کیا وقت آنے پر سیانا کپتان گدھے کو باپ بنا لے گا؟

مطلب نکالنے کیلئے بانی پی ٹی آئی ناپسندیدہ شخص کو گلے لگانا کارثواب سمجھتے ہیں۔ جولوگ عمران خان کے مولانا فضل الرحمن کی چوکھٹ پر لیٹنے اور محمود خان اچکزئی کو صدارتی امیدوار بنانے پر حیران ہیں۔ انھیں حیران ہونے کی بجائے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ مطلب پڑنے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی کو بھی گلے لگانے یعنی گدھے کو بھی باپ بنانے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ شیخ رشید کو انہوں نے چپڑاسی بھی نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا اور پھر اپنا ہمزاد بنالیا۔ پرویز الہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈا کو قرار دیا۔ آج وہ ان کی پارٹی کے صدر ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق عمران کےپجاریوں کے نزدیک یہ ان کا بڑا پن ہے۔ دیوتا کا ہر عمل پوتر ہوتا ہے۔ اسے شک کی نظر سے دیکھنا بھی پاپ ہے۔ شک کر کے حشر میں کیا منہ دکھائیں گے؟ تاہم عمران خان کو قریب سے جاننے والے واقف ہیں کہ عمران خان کی اصول پسندی کا پہلا نکتہ ہی یہ ہے کہ کام نکالنے کیلئے کسی کو بھی دلدار بنایا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے والے ایک سابق ساتھی کے بقول عمران خان نے اپنے فین کلب کو بے وقوف بنانے کیلئے اصول پسندی کا جو چولا پہن رکھا ہے۔ اس میں بے شمار چھید ہیں۔ انہوں نے کرکٹ کے زمانے سے ہی یہ اصول اپنا رکھا ہے کہ مطلب پورا کرنے کیلئے کسی ناپسندیدہ شخص کے ساتھ چلنا بھی عین ثواب ہے۔ سابق ساتھی نے اس حوالے سے ایک دلچسپ قصہ بھی سنایا۔ وہ کہتے ہیں ”سیاست کے ابتدائی سال تھے۔ تب پی ٹی آئی کو کوئی گھاس نہیں ڈالا کرتا تھا۔ فنڈز کی اس قدر قلت تھی کہ پریس کانفرنس کیلئے ہم سب کو اپنی جیب سے چندہ کرنا پڑتا تھا۔ ان دنوں عمران خان کا کچھ ایسے لوگوں سے ملنا جلنا بڑھ گیا جو پارٹی کو تھوڑا بہت فنڈز دیدیا کرتے تھے۔ لیکن اچھی شہرت کے حامل نہیں تھے۔ ایک دن میں نے عمران خان سے کہا کہ ان سے دوری اختیار کریں۔ ان کی شہرت اچھی نہیں ۔ آپ خود بھی ان کو اچھا نہیں سمجھتے۔ اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ مطلب کیلئے کبھی ناپسندیدہ ترین لوگوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی کرکٹ کپتانی کے دور کی مثال دیتے ہوئے کہا تمہیں معلوم ہے کہ جاوید میانداد اور سلیم ملک میرے ناپسندیدہ لوگوں میں تھے۔ لیکن بطور کپتان مجھے ان کی ضرورت تھی۔ لہذا میں انہیں برداشت کرتا رہا۔

عمران خان کی شخصیت سے شناسا قریبی لوگوں کے بقول یہ بھی بعید نہیں کہ مستقبل میں وہ نون لیگ کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیوتا کے پجاری اس پر کورس میں گارہے ہوں ” خان تیری حکمت کو سلام ۔ زرداری کو سندھ کی سب سے بڑی بیماری قرار دینے والے عمران خان پیپلز پارٹی سے تو پہلے بھی کئی بار ہاتھ ملا چکے ہیں۔ ایک بار بلوچستان میں نون لیگی حکومت گرانے اور پھر سینیٹ چیئرمین کے چناؤ کے موقع پر ۔ تاہم تیسری بار ان کی کوشش ناکام رہی ، جب تحریک عدم اعتماد سے بچنے کیلئے انہوں نے ‘سیاں میں تیری آں’ کا پیغام بھیجا۔ لیکن آصف زرداری نے یہ کہہ کر معذرت کر لی تھی کہ اب بہت دیر ہو چکی ۔ پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی لیک آڈیو کال نے اس بات کا بھانڈا پھوڑا تھا۔ تحریک انصاف کے حامی کہیں گے کہ یہ سب کچھ تو نون لیگ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی اور دیگر پارٹیاں بھی کرتی رہی ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم ان جیسے نہیں “ اور ” تبدیلی کا نعرہ تو پی ٹی آئی نے لگایا۔ یامان لوسب ایک جیسے ہیں۔

اب اس طرف آتے ہیں کہ عمران خان نے مولانا کی چوکھٹ پر جھولی کیوں پھیلائی، جنہیں وہ انتہائی نازیبا القاب سے پکارتے رہے اور ماضی میں عمران خان جس محمود اچکزئی کا تمسخر اڑایا کرتے تھے، عمران خان نے پارٹی کے سارے رہنماؤں کو نظر انداز کر کے انہیں اپنا صدارتی امیدوار کیوں منتخب کیا؟ واقفان حال کے بقول عمران خان حکومت کے خلاف ایک مضبوط اتحاد بنانے کے خواہش مند ہیں۔ جے یو آئی، پشتونخواملی عوامی پارٹی اور اے این پی بھی الیکشن میں دھاندلی کو لے کر احتجاج کر رہی ہیں۔ عمران خان کو ادراک ہے کہ ماضی کی طرح چونکہ اب انہیں اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھی میسر نہیں۔ لہذا ان دیگر پارٹیوں کے ساتھ مل کر احتجاجی تحریک چلائے بغیر دال نہیں گلے گی۔ الیکشن کے بعد اب تک دو مواقع پر پی ٹی آئی نے تنہا احتجاج کیا ہے۔ لیکن یہ دونوں شو بری طرح فلاپ ہو گئے۔ جس پر عمران خان خاصے مایوس ہیں۔ اس صورتحال نے پی ٹی آئی کیلئے دوسری پارٹیوں کے کندھوں کی اہمیت مزید بڑھادی ہے۔ تا ہم اس سلسلے میں بھیپی ٹی آئی کو تا حال ناکامی کا سامنا ہے۔ اے این پی پہلے ہی پی ٹی آئی کو ٹھینگا دکھا چکی ہے اور وہ اپنی احتجاجی تحریک الگ سے چلانا چاہتی ہے۔ کیونکہ اس کا موقف ہے کہ اس کے ووٹ بینک پر تو خود پی ٹی آئی نے ڈاکہ ڈالا ہے۔ جبکہ جے یو آئی نے ابھی تک مشترکہ تحریک کے حوالے سے کوئی واضح سگنل نہیں دیا ہے۔ یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ آگے چل کر جے یو آئی حکومت کا حصہ بن جائے۔ اب لے دے کے عمران خان کیامیدوں کا واحد مرکز محمود خان اچکزئی ہیں۔ لیکن ان کی پارٹی کا اثر و رسوخ صرف بلوچستان کی پشتون بیلٹ کے کچھ حصوں میں ہے یعنی عمران خان کو اب پہلی بار لولی لنگڑی احتجاجی تحریک اپنے کندھوں پر ہی چلانی پڑے گی۔

Back to top button