کیا کابل پر طالبان کے قبضے کا فتح مکہ سے موازنہ بنتا ہے؟

افغان طالبان نے 21 جولائی سے 15 اگست کے درمیان جس برق رفتاری سے تقریباً پورے افغانستان پر قبضہ کیا اس نے پوری دنیا کو ورطہِ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ جہاں بیشتر ممالک کے لوگ افغانستان میں تبدیل ہوتی صورتحال کے تناظر میں وہاں کے شہریوں کی سلامتی اور حقوق کے لیے پریشان ہیں وہیں کئی اسلامی ممالک کے ناعاقبت اندیش عوام بشمول پاکستانیوں کے لیے کابل پر طالبان کے قبضے نے فتحِ مکہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں اور وہ افغانستان میں دوبارہ ایک اسلامی حکومت کے قیام کے خواب دیکھنے لگے ہیں جس نے اپنے پچھلے دور حکومت میں بربریت اور جبر کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔
ماضی کے پلے بوائے اور آجکے روحانی،وزیرِ اعظم عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے پر اپنا پہلا ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغانستان میں لوگون نے امریکی غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔‘ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےعمران خان نے کہا کہ ’اصلی غلامی سے زیادہ بری ذہنی غلامی ہے جس کی زنجیریں توڑنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان میں لوگوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘غلام ذہن کبھی بڑے کام نہیں کر سکتا۔‘ تاہم ملک کے لبرل حلقوں میں عمران خان کا یہ بیان تنقید کی زد میں ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ وہ انتہا پسند طالبان اور ان کی فرسودہ سوچ کے حامی ہیں۔
سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو پاکستان کے بیشتر حلقوں میں کابل پر طالبان کے قبضے پر جشن کا سماں ہے جس میں کئی حکومتی عہدیداروں سے لے کر مذہبی شخصیات اور دفاعی تجزیہ کار پیش پیش ہیں اور کئی افراد تو اشرف غنی حکومت کے خاتمے کو انڈیا کی شکست سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔ پاکستان کی بڑی مذہبی شخصیات، مولانا تقی عثمانی سے لے کر سراج الحق تک تقریباً سبھی کی جانب سے طالبان کو ’سپرپاور کے خلاف تاریخی فتح‘ پر مبارکبادوں کا سلسلہ کل سے جاری ہے۔
جمعیت علمائے کے صدر مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو تہنیتی پیغام بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’جمعیت نے روز اول سے امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان پر حملے کو جارحیت اور تجاوز قرار دیا تھا اور طالبان کی طرف سے مزاحمت کو جائز دفاع قرار دیا تھا۔ الحمد للہ بیش بہا مخلصانہ قربانیوں کے بعداللہ تعالی کی مدد اور تائید سے طالبان مجاہدین نے اپنے وطن افغانستان کو عالمی قوتوں اور ان کے گماشتوں سے آزاد کر دیا ہے۔‘
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے بھی طالبان کو سپرپاور کے خلاف تاریخی فتح پر 22 کروڑ پاکستانیوں کی طرف سے مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’افغانستان میں ایک مثالی اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو اس کے اثرات، خوشبو اور کرنیں ہر طرف پھیل جائیں گی۔‘
دوسری جانب پاکستان کے کئی حکومتی عہدیدار، صحافی اور دفاعی تجزیہ کار کابل پر قبضے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے انڈیا کی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر ماحولیات زرتاج گل وزیر نے ٹویٹ کیا کہ انڈیا کو ان کے یومِ آزادی پر صحیح تحفہ مل گیا۔۔۔ آج انڈیا کی دہشت گردی کی حمایتی حکومت کو آنسو بہاتے اور دکھ سے دن منانا چاہیے کیونکہ جس کابل حکومت کو استعمال کرتے ہوئے وہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کرتا تھا، آج اس کا خاتمہ ہو گیا۔بعد میں سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کے بعد انھیں یہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔ اسی طرح صحافی کامران خان نے لکھا کہ ’عالمی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب، 20 سال پہلے امریکی افواج نے طالبان سے جو افغانستان چھینا تھا آج وہی مغربی فوجیں انھی طالبان کو افغانستان لوٹا رہی ہیں، اربوں ڈالر سے تعمیر کردہ انفراسٹحکچر، اربوں ڈالر کا امریکی اسلحہ گولہ بارود بھی طالبان کے ہاتھ آ گیا، اعر انڈیا بھی اربوں ڈالر ڈوبا بیٹھا۔‘ دوسری جانب کئی افراد کابل پر طالبان کے قبضے پر خوشیاں منانے والوں کو طالبان کا ماضی یاد کراتے یہ کہتے نظر آئے کہ اس کے نتائج سب سے پہلے پاکستان کو بھگتنا پڑیں گے۔
