پاکستان کو افغان آرمی کی ٹریننگ کیوں نہیں کرنی چاہیے؟

پاکستان اور طالبان حکومت کے مابین افغان نیشنل آرمی کو منظم کرنے اور اسے تربیت دینے کے لیے مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو تب تک ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہیے جب تک بین الاقوامی دنیا طالبان کی حکومت کو تسلیم کر لے، ورنہ پاکستان کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بی بی سی نے پاکستان کے اعلیٰ عسکری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ پاکستان افغان نیشنل آرمی کی تنظیم نو اور اسکی جنگی تربیت میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں افغان حکام سے بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔ دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ نے فوج کو مضبوط کیا ہے اور اب اسکے پاس روایتی جنگ کے علاوہ انسداد دہشت گردی آپریشنز کا وسیع تجربہ بھی موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ فوجی تربیت کے معاملے پر پاکستان کو ایک بین الاقوامی فوج کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور دوسرے ممالک اپنی افواج کی تربیت کے لیے اس سے رجوع کرتے ہیں۔
تاہم سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا یے کہ پاکستان کو ایسا فیصلہ کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر اس وقت اسلام آباد ایسا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ طالبان اور انکی حکومت کو تسلیم کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے پاکستان بین الاقوامی طور پر تنہا ہو سکتا ہے کیونکہ اقوام متحدہ طالبان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی ابھی تک اس کے اسٹیٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ لہذا پاکستان کو اتنا اہم فیصلہ کرنے سے پہلے انتظار کرنا چاہیے کہ دنیا افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی جانب آئے۔
بی بی سی کے مطابق پاک فوج کے ایک سینیئر افسر نے بتایا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حالیہ دورہ کابل کا ایک مقصد اس معاملے پر بات چیت کرنا تھا۔ تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیش کش پاکستان کی جانب سے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کیے جانے اور افغان فوج میں تمام حلقوں کی نمائندگی سے مشروط ہے اور اس حوالے سے کوئی فوری فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ فوج کے ایک اور اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پاک افغان بات چیت تو جاری ہے، تاہم فی الحال اس کا کوئی باقاعدہ روڈ میپ موجود نہیں اور ایسا کوئی فیصلہ تب تک ممکن نہیں جب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔ وزیراعظم عمران خان اس بارے میں پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گا۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران جب طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے تو اس دوران بعض علاقوں میں افغان فوجی دستوں کے ہتھیار ڈالنے اور کئی مقامات پر طالبان جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔ یہی نہیں بلکہ بعض علاقوں میں مقامی حکام نے یقینی شکست دیکھتے ہوئے اور خون خرابہ روکنے کے لیے افغان فوجی دستوں کو ہدایات دیں کہ طالبان سے نہ لڑا جائے۔ بعض اطلاعات کے مطابق مورال نہایت پست ہونے کی وجہ سے بھی کچھ افغان فوجی میدان چھوڑ گئے تاہم دوسری طرف افغان نیشنل آرمی کے کئی اہلکار پنجشیر میں طالبان کے خلاف اتحاد میں بھی شامل ہوئے اور لڑائی جاری رکھی جبکہ افغان فوج کے سپیشل سروسز گروپ نے بھی جنگ جاری رکھی۔ تاہم کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد اب افغان نیشنل آرمی اور ایئرفورس مکمل طور پر منتشر ہو چکی ہے جبکہ ان کے پاس موجود ساز و سامان طالبان کے قبضے میں ہے۔
طالبان کے قبضے سے قبل افغان فوج کی تعداد کے حوالے سے بھی کوئی حتمی ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ امریکی صدر نے جولائی میں اپنے ایک بیان میں افغان فوج کی تعداد تین لاکھ بتائی تھی تاہم دیگر حلقے یہ تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ کے درمیان بتاتے تھے۔ امریکہ نے افغانستان کی افواج کی تربیت کا اربوں ڈالر کا منصوبہ 2002 میں شروع کیا تھا۔ اس سے قبل طالبان کے دور حکومت میں 1997 میں طالبان نے اسلامک آرمی آف افغانستان کے نام سے فوج قائم کی تھی۔ اس سے قبل 1960 سے 1990 تک افغانستان کی مسلح افواج کی تربیت اور ان کے پاس موجود اسلحہ روس کی طرف سے تھا۔ سنہ 2002 میں امریکہ نے افغان آرمی جبکہ 2005 میں پولیس اور ایئرفورس کی تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ تاہم امریکی ادارے سپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ریکنسٹرکشن کی ایک رپورٹ کے مطابق خود امریکہ نے افغان فوج کی جنگی تیاری سے متعلق درست اندازے نہیں لگائے اور نہ ہی اس سے متعلق کوئی مؤثر اور طویل المدتی طریقہ کار موجود تھا۔ امریکہ نے افغان افواج کی تربیت اور انفراسٹرکچر پر براہ راست 88 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی ہے۔
ابتدائی طور پر افغان فورسز کی تربیت کا انتظام امریکہ کا عسکری تعاون کا دفتر سنبھالے ہوئے تھا، تاہم بعد میں دیگر امریکی ادارے جن میں پرائیویٹ کنٹریکٹرز بھی شامل تھے، اس تربیتی پروگرام کا حصہ بنے۔ 2006 میں کمبائنڈ سکیورٹی ٹرانزیشن کمانڈ افغانستان قائم کی گئی اور آخر میں یہی ذمہ داری ریزولوٹ سپورٹ مشن یعنی آر ایس ایف کو سونپی گئی۔ اس کے علاوہ افغانستان کی بری اور فضائی افواج کے افسران اور جوانوں کی ایک بڑی تعداد انڈیا کی مختلف اکیڈمیز میں بھی زیرتربیت رہی ہے۔
رواں برس اگست میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا اور طالبان کی جانب سے ملک میں جاری پیش قدمی کے دوران افغان افواج منتشر ہو گئیں۔ فوج میں بڑے پیمانے پر کرپشن، فوجی دستوں کے لیے سازوسامان اور سہولیات کا فقدان، تنخواہوں کا نہ ملنا، اور بڑی تعداد میں گھوسٹ سولجرز جیسی خبریں افغان فورسز سے منسوب رہی ہیں۔ افغان آرمی کی تربیت کی تجویز بارے سابق سیکریٹری دفاع آصف یاسین کہتے ہیں کہ فی الحال پاکستان کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔ طالبان بہت زیادہ مشوروں سے اب تنگ ہوتے نظر آتے ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ خاموش رہیں، صورتحال کا جائزہ لیں اور افغانستان کو اس درخواست کے ساتھ آنے دیں کہ وہ اپنی فوج کی ہم سے تربیت کرانا چاہتے ہیں۔ ہم تیار رہیں، ہمارے پاس قابلیت بھی ہے اور صلاحیت بھی۔ ہمارے پاس تجربہ اور انفراسٹرکچر بھی موجود ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تب کیا جائے جب بین الاقوامی دنیا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائے۔
