اگر بیانیہ بچانا ہے تو نواز شریف کو جلد واپس آنا ہوگا
معروف صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے جلد وطن واپسی کا فیصلہ نہ کیا تو شہباز شریف کا مفاہمتی بیانیہ لیگی سیاست پر غالب آجائے گا اور اقتدار کا کھیل بڑے میاں کے ہاتھ سے نکل کر چھوٹے میاں کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
انکا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی ’اُڑان‘ اب اُسی وقت رُک سکتی ہے اگر نواز شریف لندن سے جلاوطنی ترک کر کے وطن واپس آ جائیں ورنہ پاکستان میں موجود ن لیگ ’ش‘ کے ہاتھ تقریباً جا چکی ہے۔ ایسے میں ن لیگ کو ش کے ہاتھ جانے سے روکنے اور بیانیوں کی جنگ میں بٹی جماعت کو بچانے کے لیے نواز شریف کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ ن میں تیزی سے سرایت کرتی ’ش‘ کے مقابلے میں شدید تحفظات رکھنے والی ایک اور ’ش‘ کب منظر عام پر آتی ہے۔
بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ سب ستاروں اور اشاروں کا کھیل ہے۔ وطن عزیز کی تاریخ میں ایک باب ایسا بھی ہو گا جس میں ورق ورق پر داستان کوہ قاف درج ہو گی۔ پریوں، دیو کی کہانیاں اب سچ سی لگنے لگی ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ ہم الف لیلوی داستان ہی نہ بن جائیں۔ مشہور انگریزی ناول نگار جارج اورویل نے ایک شہرہ آفاق ناول ’1984’ 1949 میں لکھا جس کا مشہور زمانہ ’بگ برادر‘ کا کردار آج بھی ادب کی دُنیا میں زندہ ہے۔ ’بگ برادر از واچنگ یو‘ یا ’بڑے بھائی تمہیں دیکھ رہے ہیں‘ اس ناول کی مشہور لائن ہے۔
یہ ناول ایک ریاست میں بڑھتی ہوئی مطلق العنانیت سے متعلق لکھا گیا ہے۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ ہمارے ہاں جب بھی ’ویڈیو گردی‘ ہوتی ہے مجھے یہ ناول اور اس کے کردار بےحد یاد آتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی کی عزت تار تار ہو جائے، کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اس وقت مطلق العنانیت اپنی آخری حدوں کو چھونے رہی ہے جہاں خوف کے ساتھ ساتھ غصہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ یوں لگتا ہے جیسے شہباز شریف کے ستارے اپنی چال بدل رہے ہیں۔ لندن کی عدالت نے شہباز کو منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بےقصور ثابت کر دیا ہے۔ یہ انہونی ہے یا ہونی اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہو گا۔ یاد رہے پاکستان کی عدالتوں نے عمران خان کو ’صادق اور امین‘ قرار دیا تھا۔ چونکہ متبادل کا مقابلہ ہے لہٰذا لندن کی عدالت کی گواہی ہی بڑی گواہی سمجھی جائے گی۔ شہزاد اکبر کے تمام دعوے، ٹی ٹی کی تفصیلات اپنی جگہ مگر برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے پاکستان، دبئی اور لندن میں شہباز اور انکی اولاد کے اکاؤنٹس کی چھان بین ہوئی اور گذشتہ 20 برس کے ریکارڈ چیک کیے گئے۔
پھر برطانوی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ شہباز شریف اور سلمان شہباز بےگُناہ ہیں البتہ شہزاد اکبر نے حسب توقع ان تفصیلات کو مُسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ شہباز شریف اور سلیمان شہباز کی مبینہ بریت کی خبر درست نہیں اور یہ بھی کہ نیشنل کرائم ایجنسی نے خود فنڈز منجمد کیے تھے اور خود ہی اُن پر مزید کوئی تفتیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
لیکن عاصمہ شیرازی کا موقف ہے کہ اب جو بھی ہو اخلاقی فتح بہرحال شہباز شریف کی ہوئی ہے۔ یعنی سمندر پار بھی انکے ستارے کام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف کے ستاروں کی اُڑان اُس وقت اونچی ہوئی جب اُن کی سربراہی میں کنٹونمنٹ انتخابات میں کامیابی اور ’کام کو ووٹ دو‘ کا نعرہ اپنا کام دکھا گیا۔ غیر سیاسی نعروں سے پرہیز نے کنٹونمنٹ انتخابات میں ’غیرجانبداری‘ پر مہر ثبت کر دی۔ یون مسلم لیگ ن کے اندر بھی شہباز شریف فتح کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ چنانچہ ن لیگ کی اندرونی محاذ آرائی اب کُھل کر سامنے آ چکی ہے۔ جماعت کے پختہ اور جیتنے والے سیاست دان شہباز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ بظاہر خاندانی مقابلے میں
شہباز شریف کا مقام اعلیٰ ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہ ہوا اور نتیجتاً شہباز شریف روٹھ گئے۔ منانے کے لیے بڑے میاں صاحب کیا جتن کریں گے اس کا فیصلہ شاید جلد ہو جائے تاہم گذشتہ چند اہم اجلاسوں سے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی غیرحاضری نے ایک صاف اور واضح پیغام دے دیا ہے۔ اُدھر اُن کی جماعت کے چند سینیئرز نے بھی ’اب نہیں تو کبھی نہیں‘ کا مشورہ دیا ہے۔
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اس وقت بیانیے کی عملی جنگ میں بھی شہباز شریف اگلے محاذ پر ہیں اور مفاہمت کے ساتھ ساتھ مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انکے پیپلز پارٹی کے ساتھ راہ و رسم بھی ٹھیک ہے اور پارلیمانی سیاست میں بھی وہ ہم آہنگی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ لہذا شنید یہی ہے کہ شہباز کا یہ سفر اگلے الیکشن سے قبل یا بعد میں ایک ’قومی حکومت‘ کے قیام کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے جس کا مطالبہ انہوں نے حال ہی میں کیا تھا۔