زارا رشید نے تبصرہ کیا کہ ’پاکستان خون آشام طالبان کی فتح کا جشن منا رہا ہے۔ ایک بار جب طالبان پاکستان پر قبضہ کرنے لگیں گے تو پاکستان کو اپنے جشن کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی کیونکہ بنیاد پرست اور انتہا پسند اسلامائزیشن کی کوئی انتہا نہیں، وہ اسے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلانا چاہتے ہیں اور پاکستان ان کا پہلا اور قریب ترین ہدف ہے۔
پاکستان میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سامنے آنے والے ردِعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے سیکیورٹی امور کے ماہر زاہد حسین نے اسے ایک ایسا ردِعمل قرار دیا جو بالکل بھی ’نپا تلا‘ نہیں ہے اور جس کے بڑے گھمبیر نتائج سامنے آئیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کیں ہیں، یہ پرو طالبان ردِعمل اس کے ثمرات کو ضائع کرنے والی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی جنگ ہی ایک خاص سخت گیر مذہبی نقطہ نظر کے خلاف تھی اور اگر آپ اسی طرح کے خیالات، نظریات کو دوبارہ سے ہوا دیں گے، اور افغانستان میں جو المیہ رونما ہو رہا ہے اس پر مبارکباد دیں گے تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستانی معاشرے پر نظر آئیں گے بلکہ سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان پوری دنیا کے ساتھ مل کر اپنی پوزیشن لے گا۔ لیکن جو ردِعمل سامنے آ رہا ہے، اس طرح کے تاثرات پاکستان کا منفی تاثر بناتے ہیں اور پاکستان کا آگے ہی دنیا میں جو منفی تاثر موجود ہے، اسے مزید مضبوط کریں گے۔اس
حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ساری صورتحال میں ’طالبان کے افغانستان پر قبضے کے اثرات، افغانستان میں رونما ہونے والے المیے اور وہاں پر کس قسم کا معاشرہ تشکیل پائے گا اس پر بات نہیں کی جا رہی۔ جب تک ہم پاکستانیوں کو جنگ زدہ ملک اور طالبان کی نئی قائم کردہ حکومت کے اندر پیش آنے والی تکالیف کا احساس نہ ہو، ریڈیکل آئیڈیلزم کے اندر جو بحث ہو رہی ہے اسے درست ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ افغان طالبان نے افغانستان کے شہروں پر قبضے کے بعد وہاں کی جیلوں میں قید تمام افراد کو رہا کر دیا ہے جن میں تحریکِ طالبان پاکستان کے بے شمار افراد بھی شامل ہیں۔ طالبان نے نہ صرف پاکستانی طالبان بلکہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والوں کو بھی بگرام سمیت ہر جیل سے رہا کر دیا ہے اور ’یہ صورتحال پاکستان کی سکیورٹی کے لیے بہت پیچیدہ ہو جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ اور طالبان کے معاہدے کے مطابق طالبان نے کہا تھا کہ وہ القاعدہ کو وہاں سے آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن اب آگے آنے والے دنوں میں یہ طالبان کا بھی امتحان ہو گا کہ وہ القاعدہ کے حوالے سے کیے گئے وعدے کی پاسداری کیسے کریں گے، مگر تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے تو ان کا ہمیشہ سے ہی نرم گوشہ رہا ہے اور دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ سکیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ جب اس طرح کے لوگ رہا ہو کر آئیں گے اور تحریکِ طالبان کے لوگ جو پہلے ہی پاکستان میں مداخلت کر رہے ہیں انھیں مزید تقویت ملے گی۔ ایسا ہونے سے پاکستان میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
