بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تیاریاں شروع

بھارتی حکومت نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کی تیاریاں شروع کردیں ہیں، اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی نگرانی کےلیے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ٹرسٹ تشکیل دینے کا اعلان کردیا۔
نریندر مودی نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ٹرسٹ کے قیام کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور کابینہ رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں ایک جامع پلان بناچکی ہے۔
بھارتی وزیراعظم نے لوک سبھا میں رام مندر کی تعمیر کی نگرانی کرنے والے ٹرسٹ کی تشکیل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ کو شری رام جنم بھومی تیرتھا کشیرتا کا نام دیا گیا ہے جو مندر کی تعمیر کے معاملے اور اس سے متعلقہ مسائل پر آزادانہ فیصلے کرےگا۔مودی کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی تشکیل کا فیصلہ سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کی روشنی میں لیا گیا ہے۔ مودی نے بتایا کہ اترپردیش کی حکومت سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سنی وقف بورڈ کو پانچ ایکڑ زمین فراہم کرنے پر رضا مند ہے۔
واضح رہے کہ1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا جب کہ اس دوران 2 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی کو اس سلسلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا تاہم بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو بابری مسجد کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی اور مرکزی حکومت ٹرسٹ قائم کرکے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا جب کہ عدالت نے مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button