کیا کپتان حکومت کے خاتمے کی بنیاد پڑ گئی ہے


پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی جانب سے ملک گیر احتجاجی تحریکوں کے اعلان کے بعد اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر انہیں عوام کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی بھی سپورٹ ملی اور 25 اکتوبر کو بلوچستان میں بھی تبدیلی آگئی تو اس کے نتیجے میں عمران خان اینڈ کمپنی کا اقتدار ختم ہوسکتا ہے.

اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے مہنگائی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے اعلان پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی حکمت عملی میں تبدیلی بلاوجہ نہیں ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ان جماعتوں کے رہنماؤں کو تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہو۔ اس کے علاوہ اگر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال 25 اکتوبر کو تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں فارغ ہوگئے تو اپوزیشن تحریک کے نتیجے میں کپتان حکومت کی بھی چھٹی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کو لے کرکے مسلسل تناؤ بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی طرف سے 24 گھنٹوں کے فرق سے بجلی اور پیٹرولیم کی مصنوعات کی قمیتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اوگرا کی طرف سے پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے سے زائد کا اضافہ تجویز کیا تھا لیکن حکومت نے اس میں دس روپے کا اضافہ کر دیا جس کی وجہ سے عوام میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ حکومت نے اوگرا کی طرف سے تجویز کردہ قیمتوں میں دگنا اضافہ کیا۔

صحافی اور تجزیہ نگار سلیم بخاری کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کے معاملے کو لے کر حکومت کا یہ بیانیہ کہ فوج اور حکومت دونوں ایک پیج ہیں، کا بھانڈا پھوٹ گیا جس نے حزب مخالف کی جماعتوں کو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا موقع فراہم کیا۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں جب حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ بظاہر ایک پیج پر نہیں ہیں اور اس کے علاوہ حکومت مختلف معاملات میں چاروں طرف سے گھری ہوئی ہے اور مہنگائی بھی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں تو حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف حزب مخالف نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے، اگر وہ کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر وفاقی حکومت کا جانا بھی ٹھہر جائے گا کیونکہ صوبے میں برسر اقتدار بلوچستان عوامی پارٹی کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ اس جماعت کو بنانے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے اور عوام میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، تو ایسے حالات میں اپوزیشن جماعتوں نے عوامی مسائل کو لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔

انھوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے فیصد عوام مہنگائی کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی کال پر سڑکوں پر نکلتی ہے۔ سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز اور جمعیت علمائے اسلام سمیت پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں ملک کی ابتر ہوتی ہوئی معاشی صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے جو احتجاج کا اعلان کیا ہے وہ ایک مقبول بیانیہ ہے اور یہ بیانیہ بکے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی حکومت تحریکوں کی وجہ سے نہیں گئی۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سے لانگ مارچ ہوئے دھرنے بھی ہوئے لیکن کوئی بھی حکومت لانگ مارچ اور دھرنوں کی وجہ سے گھر نہیں گئی۔انھوں نے کہا کہ حکومت جس طرح مختلف معاملات جس میں فوج کے ساتھ تعلقات میں مبینہ تناؤ اور عوام کو ریلیف دینے میں ناکامی جیسے مسائل میں گھری ہوئی ہے تو ایسے حالات میں حزب مخالف کی جماعتوں کے لیے احتجاجی تحریک چلانے کے لیے ماحول ساز گار ہیں۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ایسی تحریکوں سے حکومتیں کمزور تو ہوتی ہیں لیکن ختم نہیں ہوتیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومتیں گرانے کے لیے احتجاجی تحریکوں کی نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے پہل بلوچستان سے کی جاتی ہے۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک اسمبلی میں پیش کر دی گئی ہے اور اگر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی تو پھر شاید مرکز میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ جس طرح پیٹرولیم کی مصنوعات سمیت اشیائے خوردونوش کی قمیتوں میں اضافہ ہوا ہے اس سے عام آدمی کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بھی اگر اپوزیشن عوام کو درپیش مسائل کو اجاگر نہیں کرے گی تو پھر حکومت اور اپوزیشن میں کیا فرق رہ جائے گا۔انھوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ’اب تو پاکستان تحریک انصاف اور حکمراں اتحاد میں شامل ارکان پارلیمنٹ بھی مہنگائی کے خلاف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور انھوں نے وزیر اعظم کو واضح کیا ہے کہ وہ مہنگائی کی وجہ سے اپنے حلقے کے لوگوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت نے بھی مہنگائی کے معاملے پر حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر حزب مخالف کی تمام جماعتیں مل کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں تو یہ زیادہ موثر ہو گا۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ تھی لیکن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر اس اتحاد میں شامل دیگر دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز اور جمحعت علمائے اسلام کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی اس اتحاد سے الگ ہو گئی۔قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ملک کو جس طریقے سے چلایا جا رہا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عامر کیانی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کو عوام کی پریشانیوں کا ادراک ہے اور بہت جلد لوگوں کو اچھی خبر ملے گی۔انھوں نے کہا کہ جمہوری ملکوں میں تحریکیں چلتی رہتی ہیں اور حکومت ان تحریکوں سے جمہوری انداز میں ہی نمٹے گی۔انھوں نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں مہنگائی کی آڑ میں حکومت کے خلاف تحریک چلارہی ہیں وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گی کیونکہ پاکستانی عوام بخوبی جانتے ہیں ان جماعتوں کے قائدین عوامی مسائل کی اڑ میں اپنے ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔انھوں نے اس موقف کو دھرایا کہ پاکستان میں مہنگائی حکوت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی منڈی میں چیزوں کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہے جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی عوام بھی مہنگائی سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ حکومت ایک مخصوص طبقے کو ٹارگٹیڈ سبسڈی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ تحریکوں سے حکومتیں نہیں جاتیں اور ایسا ہوتا تو ان کی جماعت نے پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے کئی دن کا دھرنا دیا تھا لیکن اس سے بھی اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت گھر نہیں گئی تھی۔

Back to top button