شوکت ترین کو سینیٹر بنوانے کے لیے پلان بی پر غور شروع

وزیر خزانہ شوکت ترین کو اسحاق ڈار کی سیٹ خالی کروا کر اس پر سینٹر منتخب کروانے میں بظاہر ناکامی کے بعد وفاقی حکومت نے انہیں خیبرپختونخوا سے سینیٹر بنوانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ اسحاق ڈار کو نااہل کروانے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس متعارف کروایا تھا جس کے تحت رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے والا شخص اگر ایک مخصوص عرصے تک اپنے عہدے کا حلف نہ لے تو وہ نااہل قرار پائے گا۔ تاہم اب یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں اسحاق ڈار کو بطور سینٹر حلف لینے سے روک دیا تھا لہذا حکومت کی جانب سے لایا گیا یہ آرڈیننس رائیگاں جاتا نظر آتا ہے اور شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کا حکومتی منصوبہ لٹک گیا ہے۔
دوسری جانب شوکت ترین کے لیے وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ہے چونکہ اگر وہ 6 اکتوبر تک سینیٹر منتخب نہیں ہوتے تو وفاقی وزیر کے عہدے پر نہیں رہ پائیں گے۔ شوکت ترین کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وزیر خزانہ کی وزیر اعظم عمران خان سے تازہ ملاقات میں انہیں ایک بار پھر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ انہیں جلد سینیٹر بنوا دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اب پلان ‘بی’ کے تحت ترین کو خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی نشست خالی کروا کر وہاں سے سینیتر منتخب کروانے کو کوشش کی جائے گی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا سے نشست خالی کرنے والے سینیٹر سے کوئی سیاسی ایڈجسٹمنٹ کر کے اسکے نقصان کی تلافی کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت، شوکت ترین کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ شوکت ترین خود حکومت میں اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی دور کر چکے ہیں اور متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وزیر اعظم نے انہیں سینیٹر بنانے کا وعدہ کیا ہے اور اسے پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے، جن کی آئینی مدت 15 اکتوبر کو پوری ہو رہی ہے، اپنے قلمدان سے متعلق غیر یقینی کو بھی مسترد کرتے ہوئے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ‘میں کہیں نہیں جارہا، مجھے وزیر اعظم پر اعتماد ہیں جنہوں نے مجھے سینیٹر بنانے کا وعدہ کیا ہے’۔ یاد رہے کہ حکومت نے یکم ستمبر کو الیکشنز (تیسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کا نفاذ کرکے منتخب اراکین کو 60 روز کے اندر بطور قانون ساز حلف اٹھانے کا پابند بنایا تھا۔ اس ترمیم کے تحت اراکین کو آرڈیننس کے نفاذ کے 40 روز کے اندر حلف اٹھانا ہوگا۔ تاہم یہ نسخہ سپریم کورٹ کے ایک پرانے حکم نامے کی وجہ سے کارگر ثابت نہیں ہو سکا اور اسحاق ڈار ابھی تک نااہل نہیں ہو پائے۔
دوسری جانب شوکت ترین کے لیے وزیر خزانہ کے طور پر برقرار رہنے کے لیے اگلے تین ہفتوں میں سینیٹر بننا لازمی ہے ورنہ وزیر اعظم عمران خان کو انکی تنزلی کر کے انہیں وزیر کے بجائے مشیر خزانہ لگانا ہو گا۔ آئین کے مطابق کابینہ کے کسی بھی وزیر کا منتخب ہونا ضروری ہے۔ کسی بھی غیر منتخب وزیر کو لگائے جانے کے بعد چھ ماہ کے اندر اس کا منتخب ہونا لازمی ہے۔ لیکن
اگر ایسا نہ ہو پایا تو انہیں بھی عبدالحفیظ شیخ کی طرح وزارت خزانہ سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں گے۔
