کیا موٹروے پر ایم ٹیگ کے بغیر داخلے پر پابندی جائز ہے؟

نیشنل ہائی ویز اور موٹر ویز پولیس کی جانب سے ایم ٹیگ کے بغیر کاروں کے موٹر وے پر داخلے پر پابندی کا فیصلہ عوام کی جانب سے سخت تنقید کی زد میں آ گیا۔ ان کا سوال ہے کہ سموگ کا مسئلہ آخر کاروں پر ٹیگ لگوانے سے کیسے حل ہو جائے گا، یہ بات سمجھ نہیں آئی۔
لاہور اسلام آباد موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ اب موٹر وے پر ایم ٹیگ کے بغیر کاریں داخل نہیں ہو سکیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر کیا گیا ہے کیونکہ عدالت لاہور کی فضا میں پھیلی ہوئی سموگ کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔ ایم ٹیگ کی شرط کا اطلاق راوی ٹول پلازہ کو جوائن کرنے والی تمام موٹر ویز پر ہو گا۔ اس فیصلے کے بعد سے موٹروے ٹول پلازہ پر روزانہ گاڑیوں کی لمبی لمبی لائینیں لگی نظر آ رہی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سفر کرنے والی ہر گاڑی کے مالک کو ایم ٹیگ بنوانے کے لیے ایک گھنٹے سے دو گھنٹے تک قطار میں لگنا پڑ رہا ہے۔ چنانچہ عوام نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔
دوسری جانب موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ کا ہے لہذا عوام کو ان پر تنقید نہیں کرنی چاہیے۔ موٹر وے پولیس کے مطابق ایم ٹیگ شناختی کارڈ اور موبائل نمبر پر جاری ہوسکتا ہے اور گاڑی کے کاغذ دکھانا ایم ٹیگ جاری کرواتے وقت ضروری نہیں۔ موٹر وے پولیس کا کہنا یے کہ لاہور ہائی کورٹ نے بڑھتی ہوئی اسموگ کے باعث ایم ٹو پر ایم ٹیگ کو لازمی قرار دینے کی ہدایت کی تھی۔ عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ جن ایم ٹیگ گاڑیوں میں بیلنس نہیں انہیں بھی داخل نہ ہونے دیا جائے۔ عدالت کا موقف تھا کہ ایم ٹیگ نہ لگانے کی وجہ سے انٹر چینج پر گاڑیوں کا رش لگنے سے مسلسل دھواں نکلتا ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی پیدا ہوتی ہے لہذا ایم ٹیگ سے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ میں کمی واقع ہوگی۔
ہاد رہے کہ 7 دسمبر کے بعد سے موٹروے پر صرف ایم ٹیگ والی گاڑیاں ہہ چل رہی ہیں۔ ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کو روک کر ایک سائیڈ پر لگا دیا جاتا ہے اور گاڑی مالکان کو ایم ٹیگ حاصل کرنے کے لیے لمبی لائنوں میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ موٹروے پولیس کے ترجمان یاسر محمود نے بتایا کہ ایم ٹیگ ایک قسم کی چپ ہے جو گاڑی کی فرنٹ ونڈ سکرین کی دائیں طرف لگائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم ٹیگ کو اصل میں ایک ریڈیو فریکونسی آئیڈنٹیفیکیشن ٹیکنالوجی پر چلایا جاتا ہے جس کو موٹروے انٹرچینج پر لگے بوتھ میں سکینر سے سکین کیا جاتا ہے۔ اس کی مثال اس طرح ہے جیسے آپ کے شناختی کارڈ کو کسی سکیورٹی چیک پوانٹ پر سکین کیا جاتا ہے، اور آپ کا تمام ریکارڈ سامنے آجاتا ہے۔اسی طرح ایم ٹیگ آپ کے ٹول ٹیکس دینے کے لیے ایک قسم کا اکاؤنٹ کا کام بھی کرتا ہے۔ اس چپ کے ذریعے موٹروے پر کسی بھی انٹر چینج کو کراس کرنے کے لیے ڈرائیور کو بغیر رکاوٹ گزرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اب اس چپ میں ایسا کیا ہوتا ہے کہ ڈرائیور بغیر روک ٹوک کے انٹرچینج پر سے گزر سکتے ہیں؟ اسی حوالے سے یاسر محمود نے بتایا کہ یہ چپ اصل میں پیسوں کی ایک رسید ہوتی ہے جس کو انٹر چینج پر گزرنے کے دوران سکین کیا جاتا ہے۔ ڈرائیور کسی بھی موٹروے پر کسٹمر کئیر سروس سے یہ چپ حاصل کر سکتا ہے اور پھر اس میں اپنی مرضی کا بیلنس ڈالوا سکتا ہے۔ بیلنس ڈالنے کے بعد جب ڈرائیور انٹرچینج کو کراس کرتا ہے، تو وہاں جیب سے پیسے نکالنے اور جمع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ انٹرچینج پر وہی ایم ٹیگ سکین ہو جائے گا اور ایم ٹیگ اکاؤنٹ سے ٹول ٹیکس کاٹ لیا جائے گا۔ یوں سمجھ لیں کہ یہ آپ کی گاڑی کا ایک اکاونٹ ہے جس میں آپ ٹول ٹیکس ایڈوانس میں جمع کرا دیتے ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں موٹروے پر سفر کرنے کا اپنا ٹول ٹیکس مقرر ہے جو ہر ایک گاڑی کو دینا لازمی ہے۔ ابتدا میں ایم ٹیگ کی جگہ ای ٹیگ نام کی چپ دی جاتیں تھیں جو اسی ایم ٹیگ کی طرز پر کام کرتی تھی لیکن ای ٹیگ لگانے کے لیے آپ کو گاڑی کی رجسٹریشن بھی مہیا کرنا ہوتی ہے لیکن اب حکام کے مطابق اس شرط کو ختم کر دیا گیا ہے۔ ایم ٹیگ لگی گاڑیوں کے لیے موٹروے پر الگ لین بنائی گئی ہے اور جیسے ہی ایم ٹیگ لگی گاڑی کا ڈرائیور انٹرچینج کراس کرتا ہے، تو خود بخود ان کے اکاونٹ سے ٹول ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے اور اسکی تفصیل بذریعہ موبائل پیغام بھی موصول ہوجاتا ہے یعنی ڈارئیور کو بذریعہ ایس ایم ایس بتایا جاتا ہے کہ اتنا ٹول ٹیکس اکاونٹ سے کاٹ لیا گیا ہے۔
