کیا پاکستان افغان طالبان کے ہاتھوں یونہی استعمال ہوتا رہے گا

پاکستانی ریاست کے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر تبصرہ کرتے ہوئے سنیئر صحافی وسعت اللہ خان نے کہا ہے کہ غلط یا سہی، لیکن چونکہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مسلسل یہ تاثر دیتی ہے کہ اگر کسی ملک کی افغان طالبان پر تھوڑی بہت چلتی ہے تو وہ پاکستان ہے، لہٰذا اب طالبان جو بھی اچھا یا برا قدم اٹھائیں گے، دنیا پاکستان سے ہی مطالبہ کرے گی کہ وہ انہیں سمجھائے۔ وسعت اللہ کہتے ہیں دوسری جانب حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان نے 1996 سے اب تک پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی صرف وہی بات مانی ہے جس میں انکا اپنا مفاد بھی ہو۔ وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی اس طبعی کمزوری سے خوب واقف ہیں کہ یہاں کے منصوبہ ساز افغانستان کو سٹرٹیجک ڈیپتھ سجھتے ہیں اسی لئے طالبان ماضی کی طرح اس بار بھی خود کو بین الاقوامی برادری سے تسلیم کروانے کے لئے پاکستانی مہارت بروئے کار لانے کے خواہش مند ہیں جس کا پاکستان کو فائدے کی بجائے نقصان ہو رہا ہے۔دوسری جانب طالبان حکومت پاکستان مخالف تحریک طالبان کو لگام دینے کی پاکستان کی چھوٹی سی خواہش بھی ماننے کو تیار نہیں۔

وسعت اللہ خان بی بی سی کے لئے اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ غلط یا سہی چونکہ یہ طے ہو چکا ہے یا مشہور ہو چکا ہے یا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بارہا یہ تاثر دے چکی ہے کہ اس کی افغان طالبان پر چلتی ہے تو دنیا بھی پاکستان سے ہی توقع رکھے گی کہ وہ ہر معاملے پر طالبان کو منائے حالانکہ انکی نئی اور پرانی پود ہر معاملے میں پہلے اپنا مفاد دیکھتی ہے، وسعت اللہ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر جب طالبان نائن الیون حملوں سے چھ ماہ قبل مارچ 2001 میں بامیان کے دو بودھ مجسموں کو بارود سے اڑا رہے تھے تو باقی دنیا تو رہی ایک طرف، خود انھوں نے جنرل پرویز مشرف کے وزیرِ خارجہ کے اس مشورے کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے اڑا دیا تھا کہ ایسی حرکتوں سے افغانستان بیرونی دنیا سے کٹ جائے گا۔

لہٰذا آج اگر افغان طالبان چاہتے ہیں کہ ان کی حکومت کو پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ دیگر ممالک بھی تسلیم کریں تو پھر انھیں عالمی برادری کے درمیان رہنے کی عادت سیکھنا ہو گی۔ مگر وسعت کے مطابق طالبان کو یہ پروا بھی نہیں رہی کہ ماضی میں کابل پر ان کے پانچ برس کے قبضے کے دوران بھی اقوامِ متحدہ میں ان کا مندوب افغانستان کی نشست سنبھالنے سے قاصر رہا تھا۔

وسعت اللہ یاد دلاتے ہیں کہ حالانکہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وزیرِ داخلہ نصیر اللہ بابر طالبان کو اپنا برخوردار کہہ چکے تھے، مگر طالبان کتنے سعادت مند ثابت ہوئے؟ اس کا بین ثبوت نائن الیون کے بعد ملا جب اس وقت کے آئی ایس آئی اور سعودی انٹیلیجینس کے سربراہ اور چینیدہ طالبان دوست پاکستانی علما کا وفد بھی قندھار میں ملا عمر کو اس پر قائل نہ کر سکا کہ صرف تین ممالک نے عالمی مخالفت جھیلنے کے باوجود آپ کی حکومت کو تسلیم کیا۔

اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر آپ اس خطے کو نائن الیون کے ردِ عمل سے بچانا چاہتے ہیں تو اسامہ بن لادن اور ایمن الزواہری کو اگر امریکہ یا کسی تیسرے ملک کے حوالے نہیں کر سکتے تو ان سے کم ازکم یہ درخواست تو کر ہی سکتے ہیں کہ وہ اپنے میزبان کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے خود ہی ٹھکانہ بدل لیں۔ ملا عمر نے نہ دوستوں کا خیال کیا نہ دشمنوں کا۔ اس کے بجائے اپنی حکومت کو بھی خود ہی ٹھوکر مار کر پہاڑوں میں گم ہو گئے۔ پاکستان، سعودی عرب اور امارات نے اپنے تئیں اس خود سر بچے کو سمجھانے میں ناکامی پر بادلِ نخواستہ یو ٹرن لے لیا۔ سوائے افغان عوام کے باقی سب کی انا کو تسکین مل گئی۔

