کیا کشمیر کے ٹھیکیدار کشمیر کا سودا کر چکے ہیں؟

مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کئے جانے کے 6 ماہ بعد اب پاکستان میں مسئلہ کشمیر ڈیپ فریزر میں لگا نظر آرہا ہے اور حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ دونوں ہی پاکستان کی شہہ رگ پر کھلے بھارتی وار کے باوجود مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
کپتان کی حکومت اور 72 سال تک "کشمیر بنے گا پاکستان” کا چورن بیچنے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بعد اب مہنگائی کے مارے عوام بھی مسئلہ کشمیر فراموش کرتے نظر آتے ہیں۔ ظاہرہے جب اپنے گھر میں جان کے لالے پڑے ہوں تو ہمسائے کے بارے میں کون سوچے گا لیکن بعض حلقوں کا خیال ہے کہ تحریک انصاف حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی سوٹ کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ دب جائے کیونکہ بھارت نے کشمیر پر تازہ قبضہ کسی انڈرسٹینڈنگ کے تحت ہی کیا ہے۔ لہذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلے 72سال سے کشمیر کا چورن بیچنے والے اب کشمیر کے بھارت کے قبضے میں جانے کے بعد عملی طور پر کچھ کرتے نظر نہیں آتے اور کمزور حافظہ رکھنے والی پاکستانی قوم بھی مسئلہ کشمیر کو اب تقریباً فراموش کرچکی ہے۔
یاد رہے کہ 19 اگست 2019 کو وزیراعظم عمران خان نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین برس کی توسیع کر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ مودی کے کشمیر کے حوالے سی کیے گئے فیصلے سے پیدا ہونے والے حالات ہیں۔ لہذا پاکستانی عوام کا یہ خیال تھا کہ کپتان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مل کر کشمیر کے حوالے سے کوئی بڑا فیصلہ کریں گے لیکن اب تو ہر طرف ٹھنڈ پروگرام دکھائی دیتا ہے۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 6 ماہ پورے ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کشمیریوں کے سفیر ہیں لیکن ان کی سفارتکاری کے نتیجے میں 6 ماہ گزرنے کے بعد بھی نہ تو کشمیر سے کرفیو کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی واضح پیش رفت نظر آئی۔ لگتا ہے کہ اندرونی مسائل میں گھری تحریک انصاف کی حکومت کشمیر کے معاملے میں بیک فٹ پر جا چکی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان گذشتہ 72 سال سے جاری اس تنازع میں اُس وقت شدت آئی جب پانچ اگست 2019 کو نئی دہلی کی مرکزی حکومت کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرکے علاقے کو دو وفاقی اکائیوں یعنی جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا گیا۔ جس کے بعد سے خطے میں کرفیو جیسی صورت حال ہے۔ اس متنازع ترین فیصلے کے بعد سے کنٹرول لائن کے آر پار بسنے والے کشمیریوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ اسے بھارتی حکومت کی جانب سے علاقے میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں۔ لوگوں کو روزمرہ کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے اور گلیوں محلوں میں ہونے والے مظاہروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے باعث حالات معمول پر نہیں آسکے۔
بھارتی حکومت کے اس فیصلے سے قبل ہزاروں اضافی بھارتی فوجیوں کو کشمیر میں تعینات کیا گیا تھا۔ یہ اُن سات لاکھ فوجیوں کے علاوہ ہیں جو عرصہ دراز سے کشمیر میں موجود ہیں۔ فوجیوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث کشمیر میں ذرائع آمدورفت تقریباً مفلوج ہو چکے ہیں۔ پابندیوں کے باعث سینکڑوں سکول اور کالجز تین ماہ سے زائد عرصے سے بند ہیں اور طلبہ اس لاک ڈاؤن کے بدترین متاثرین ثابت ہو رہے ہیں۔ دکانداروں نے بطور احتجاج اپنی دکانیں بند کر رکھی ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومت نے 5 اگست کے بھارتی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر کے حوالے سے انقلابی اقدامات اٹھانے کے دعوے کیے مگر اب تک نتائج صفر ہیں۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ سات عشروں سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اہلیان پاکستان کو جتنا گمراہ کرنا تھا کرلیا مگر نریندرمودی نے پانچ اگست کو مقبوضہ جموں کشمیر کو بھارتی یونین میں شامل کرکے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان غیر معمولی حالات میں تحریک انصاف کی حکومت کوئی بھی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے اور خود بھی شاید یہی چاہتی ہے کہ کشمیر کا معاملہ کسی طرح سے دبا رہے۔
دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث پاکستانی عوام کی توجہ بھی مسئلہ کشمیر کی بجائے دو وقت کی روٹی کمانے پر مرکوز ہے۔ ان حالات میں یوم کشمیر پر جتنا ہو سکتا تھا اتنا حکومت نے ضرور کیا ہے یعنی یوم کشمیر جیسے دنوں کو منانے کے لئے چند بے معنی تقاریر اور چند چھوٹے موٹے جلسے۔
