو گی کہ پورے ملک میں عید ایک ہی دن کی جائے۔
مفتی ضمیر ساجد کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پراپیگینڈا کیا جا رہا ہے کہ جیسے مفتی منیب کو کسی سازش کے تحت ہٹایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بالکل بھی نہیں بلکہ رویت ہلال کمیٹی کےلیے قواعد و ضوابط بنانے کے حوالے سے فائل تو نواز شریف دور سے چل رہی تھی۔ چئیرمین رویت ہلال کمیٹی کی تبدیلی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک صارف عدیل راجہ نے اسے پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کہا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے وہ کیا جو کوئی حکومت نہیں کر سکی۔
لیکن اکثر صارفین حکومت کے اس فیصلے پر تنقید کرتے بھی دکھائی دیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’سچی آواز، اچھا کردار اور انتہائی پڑھے لکھے شخص مفتی منیب سے بہتر کوئی نہیں‘ اور ساتھ ہی انہوں نے’ مفتی صاحب کو بحال کرو‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ اسکا کہنا تھا کہ مفتی منیب کی جگہ مولانا آزاد کے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی لگنے سے اس کمیٹی کی حیثیت اور اہمیت بڑھنے کی بجائے کم ہوئی ہے کیونکہ جو لوگ عبدالخیر آزاد کی علمی قابلیت کو جانتے ہیں انہیں اندازہ ہے کہ یہ صرف اور صرف ایک سیاسی پوسٹنگ ہے جسکا قابلیت اور میرٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ صارف نے لکھا کہ اگر حکومت اس عہدے پر مولانا حنیف جالندھری یا ان جیسے کسی قابل عالم کو لاتی تو رویت ہلال کمیٹی اور موجودہ حکومت دونوں کی ساکھ کو فائدہ پہنچتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button