کیا پاکستانیوں میں قوت مدافعت باقی دنیا سے زیادہ ہے

کیا پاکستانیوں میں دنیا کے دوسرے ممالک کی آبادی کی نسبت کسی بھی وائرس سے نمٹنے کے خلاف قوت مدافعت زیادہ پائی جاتی ہے۔ یہ سوال اس لیے کیا جا رہا ہے کہ دنیا میں جاری کرونا وائرس کی مہلک وباء سے مرنے والے 8 لاکھ افراد میں سے صرف چھ ہزار کا تعلق پاکستان سے ہے۔
کمزور صحتِ عامہ کا نظام، بڑی آبادی، اور غربت کی وجہ سے کئی خاندانوں کا گنجان آباد علاقوں میں رہنے سمیت مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان میں شروع سے ہی کرونا وائرس کی وبا کے تباہ کن ہونے کا عندیہ دیا جا رہا تھا جبکہ جون کے مہینے میں ایسا لگ رہا تھا کہ حالات بہت بگڑ جائیں گے کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ہسپتال مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ بھرے ہوئے تھے اور لوگ اپنے پیاروں کو ہسپتال کے بستر کی تلاش میں لے کر در بدر پھر رہے تھے۔ مگر چند ہی ہفتوں میں ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد میں زبردست کمی دیکھی گئی۔ کچھ ڈاکٹر ابتدائی طور پر اس حوالے سے شکوک میں مبتلا ہوگئے تھے کہ کہیں مریضوں کو ’زہر دیے‘ جانے کی غلط اطلاعات کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں پر خود ہی علاج تو نہیں کرنے لگ گئے۔ مگر یہ کمی متواتر ہوتی رہی اور اب پاکستان میں زندگی عام حالات کو لوٹ رہی ہے اور جزوی طور پر لاک ڈاؤن کی آخری پابندیاں بھی اٹھائی جا رہی ہیں۔
کرونا وباء کی وجہ سے مرنے والے 8 لاکھ کے قریب لوگوں میں سے صرف 6000 افراد کی ہلاکت کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ بظاہر پاکستان اس سلسلے میں کئی مغربی ممالک سے بہتر رہا ہے کیونکہ برطانیہ میں 6 کروڑ 70 لاکھ افراد میں 41000 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہمسایہ ملک انڈیا میں دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بھی صوتحال انتہائی بری رہی ہے۔
مگر پھر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے اعداد و شمار پر مکمل یقین کیا جا سکتا ہے؟ زمینی حقائق کے مطابق پاکستان میں ٹیسٹنگ کی شرح قدرے کم رہی ہے۔ اور اس میں مزید کمی آ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکاری طور تصدیق شدہ تقریباً 290000 سے کہیں زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثرہ ہیں۔ مگر مریضوں کی تعداد میں کمی اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ جتنے بھی ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں، ان میں مثبت آنے والوں کی شرح بھی کم ہو رہی ہے اور ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد بھی کم ہو رہی ہے۔
لاہور اور کراچی میں حکام سے حاصل کردہ قبرستانوں کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں دفنائے گئے افراد کی تعداد میں بہت بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے کہ جن کی وضاحت کرونا وائرس کی وبا سے نہیں کی جا سکتی۔ لاہور کے سب سے بڑے قبرستان میانی صاحب میں جون 2020 میں 1176 افراد کو دفنایا گیا۔ گذشتہ سال جون میں یہ تعداد 696 تھی۔ مگر دفنائے گئے افراد میں سے صرف 48 سرکاری طور پر تصدیق شدہ کرونا کے مریض تھے۔ ہلاکتوں میں اضافہ ممکنہ طور پر غیر تصدیق شدہ کرونا کے مریض اور ہسپتالوں تک نہ پہنچ سکنے والے دیگر امراض میں مبتلا افراد کے ہلاک ہونے کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جون 2020 میں کراچی میں دفنائے گئے افراد کی تعداد گذشتہ دو سالوں میں کسی بھی مہینے سے زیادہ ہے۔ مگر دونوں شہروں میں دفنائے جانے والے افراد کی تعداد اپنی عمومی سطح پر لوٹ رہی ہے۔ اگر ہم اضافی اموات میں سے کچھ کو کرونا وائرس کی وجہ سے قرار دے بھی دیں تو بھی پاکستان میں اموات کی شرح عالمی تناظر میں کم ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کرونا کی محدود تباہ کارویوں کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی آبادی میں نوجوانوں کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان میں اوسط عمر 22 ہے، برطانیہ میں یہ تقریباً 41 ہے۔ اوردنیا میں کرونا سے ہلاکتوں کی اکثریت بڑی عمر کے لوگوں کی ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں چار فیصد سے بھی کم آبادی 65 سال کی عمر سے زیادہ کی ہے جبکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح تقریباً 20 سے 25 فیصد ہے۔ ’اسی لیے پاکستان میں اتنی اموات نہیں ہوئیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ترقی پزیر ممالک میں مغربی ممالک کے مقابلے میں لوگوں کے سماجی تعلقات کا دائرہ قدرے چھوٹا ہوتا ہے۔ایک دفعہ جب وائرس ان سماجی تعلقات کے دائرے سے گزر جاتا ہے پھر یہ مر ہی جاتا ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس میں کمی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا لائحہِ عمل اپنایا جب ان علاقوں میں لاک ڈاؤن کیا گیا جہاں وبا کے پھیلنے کے امکانات تھے۔ وبائی امراض کے سماجی تناظر کی ماہر لندن سکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کی ڈاکٹر مشال خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اس حوالے سے بہتر علامات ہیں مگر یہ مکمل وضاحت نہیں ہے۔اگرچہ آبادی کی عمر اور سماجی رویوں سے یہ تو بتایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی صورتحال مغربی ممالک سے کیوں مختلف ہے مگر اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ ہمسایہ ملک انڈیا جیسی کیوں نہیں ہے؟انڈیا میں اموات فی دس لاکھ افراد پاکستان کی شرح سے ملتی جلتی ہے مگر وہاں ہسپتالوں پر دباؤ زیادہ پڑا ہے اور کیسز میں ابھی بھی تیزی آ رہی ہے۔
ایک خیال یہ ہے کہ انڈیا میں شہر زیادہ گنجان آباد ہیں اس لئے وہاں کرونا تیزی سے پھیلا ہے۔ پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے پروفیسر کے شریناتھ نے اس بات کی نشادہی کی ہے کہ دلی اور ممبئی دونوں میں کیسز میں تیزی اب نہیں آ رہی اور ملک کے دیگر حصوں میں سے کیسز آ رہے ہیں۔
دوسری طرف طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ابھی بھی کرونا وباء کی دوسری لہر کا خطرہ موجود ہے۔ جولائی میں ادویات بنانے والی ایک کمپنی گیٹز فارما کے کراچی میں ایک جائزے کے مطابق ملک کی 17.5 فیصد آبادی کا اس وائرس سے سامنا ہوا ہے۔ یعنی ابھی بہت سے لوگوں کو اس وائرس کی علامات ہو سکتی ہیں۔پابندیوں کے خاتمے کے بعد اب جب پاکستان میں مقامی سیاحوں کی ایک بڑئ تعداد شہروں سے اٹھ کر دیہاتوں میں جا رہی ہے، تو یہ خصوصی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وائرس ترقی پزیر علاقوں میں پھیل سکتا ہے جہاں صحتِ عامہ کے وسائل کی کمی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کرونا وباء کے مؤثر کنٹرول کیلئے ٹریکنگ کا نظام بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں صورتحال قدرے بہتر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اب خطرے سے باہر آ گئے ہیں۔