وسعت کہتے ہیں کہ یوں پورا خطہ ایک بار پھر دھشت گردی اور جوابی دھشت گردی کے گرداب میں آ گیا۔ طالبان نے خود کو بھی بیابانوں میں دھکیلا اور دوسروں کو بھی مروایا۔ مزے بس ان کے آئے جو کابل میں جمہوریت کی قبا اوڑھ کے دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے ایک بار پھر آن دھمکے یا پھر ان کے جو دھشت گرد پکڑ پکڑ کر فروخت کرنے لگے اور پھر ہوس اتنی بڑھ گئی کہ جعلی دھشت گرد بھی بیچنے میں لگ گئے۔ یا پھر وارے نیارے ہوئے امریکی ملٹری انڈسریل کمپلیکس اور کرائے کے کنٹریکٹرز کے یا پھر نیٹو کو رسد پہنچانے والے ٹرک مالکان کے۔

وسعت اللہ کہتے ہیں کہ طالبان پاکستان کی اس طبعی کمزوری سے خوب واقف تھے کہ یہاں کے منصوبہ سازوں کو بچپن سے افغانستان کی سٹرٹیجک ڈیپتھ اچھی لگتی ہے۔ حالانکہ تاریخ شاہد ہے کہ قدیم ہندوستان سے آج تک ہمیشہ درہِ خیبر اور بولان اور بحیرہ عرب کے راستے آنے والوں نے ہی موجودہ پاکستان سے لے کر گنگا جمنی دوآبے تک کے خطے کو بطور سٹرٹیجک ڈیپتھ استعمال کیا۔ پچھلے چالیس برس میں یہ سٹرٹیجک ڈیپتھ ہیروئن، کلاشنکوف اور دھشت گردی کے تاجروں نے خوب خوب برتی۔ مگر جنوب آج تک اس خواب سے جان نہیں چھڑا سکا کہ ایک نہ ایک دن وہ بھی شمال میں کوہِ ہندو کش کے پار علاقے کو اپنا تزویراتی باجگزار بنائے گا۔

سٹرٹیجک ڈیپتھ کا یہ نظریہ اس خدشے سے پیدا ہوا کہ بھارت مشرقی اور مغربی جانب سے پاکستان کو گھیر کے مارنا چاہتا ہے۔ حلانکہ پاکستان سے اب تک بھارت کی جتنی بھی جنگیں ہوئیں مشرقی سرحد پر ہی ہوئیں مگر خوف کا کوئی علاج نہیں۔ بھلے کابل پر شاہ پسند حکمران رہے ہوں کہ جمہوریت پسند کہ کیمونسٹ کہ مجاہدین کہ طالبان، افغانستان میں ایک دوست حکومت کا قیام عمل میں نہیں آیا۔ اگرچہ سب سے زیادہ دوست حکومت طالبان کی پہلی اور اب دوسری حکومت کو سمجھا گیا مگر نہ پچھلی حکومت سے ڈیورنڈ لائن کو باضابطہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کا دستاویزی اعادہ کروایا جا سکا اور نہ ہی موجودہ کابل حکومت یہ دستاویز جاری کرنے کے موڈ میں ہے۔

وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ افغان طالبان پاکستان کی ان نفسیاتی کمزوریوں سے پہلے بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور اب بھی وہ خود کو بین الاقوامی برادری سے تسلیم کروانے کے لئے پاکستانی مہارت بروئے کار لانے کے خواہش مند ہیں۔ مگر ایک وسیع تر افغان حکومت کے قیام اور کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دینے سمیت پاکستان کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش بھی ماننے کو تیار نہیں۔ پر پاکستان آج بھی ایک امیدِ موہوم کے دھاگے سے لٹکا ہوا سوچ رہا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ دنیا اگر طالبان کو ایک موقع اور دے دے تو سب کچھ رفتہ رفتہ ٹھیک ہونے لگے گا۔

سادہ مزاج طالبان گذشتہ بیس برس میں سفارتی فلرٹ خوب خوب سیکھ چکے ہیں۔ کل تک وہ اکھڑ مشہور تھے۔ مگر آج جو ملک جو بھی من پسند لوری سننا چاہے طالبان سنانے کو تیار ہیں پھر بھی آخر میں فیصلہ وہی خفیہ قندھاری شوری کرتی ہے جس کی شکل اب تک کسی نے نہیں دیکھی اور نہ ہی کوئی اس شوری کے ناموں سے مکمل طور پر واقف ہے مگر تاثر یہی قائم ہے کہ طالبان پر اگر آج بھی کسی کا کچھ زور چلتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ حالانکہ پاکستان کے دل پر اس وقت طالبان کے حوالے سے جو گذر رہی ہے وہ بس کوئی دل والا ہی محسوس کر سکتا ہے۔ نہ کہہ سک رہے ہیں نہ سہہ سک رہے ہیں۔

Back to top button