کیا پاکستانی ایٹم بم نے بھارتی حملہ روک رکھا ہے؟


28 مئی 1998 کو چاغی میں نیوکلئر دھماکے کر کے پاکستان دنیا کی ساتویں جوہری طاقت تو بن گیا لیکن سوال یہ ہے کہ اس صلاحیت نے پاکستان کو کتنا محفوظ اور مضبوط بنایا ہے؟
یاد رہے کہ انڈیا نے 11 اور 13 مئی 1998 کو یکے بعد دیگرے ایٹمی دھماکے کر دیے رھے، دھماکوں کے بعد انڈیا کی جانب سے پاکستان کو دھمکی آمیز بیانات دیے جانے لگے، پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بھارت کو جواب دیے جانے کا مطالبہ ہوا، صورت حال کو دیکھتے ہوئے نواز حکومت نے بھی ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر متعدد ممالک پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے آگے بڑھے۔ اس کے لیے مختلف طریقہ کار اختیار کیے گئے۔ لیکن جلد ہی حکومت نے دو ٹوک فیصلہ کر لیا اور دھماکوں کے لیے بلوچستان کے علاقے چاغی کی پہاڑی کو چنا گیا۔ بالآخر 28 مئی 1998 کی صبح پاکستان نے دھماکے کر دیے اور دنیا کی ساتویں جوہری قوت بن گیا۔
عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت نے انڈیا کو ہم پر روایتی حملہ کرنے سے باز رکھا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ ‘گذشتہ 20 سال میں پاکستان اور انڈیا میں جنگ صرف اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ دونوں کے پاس جوہری ہتھیار ہیں ورنہ ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان اس وقت بھی جھڑپیں جاری رہتی تھیں جب دونوں طرف مذاکرات ہو رہے ہوتے تھے۔۔۔ لاہور سربراہی اجلاس کے وقت بھی یہ صورتحال جاری تھی اور 1960 میں بھٹو اور اور سورن سنگھ میں بات چیت کے دوران بھی یہ ہو رہا تھا۔’
1998 سے پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کر لینے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور اپنے دفاع کو مؤثر بنانے میں مدد ملی ہے۔ لیکن معروف لکھاری اور پروفیسر پرویز ہودبھائی کے خیال میں جوہری ہتھیاروں سے پاکستان کوئی زیادہ مستحکم نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے جنگ کا خطرہ کم ہوا۔ لیکن ان کے بقول "یہ ضرور ہے کہ اس بم کے ہوتے ہوئے جنگ نہیں ہوئی۔” ان کے خیال میں پاکستان کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے جو فوائد حاصل ہونے تھے شاید وہ پوری طرح حاصل نہیں ہو سکے۔ انکا کہنا ہے کہ "پاکستان نے سوچا تھا کہ اس کے بڑے فائدے ہوں گے۔ کشمیر کا مسئلہ ایٹم بم سے حل ہو جائے گا۔۔۔ ساری دنیا میں ہمارا اتنا رتبہ ہو جائے گا سارے اسلامی ملک ہماری طرف دیکھیں گے۔ مگر میرے خیال میں ان میں سے کوئی کام نہیں ہو پایا۔
یاد رہے کہ مئی 1998 کے پاکستانی جوہری تجربات سے چند روز قبل ہی بھارت نے جوہری تجربات کیے تھے اور پاکستان کا موقف رہا ہے کہ اس نے جوہری تجربات کا فیصلہ بھارت کے اقدام کے جواب میں کیا تھا۔ جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کر لینے کے بعد گو کہ پاکستان اس موقف کو دہراتا آیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ان ہتھیاروں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی معیار اور قوائد و ضوابط کی پاسداری کر رہا ہے، لیکن خاص طور پر مغرب کی طرف سے پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق شکوک و شہبات کا اظہار تواتر سے کیا جاتا رہا ہے۔
جوہری طبعیات کے ماہر پروفیسر پرویز ہودبھائی کے خیال میں پاکستان نے بھی جوہری تنصیبات کے لیے ویسے ہی حفاظتی انتظامات کر رکھے ہوں گے جیسے کہ دنیا کے دیگر ممالک نے کیے ہیں لیکن پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف ہے کہ ایک طویل عرصے تک پاکستان میں دہشت گردی ہوتی رہی ہے اور دہشت گرد متعدد بار عسکری تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر 2004ء میں پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طرف سے جوہری ساز و سامان اور معلومات دیگر ملکوں کو فراہم کرنے کے اعتراف کے بعد بین الاقوامی برادری پاکستان کے جوہری پروگرام سے متعلق عدم اطمینان کا شکار ہوئی۔
تاہم پاکستان کی سول و عسکری قیادت یہ کہہ چکی ہے کہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کا نظام پوری طرح سے محفوظ ہے اور اس کے لیے ایک پورا کمانڈ اینڈ کنٹرول کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ پاکستان ایک عرصے سے "نیوکلیئر سپلائرز گروپ” کی رکنیت کے لیے کوشاں ہے اور 2016ء میں اس نے باضابطہ طور پر اس کے لیے درخواست بھی جمع کرائی تھی، لیکن تاحال اس ضمن میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ ہمسایہ ایٹمی قوت بھارت بھی اس گروپ کا تاحال حصہ نہیں ہے لیکن اس تنظیم کی رکنیت کے لیے اسے امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی توثیق بھی نہیں کر رکھی۔ یاد رہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں 48 ممالک شامل ہیں اور یہ تنظیم جوہری مواد، آلات اور ٹیکنالوجی کی تجارت کو کنٹرول کرتی ہے تاکہ کوئی ملک غیر قانونی طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ان آلات کو استعمال نہ کرے اور جوہری توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے ہی استعمال کیا جائے۔
پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ جوہری ہتھیار حاصل کر لینے کے بعد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور اپنے دفاع کو مؤثر بنانے میں مدد ملی ہے۔ لیکن پروفیسر ہودبھائی کے خیال میں جوہری ہتھیاروں سے پاکستان کوئی زیادہ مستحکم نہیں ہوا اور نہ ہی اس سے جنگ کا خطرہ کم ہوا۔

Back to top button