کپتان سندھ میں چلے ہوئے کارتوس کیوں اکٹھا کر رہے ہیں؟

تحریک انصاف کی قیادت سندھ میں پیپلز پارٹی کو کاؤنٹر کرنے کے لئے مختلف جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کو اپنی جماعت میں شامل تو کروا رہی ہے لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ چلے ہوئے کارتوس قرار دیے جا رہے ہیں جن کے پی ٹی آئی میں جانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔

کچھ مہینے پہلے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد سندھ کے سابق وزیراعلیٰ اور پیپلزپارٹی کے ازلی مخالف سمجھے جانے والے ارباب غلام رحیم نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اب سندھ کے سابق وزیر اعلی اور نواز شریف کے پرانے ساتھی غوث علی شاہ نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سید غوث علی شاہ کی پی ٹی آئی میں شمولیت اس کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ تحریک انصاف نے سندھ کا ایک پرانا چلا ہوا کارتوس اٹھا لیا ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ارباب غلام رحیم کی طرح غوث علی شاہ کی بھی پی ٹی آئی میں شمولیت سندھ کی سیاست میں کوئی بڑا بھونچال نہیں لا سکے گی کیونکہ غوث خاندان کے اندر اختلافات کے باعث اب ان کی سیاسی حیثیت بھی ختم ہو چکی ہے۔ ویسے بھی اب وہ تقریبا 86 برس کے ہیں اور سیاسی طور پر ایک لمبے عرصے سے غیر متحرک ہیں۔ نواز شریف بھی کافی عرصے سے غوث علی شاہ کو اہمیت نہیں دے رہے تھے اور ان کا شمار جماعت کے خفا رہنماوں میں ہوتا تھا۔ انکی تحریک انصاف میں جانے کی وجہ بھی یہی ہے حالانکہ وہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد جلاوطنی کے دنوں میں لندن میں قیام کے دوران نواز شریف کے کافی قریب آچکے تھے۔

سنیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ غوث علی شاہ کا شمار مسلم لیگ کے نظریاتی کارکنوں میں ہوتا تھا اور وہ ہمیشہ علامہ اقبال اور قائداعظم کے نظریات کی بات کرتے تھے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے مسلم لیگ نواز کی طرف سے انہیں نظر انداز کرنے کے بعد انہوں نے اب پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے سیاست میں واپسی کی ایک آخری کوشش کی ہے۔ ان کے خیال میں غوث علی شاہ کا پی ٹی آئی میں جانا اس لیے معنی خیز ہو سکتا ہے کیونکہ حال ہی میں سندھ کے ایک اور سابق وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت حاصل کی ہے اور یکے بعد دیگرے دو سابق وزرائے اعلٰی کا ایک سیاسی جماعت میں چلے جانا صوبائی سیاست پر اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ لیکم درحقیقت غوث علی شاہ سیاسی طور پر اتنے کمزور ہو چکے ہیں کہ وہ کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی اگر کسی طور سندھ میں پی ٹی آئی اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتی ہے تو بھی ارباب غلام رحیم انہیں وزیر اعلٰی نہیں بننے دیں گے۔

سندھ میں علاقائی، صوبائی اور قومی سیاست پر گہری نگاہ رکھنے والے سینیئر صحافی سہیل سانگی کے مطابق غوث علی شاہ کے علاقے میں پیپلز پارٹی کے خلاف جتنا بھی ووٹ بینک ہے وہ پیر پگاڑا گروپ کے پاس ہے۔ اور اس سے ہٹ کر پیپلز پارٹی کے خلاف جانے والے اتنے ووٹ نہیں ہیں جن کی وجہ سے غوث علی شاہ اپنا الگ مقام بنا سکیں۔ ان کے نزدیک غوث علی شاہ کے خاندان کے اندر جائیدادوں اور دوسرے جھگڑوں کی وجہ سے بھی ان کی پوزیشن اسوقت کافی کمزور ہے۔

یاد رہے کہ یکم جنوری 1934 کو صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور کے گاوں گاہڑی موہری میں پیدا ہونے والے 87 سالہ سید غوث علی شاہ نے اپنا کیریئر ایک فوجداری وکیل کی حیثیت سے کیا تھا اور بعد ازاں وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی رہے۔ وہ نواز شریف کے مختلف ادوار حکومت میں وزیر دفاع، وزیر تعلیم اور صوبہ سندھ کے وزیر اعلٰی بھی رہے۔ وہ ان کے ساتھ جیل میں بھی رہے۔ پھر 2000 کی پہلی دہائی میں یہ دونوں لندن میں بھی ساتھ ساتھ رہے۔ اس سے پہلے ایک زمانے میں ضیا ٗالحق نے غوث علی شاہ کو پہلے سندھ ہائی کورٹ کا جج اور پھر وزیر اعلٰی سندھ بھی بنایا تھا، کیونکہ ضلعی بار کی سیاست کے زمانے سے ہی وہ پیپلز پارٹی کے سید قائم علی شاہ کے مخالف بن گئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے خلاف ہونا ان کے لیے نیک شگون ثابت ہوا۔ تاہم نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں غوث علی شاہ کو کوئی خاص اہمیت نہیں مل پائی جس کی وجہ سے وہ نواز لیگ سے بدظن ہو چکے تھے اور اب کافی عرصے سے کسی اچھے موقع کی تلاش میں تھے تاکہ دوبارہ سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرسکیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان واقعی سندھ میں پی ٹی آئی کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو انہیں میدان سیاست کے چلے ہوئے کارتوس اکٹھے کرنے کی بجائے سیاسی طور پر متحرک اور توانا لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کرنا چاہیے۔

Back to top button